نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل NDC اہم قدم

ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں ضروری ہے کہ افواج پاکستان بھی اپنا انپٹ حکو مت کو دے سکے کے۔ اگرچہ آرمی چیف اور دوسرے سروسز چیف نیشنل سیکورٹی کونسل کا حصہ ہیں مگر نیشنل سیکورٹی کونسل کا مینڈیٹ مختلف ہے۔

PM Imran establishes National Development Council ….Dawn

7abaf894f8045e5519f3dfe201cee694_xl

ملک کے اندرونی بیرونی اور معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اور انٹرنیشنل سیکوریٹی حالات، دہشت گردی، سی پیک جیسے اہم منصوبے اور ان کی مخالفت میں انڈیا اور امریکہ کا گٹھ جوڑ اس بات کا متقاضی ہے کہ قومی ترقی کے لیے تمام ادارے حکومت پاکستان کے ماتحت مل جل کر کام کریں۔

فوج ایک مستحکم اور اور مضبوط ادارہ ہے جو ہر وقت ملک کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہیں کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں افواج پاکستان سول حکومت کی مدد کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ آج کے دور میں خاص طور پر، بلکہ ہمیشہ سے ملک کے دفاع کے لئے لیے مضبوط معیشت بہت ضروری ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ایمپائرز خراب معاشی حالات میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔
پچھلی صدی میں میں ترکی خلافت عثمانیہ اور ابھی کچھ سال قبل سویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اب صرف روس رہ گیا ہے ۔روس کے پاس اس بہت بڑی افواج ،میزائل اور ایٹم بم موجود تھے جو سویت یونین کو ٹوٹ پھوٹ سے نہ بچا سکے۔

نیشنل ڈیویلپمنٹ کونسل کے قیام سے آرمی چیف کو ایک قانونی فورم مہیا ہوگا جہاں سے وہ وہ قومی ترقی کے لئے حکومت کو مشورہ دے سکتا ہے۔

ہر مشکل میں قوم افواج پاکستان کی طرف دیکھتی ہے اور توقع کرتی ہے کہ وہ ان کے مسائل کے حل میں مدد گار ہوں۔ اب یہ ممکن ہے کہ آرمی چیف وزیراعظم و حکومت کی ٹیم کو مناسب مشورے دے سکے۔ باہمی مشاورت جمہوریت اور اچھی حکمرانی کا بنیادی اصول ہے۔

یہ اقدام کسی صورت میں بھی سول حکومت کی برتری کو کو انڈرمائین نہیں کرتا کیونکہ وزیراعظم نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کل کے سربراہ ہیں اور اور آرمی چیف ایک ممبر ہر۔

ممبران کے مشوروں کو قبول کرنا یا رد کرنا وزیر اعظم کی صوابدید پر ہے اس سے سول اور مسلح افواج کے درمیان ان ہم آہنگی مزید بڑھے گی جو پاکستان میں جمہوریت اور معاشی استحکام و ترقی کے لیے بہت فائدہ مند ہوگی۔ انشاللہ

(آفتاب خان)


ملک اس وقت جس شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے وہ محتاجِ وضاحت نہیں۔ اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مہنگائی کا طوفان اور روپے کی بے قدری اسی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ڈالر158 روپے کی سطح کو چھو چکا ہے اور آئے دن اس سے متعلق پیدا ہونے والی افواہوں سے صورتحال مزید ابتر ہونے کا احتمال ہے۔ اقتصادی ماہرین اس صورتحال کو دیوالیہ پن قرار دے رہے ہیں جس سے شرپسند اور موقع پرست عناصر اپنے مذموم عزائم کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔ رشوت، بدعنوانی اور اقربا پروری معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے،رہی سہی کسر منی لانڈرنگ نے پوری کر دی ہے۔ ان حالات میں وفاقی حکومت نے حالات کو سنبھالا دینے اور قومی اداروں اور محکموں میں صحت مند رجحانات کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے نیشنل سیکورٹی کونسل کی طرح قومی اقتصادی سلامتی کونسل قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی شد ت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ متذکرہ کونسل ملک کو درپیش اقتصادی مسائل سے نمٹنے کا کام کرے گی جس میں سول و ملٹری قیادت شامل ہو گی اور اس کے سربراہ وزیراعظم عمران خان خود ہوں گے جبکہ تین اقتصادی ماہرین سمیت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سیکرٹری خزانہ ممبر ہوں گے۔ اگرچہ متذکرہ کونسل جیسے ادارے بہت سے ممالک میں کام کر رہے ہیں تا ہم سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ پاکستان کی ترجیحات میں رشوت، بدعنوانی، اقربا پروری کا خاتمہ، اسٹاک مارکیٹ، زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کا استحکام، درآمدات و برآمدات، ٹیکسوں کے اہداف اور وصولیاں، منی لانڈرنگ کے رجحانات کی مکمل بیخ کنی، غیر قانونی (متوازی) معیشت سے نجات، مہنگائی کے خلاف جنگ، غربت کا خاتمہ شامل ہیں۔ قومی اقتصادی سلامتی کونسل بجا طور پر معاشی پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کو مانیٹر کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گی۔ امیدِ واثق ہے کہ اس کا قیام عمل میں لانے میں بلا تاخیر پیش رفت ہو گی۔

