نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کا ’ مدرسہ ڈسکورسز‘ Madrissa Discourses by Notre Dame Catholic University!

فکر کی دنیا میں جمود کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔اداروں کی تشکیل نو بھی ایک فطری عمل ہے اور ضرورت محسوس ہو تو اس کا انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔شعور ِ انسانی بھی مشترکہ انسانی ورثہ ہے اور علم کی دنیا میں کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے اشتراک کار بھی کوئی عیب کی بات نہیں۔ لیکن فقیہانِ عصر کے ’ مدرسہ ڈسسکورسز‘ کا معاملہ الگ ہے اور خاصا سنگین ہے۔ اس واردات سے محض اس لیے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مدارس کا معاملہ ہے اور ہم اہل مدرسہ نہیں۔سچ یہ ہے کہ یہ محض مدارس کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہماری تہذیبی روایت کا مسئلہ ہے۔تہذیبی روایت اور شناخت کے بارے میں حساسیت ایفکر کی دنیا میں جمود کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔اداروں کی تشکیل نو بھی ایک فطری عمل ہے اور ضرورت محسوس ہو تو اس کا انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔شعور ِ انسانی بھی مشترکہ انسانی ورثہ ہے اور علم کی دنیا میں کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے اشتراک کار بھی کوئی عیب کی بات نہیں۔ لیکن فقیہانِ عصر کے ’ مدرسہ ڈسسکورسز‘ کا معاملہ الگ ہے اور خاصا سنگین ہے۔ اس واردات سے محض اس لیے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مدارس کا معاملہ ہے اور ہم اہل مدرسہ نہیں۔سچ یہ ہے کہ یہ محض مدارس کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہماری تہذیبی روایت کا مسئلہ ہے۔تہذیبی روایت اور شناخت کے بارے میں حساسیت ایک فطری عمل ہے ۔ اس حساسیت کی نفی میں کسی کی یہ دلیل کافی نہیں کہ یہ ’’ ہمارا ‘‘ مسئلہ ہے اور ہمارے ’’ جملہ حقوق محفوظ‘‘ ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز (Madrassa Discourse) کے نام پر جاری فکری مشقِ ستم کا حاصل ایک بنیادی سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ:

ہمارے تہذیبی اداروں کی فکری تشکیل نو، کیا اب نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی سرپرستی میں ہو گی؟

وہ یونیورسٹی جس کا تعارف محض مسیحی یونیورسٹی ہونا نہیں بلکہ کیتھولک کی فرقہ وارانہ شناخت بھی جس کے ہمراہ ہے؟

[ کیا مدارس کی سند ، ڈگری پر اب نوٹر ڈیم  کیتھولک یونیورسٹی کا لوگو ، مسیحی کراسس ، صلیب ہو گا ؟]

The University of Notre Dame  (or simply Notre Dame , ND) is a private Catholic research university in Notre Dame, Indiana, outside the city of South Bend.

Since 2017 the Madrasa Discourses project has been at the forefront of efforts to equip Islamic religious leaders (ʿulamāʾ) with the tools necessary to confidently engage pluralism, modern science, technological advances, and new philosophies. Focused initially in India and Pakistan, home to over 300 million Muslims, the project has engaged over 100 young scholars, professors, and writers through deep interactive coursework and cross-cultural experiences. We believe that a conciliation of traditional Islamic thought with contemporary scientific and philosophical worldviews can result in orthodox affirmations of human dignity that are essential for peaceful coexistence.

PLANS

The ʿulamāʾ play a powerful role in determining where Muslim faith communities stand in the juncture between tradition and modernity, plural coexistence and alienation. Madrasa Discourses is committed to strengthening the knowledge base and methodological capabilities of the next generation of Muslim religious leaders so they may stand tall for human dignity. We plan to continue our programming in South Asia and expand our work to the rapidly growing Muslim communities of Sub-Saharan Africa. There, through a partnership with the University of Capetown, we will develop a tailored Master’s program for the long-term sustainability of a rigorous academic formation of scholars who will shape the next generation of Islamic Studies curricula in their home institutions.

Intensive training for select madrasa graduates across South Asia and Sub-Saharan Africa
High-level academic formation for advanced Islamic Studies scholars
We are looking for partners to help us reach more students with our curriculum. Interested in supporting this initiative or learning more? …..[ ….. ]

جس تہذیب میں ’ فری لنچ‘ کا کوئی تصور نہیں اس تہذیب کی ایک نمایاں کیتھولک مسیحی یونیورسٹی کی آخر ہمارے مدارس میں کیا دلچسپی ہے؟

مدارس کی فکر میں وہ کون سی اصلاح ہے جو حضرت مولانا سرفرازخان صفدر جیسے اکابرین کر سکے نہ مولانا زاہد الراشدی جیسے صاحب علم اوراب ایک کیتھولک مسیحی یونیورسٹی کو فکری تشکیل نو کا بھاری پتھر اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یہ ہمارے تہذیبی اداروں کی کیسی تشکیل نو ہے جس کا خیال ہمارے اکابرین کو تو نہ آیا مگر ایک کیتھولک مسیحی یونیورسٹی اس ’ نیک کام‘ کے لیے بے قرار ہو گئی؟

مولانا سرفراز خان صفدر کوئی معمولی شخصیت نہ تھے۔ خود مولانا زاہد الراشدی کی علمی و فکری وجاہت بھی مسلمہ ہے۔ان کی فکری مسند بھی موجود ہے اور میراث بھی۔ حلقہ اثر بھی معمولی نہیں اور الشریعہ کی شکل میں ایک معتبر جریدہ بھی موجود ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ فکر کی تشکیل نو کے لیے یہ شخصیات خود سامنے نہیں آئیں اور نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کو یہ کام کرنا پڑا۔

یہ کام اگر ضروری تھا تو ہمارے اپنے اکابرین نے کیوں نہیں کیا؟

ان کے پاس وسائل بھی تھے ، حلقہ اثر بھی تھا اور علمی وجاہت بھی۔کیا ہی اچھا ہوتا یہ کام ہمارے اکابرین خود کرتے۔ علم کی دنیا میں غیر ملکی جامعات سے اشتراک کار میں کوئی برائی نہیں۔لیکن مدارس کا معاملہ الگ ہے۔ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی اس معاملے میں دلچسپی سوالات پیدا کر رہی ہے کیونکہ مدرسہ مسلم تہذیب کا معاملہ ہے ۔مغرب اداروں کی سرپرستی میں اس قماش کے جتنے منصوبے بھی سامنے آئے ان کا بنیادی ہدف ’ ویسٹرنائزیشن آف مسلم سوسائٹیز ‘ [Westernization of Muslims societies] رہا۔

یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ اب کیا مدارس کی ’ ویسٹر نائزیشن‘ کا عمل شروع ہو چکا ہے؟

کیاایک نیا رجحان سامنے آ رہا ہے ؟مغرب نے مسلم سماج کی فکری سمت پر اثر انداز ہونے کے لیے این جی اوز پر بہت سرمایہ کاری کی لیکن یہ مطلوبہ نتائج مہیا نہ کر سکی۔ان کی حرکتوں سے ایک رد عمل پیدا ہوا۔ تو کیا اب براہ راست مذہبی طبقے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور کیا اب اسلامی این جی اوز متعارف کرائی جا رہی ہیں تا کہ براہ راست معاملہ کیا جائے؟ہم جیسے لوگ سوال اٹھائیں تو جواب آ ئے :

ہمارے مدرسہ ڈسکورسز پراہل مدرسہ کو تو کچھ تشویش نہیں ، آپ کو اتنی تکلیف کیوں ہے؟

اہلِ مذہب کے تضادات بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان کی حکومت کو تو یہ حق نہیں دیا جاتا وہ مدارس یا اس سے متصل نظام کے بارے میں کوئی مداخلت کرے لیکن ایک کیتھولک مسیحی ادارے کو یہ مکمل آزادی ہے کہ اس کے پاس اگر وسائل موجود ہیں تو ’ مدرسہ ڈسکورسز‘ پورے جذبہ مجتہدانہ کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

مذہبی حلقوں کی باہم محبت کا یہ عالم ہے کہ ہر مکتب فکر کا اپنا مدرسہ بورڈ ہے ، یہ مل کر ایک امتحان تک نہیں لے سکتے،لیکن دوسری طرف وارفتگی کا عالم یہ ہے کہ ایک کیتھولک مسیحی ادارے کے ڈسکورسز پر یہ جی جان سے فدا ہیں۔

ایک عام نوجوان کو دار الاسلام اور دارالحرب کی بحثوں میں الجھایا جاتا ہے، حکومت کا ہر اقدام مغربی سازش قرار دے کر رد کیا جاتا ہے ، ہر حکومت یہودو نصاری کی ایجنٹ قرار پاتی ہے ، غریبوں کے بچوں کو فاقے کے فضائل یاد کرائے جاتے ہیں لیکن اکابرین کو جب موقع ملتا ہے یہ مغرب اور اس کے اداروں کے ساتھ اشتراک عمل کر لیتے ہیں۔

اس تضاد کو کیا نام دیا جائے۔ اس میں کسی مکتب فکر کی کوئی تخصیص نہیں۔ مغرب کو جی بھر کر گالیاں دینے کے بعد جس جس مذہبی رہنما کو مغرب کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور طے کرنے کا موقع ملا اس نے کسی نہ کسی مغربی ادارے سے اشتراک کیا تا کہ پورے سکون کے ساتھ علم کی تشکیل نو فرمائی جا سکے۔

جس حکومت کو پاکستان میں طاغوت کہا جاتا رہا ان حکومتوں میں اہم اداروں کی سربراہی بھی لے لی جاتی ہے ۔مشرف کی حکومت بھلے سے مغرب کی آلہ کار ہو لیکن پرویز الہی اگر لاہور میں ایک ادارہ بنا دیتے ہیں تو جید علمائے کرام اس کی سربراہی قبول کرنے میں بد مزہ نہیں ہوتے۔حکومت کو اپنے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں دینا لیکن حکومتی منصب سے یوں ہم آغوش رہنا ہے

۔ ہم این جی اوز کو روتے تھے کہ کتنی این جی اوز ہیں ، کہاں کہاں سے فنڈ آ رہا ہے ، ایجنڈا کیا ہے ، فنڈ کہاں استعمال ہو رہا ہے اب مغرب نے مذہبی این جی اوز متعارف کروا دی ہیں۔اب کیتھولک مسیحی یونیورسٹی پاکستان کے مدارس کی فکری تشکیل نو فرمائے گی۔ ابن انشاء نے شاید درست ہی کہا تھا : ’’ معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی سب ایک سے ہیں ، یہ رانجھا بھی ، یہ انشاء بھی فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے سب مایا ہے ‘‘

آصف محمود ، ٩٢ نیوز

https://en.wikipedia.org/wiki/University_of_Notre_Dame

Madrasa Discourses

Scientific Literacy for Madrasa Graduates: A Project for Religious Renewal at the University of Notre Dame

Advertisements