https://jang.com.pk/news/650477-editorial-note-2-column-18-6-2019


National Development Council
اس حقیقت سے کون انکار سکتا ہے کہ فوج ایک ادارے کے طور پر ہمارے تمام قومی اداروں سے بہتر حالت میں ہے۔
1947ء کی فوج اور آج کی فوج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

وفاقی کابینہ میں بحث و تمحیص اور کور کمانڈر کانفرنس میں گفتگو کا موازنہ ممکن نہیں‘

وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے نام سے ایک نئے ادارے کی تشکیل اور اس میں آرمی چیف کی بطور رکن شمولیت موجودہ حکومت کی ترجیحات کا مظہر ہے

1998ء میں بجلی کے بحران اور چوری کی بلند سطح سے تنگ آ کر میاں نواز شریف نے واپڈا ایک فوجی جرنیل کے حوالے کیا۔

چند ماہ میں صورتحال کافی بہتر ہوئی اور میاں شہباز شریف نے معیاری سڑکیں بنانے کے لئے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی خدمات حاصل کیں‘

موجودہ حکومت معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے اور قومی ترقی و خوشحالی اس کے اہداف میں سرفہرست‘ اگر ترقی و خوشحالی اور معاشی استحکام کی منزل حاصل کرنے کے لئے عمران خان فوجی قیادت کو شریک مشورہ کرتے ہیں تو اس پر کسی کوکیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

فوجی قیادت اپنے تھنک ٹینک کی محنت اور Inputسے سیاسی قیادت کو آگاہ کر سکتی ہے اور اپنی تجربہ کار‘ جفا کش ‘ ایثار پیشہ افرادی قوت کو وقف کرنے پر تیار بھی۔ یہ اعتراض لغو ہے کہ قومی ترقیاتی کونسل کی تشکیل سے معاملات عملاً ٹیکنو کریٹس کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔

کیا دنیا بھر میں ٹیکنو کریٹس سربراہان حکومت کو مشورے نہیں دیتے اور اچھے حکمران ٹیکنو کریٹس سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے؟

یہ حکمرانوں کے خوشامدی‘ موقع پرست اور لالچی نورتنوں سے کہیں بہتر ہوتے اور ملک و قوم کا بھلا کرتے ہیں

جب قدرتی آفات اور دیگر حالات میں سول حکمران فوج کی مدد طلب کرتے ہیں تو موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے میں ان کی مشاورت و معاونت سے گریز کیوں؟

اس سوال کا جواب آج تک کوئی جمہوریت پسند نہیں دے سکا کہ فوجی آمریت کے دوران قومی معیشت کی حالت مستحکم کیوں رہی اور شرح نمو آٹھ فیصد تک کیسے برقرار رکھی گئی جبکہ نام نہاد جمہوریت پسند ان ادوار میں تحریکیں چلاتے اور عوام کو عدم تعاون پر اکساتے رہے۔ ایوب خان اورضیاء الحق کو تو اچھی اقتصادی و معاشی ٹیم اور سازگار حالات کا کریڈٹ جاتا ہے مگر پرویز مشرف دور میں صرف پاکستان نہیں پورا خطہ ہی عدم استحکام کا شکار تھا اور ٹیم بھی بس اندھوں میں کانا راجہ‘ معیشت اس کے باوجود سدھری اور سنبھلی۔ اقتصادی و معاشی استحکام میں دیگر عوامل کے علاوہ اہم ترین عنصر قومی اداروں میں ہم آہنگی اور باہمی اعتماد تھا جو بھٹو‘ نواز شریف‘ بے نظیر بھٹو اور زرداری دور میں عنقا رہا۔ سیاسی قیادت کو عسکری ادارے کی طرف سے جب بھی کوئی مشورہ ملا اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے اسے مقتدر حلقوں کی ڈکٹیشن اور مداخلت سے تعبیر کیا گیا۔

مجھے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ’’سوہنے منڈے‘‘ حفیظ پیرزادہ مرحوم کا انٹرویو یاد ہے۔ مطیع اللہ جان کو دیے گئے ٹی وی انٹرویو میں پیرزادہ صاحب نے اعتراف کیا کہ :

5جولائی1977ء سے ڈیڑھ دو ہفتے قبل جنرل ضیاء الحق نے قائد عوام سے بار بار درخواست کی کہ پورے ملک میں جاری مظاہروں اور سرکاری اداروں کے تشدد کی وجہ سے فوج میں بے چینی پائی جاتی ہے آپ براہ کرم قومی اتحاد سے سیاسی تصفیہ کریں ورنہ میرے لئے دبائو برداشت کرنا مشکل ہوجائے گا

بھٹو حکومت کے حق میں فوجی سربراہوں کا بیان بھی پی این اے کے مقابلے میں حکومت کی سودے بازی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے جاری ہوا مگر حفیظ پیرزادہ کے بقول:

بھٹو صاحب وقت ضائع کرتے رہے اور کسی سیاسی تصفیے کے امکان کو معدوم جان کر فوج مداخلت پر مجبور ہوئی

بعد میں جھوٹ کا طومار باندھا گیا کہ پی این اے اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے مگر ضیاء الحق نے مداخلت کر کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔

1998ء میں جمہوریت پسند آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے وزیر اعظم نواز شریف کو نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کا مشورہ دیا تو ٹھنڈے دل و دماغ سے تجویز پر غور کرنے کے بجائے چیف کو گھر بھیج دیا گیا‘

نئے اور پسندیدہ چیف جنرل پرویز مشرف نے جو گل کھلائے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
جنرل راحیل شریف جب تک آرمی چیف رہے میاں نواز شریف ان کی بلائیں لیتے نہیں تھکتے تھے۔ ایک بار غالباً کاکول میں وزیر اعظم نے راحیل شریف زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے مگر جونہی ریٹائر ہوئے ‘مخالفانہ پروپیگنڈہ مہم سے انہیں جمہوریت مخالف جرنیل ثابت کیا گیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دیا مگر مشورہ ان کا ایک نہ مانا۔
کم و بیش سارے ہی سیاسی حکمرانوں کے اردگرد پیدائشی خوشامدیوں ‘ موقع پرستوں اورعقل و خرد کے دشمنوں کا جمگھٹا رہا
منیر نیازی مرحوم نے شاید ہمارے حکمرانوں کے بارے میں کہا تھا ؎

کج اُنج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غماں دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی

(ارشاد عارف کے کالم سے ماخوز)
مزید ۔۔۔
HTTPS://Defenders.home.blog


Prime Minister Imran Khan has established a National Development Council (NDC), including Minister for Foreign Affairs and the Chief of Army Staff as members, it emerged on Tuesday.

According to a notification from the Cabinet Secretariat, the council, to be convened at the Prime Minister’s Office, shall comprise the following members:

  1. Prime Minister – Chairman
  2. Federal Minister for Foreign Affairs – Member
  3. Federal Minister for Finance/Advisor to the Prime Minister on Finance – Member
  4. Federal Minister for Planning, Development and Reform – Member
  5. Federal Minister for Commerce/Advisor to the Prime Minister on Commerce, Industries & Production and Investment – Member
  6. Chief of Army Staff – Member
  7. Provincial Chief Ministers, Prime Minister of AJ&K and Chief Minister of Gilgit-Baltistan (on invitation) – Members
  8. Any additional minister/head of strategic body (on invitation) – Members
  9. Secretary to the Prime Minister – Member
  10. Secretary, Foreign Affairs Division – Member
  11. Secretary, Finance Division – Member
  12. Secretary, Planning, Development & Reforms Division – Member
  13. Additional Secretary, Prime Minister’s Office – Secretary Council

The terms of reference of the NDC, outlined in the notification, state that the council shall set policies and strategies for development and “formulate and tailor policies to achieve accelerated economic growth”.

The council shall also be responsible for approving long-term planning in relation to national and regional connectivity.

https://Defenders.home.blog

Advertisements