پی ٹی ایم اور سیاسی حواری PTM and Political Facilitators

شمالی وزیرستان سمیت پورے پاکستان میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پختون قوم کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکایا جارہا ہے

۔ شمالی وزیرستان میں صرف ایک ماہ کے دوران پاک فوج کے 4 جوان شہید اور قریباً 28  زخمی ہوچکے ہیں۔ گذشتہ دنوں پھر شمالی وزیرستان کے علاقے ’بویہ‘ میں پاک فوج کی گشت پر مامور گاڑی پر بم حملہ کیا گیا، جس میں ایک فوجی اہلکار شہید ہوگیا۔

اس سے قبل 25مئی کو خار کمر چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم نے حملہ کیا تھا، جس میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جب کہ 5اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آوروں پر جوابی کارروائی میں 10افراد زخمی و تین افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا قیام نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد عمل میں آیا تھا۔ نقیب کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر اٹھنے والی تنظیم محسود تحفظ موومنٹ کے نام سے شہرت حاصل کرنے کی کوششیں کرچکی تھی، لیکن اسے ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔ عالمی ذرائع ابلاغ پی ٹی ایم اور ان کے حواریوں کو اہمیت نہیں دیتے تھے، لیکن جب سے پی ٹی ایم نے پاکستانی افواج کے خلاف دشنا م طرازی شروع کی تو عالمی میڈیا کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی ڈوریں آگئیں۔

نوجوانوں کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت و بغاوت کی چنگاری ڈالنے کا کام کارِ ثواب سمجھ کر کیا جانے لگا۔

پی ٹی ایم کو کبھی مقبولیت حاصل نہ ہوتی، اگر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور کارکنان ان کا ساتھ نہ دیتے

بدقسمتی سے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رہنمائوں نے پختون کارڈ کے تحت پی ٹی ایم کے عزائم کو سمجھنے میں کافی تاخیر کردی۔ پی ٹی ایم نے اے این پی کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔

عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی ریلی یا جلسے جلوس نہیں کیے۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کی سیاست بھی اپنے اکابرین کے نقش قدم پر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ امن کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کی
تاہم یہاں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی اور صوبائی عہدے داران اپنے  کارکنان اور رہنمائوں کو پی ٹی ایم کی سپورٹ کرنے سے روکنے میں مکمل ناکام ہوئے اور پی ٹی ایم نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا

پی ٹی ایم کے حواری جانتے تھے کہ اے این پی میں’’کچن کیبنٹ‘‘ کی وجہ سے ایک بڑا خلا پایا جاتا ہے، اس کے کارکنان اپنے رہنمائوں کے رویوں سے دل برداشتہ ہیں، پارٹی انتخابات میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتا ہے جس سے کارکنان میں شدید بددلی پائی جاتی تھی، نیز اے این پی کی سندھ قیادت اور خیبر پختونخوا کی قیادت کارکنان کی توقعات پر پورا نہ اترسکی۔

اے این پی کے خاندانی اختلافات نے بھی پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ گو ولی گروپ نے اسفندیار گروپ سے راضی نامہ کرلیا لیکن اے این پی ولی گروپ کے عہدے داران اور بیگم نسیم ولی کے ہمراہ کارکنان اسفندیار ولی کی اے این پی میں ضم نہیں ہوئے۔

پی ٹی ایم نے ان اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اے این پی کے معروف رہنمائوں نے کھل کر ریاست مخالف بیانات دینے شروع کردیے۔ ریلی، دھرنے اور جلسے جلوسوں میں پی ٹی ایم نے مقبولیت حاصل کرلی اور اُسی طرح ابھر کر سامنے آئی جس طرح کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزشن کے بعد مہاجر قومی موومنٹ نے سندھ کی شہری سیاست کو پلٹ دیا تھا
پی ٹی ایم کی موجودہ سیاست سے اے این پی کے زیادہ تر کارکنان نے کنارہ کشی اختیار کی کیونکہ قوم پرست جماعت کا ایجنڈا، پنجاب کے خلاف ضرور تھا لیکن پاکستان کے خلاف کبھی نہیں رہا اے این پی کے کارکنان نے خاموشی سے واپسی کی راہ اختیار کی لیکن پی ٹی ایم اب ایک خطرناک اژدھا بن چکی تھی، اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے صرف چند سو افراد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ عالمی ذرائع ابلاغ اور ملک دشمن عناصر پی ٹی ایم کو مکمل سپورٹ کررہے ہیں۔ سیاسی مقاصد کے عزائم نہ رکھنے کے جھوٹے دعوے داروں نے

موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی ایم کے ٹکٹ پر دو ملکی غدار اُس قومی اسمبلی کے اراکین بنادیے گئے جس کے خلاف وہ جلسوں میں تقاریر کیا کرتے تھے
*
پی ٹی ایم نے اے این پی سے فائدہ اٹھایا تو دوسری جانب بلوچستان میں نام نہاد قوم پرستوں نے بھی پی ٹی ایم کے مذموم مقاصد کے ساتھ الحاق کرلیا اور افغانستان کے بدنام زمانہ ہلاک ہونے والے کمانڈر عبدالرزاق اچکزئی کے رشتے داروں نے بھی قوم پرستی کی آڑ میں پی ٹی ایم کو آشیرواد دینا شروع کردیا

جب چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے حواریوں نے حملہ کیا تو افغانستان سے بے بنیاد پروپیگنڈا  پاکستانی افواج کے خلاف شروع ہوگیا۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو لاڑکانہ میں پریس کانفرنس کے دوران  اطلاع دی گئی، جس پر انہوں نے بھی حقائق کو جانے بغیر جذباتی ہوکر پی ٹی ایم کے حق میں بیان دے دیا۔ واضح رہے کہ پی پی پی میں بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کے وقت پاکستان مخالف نعرے پاکستان نہ کھپے کی صورت لگائے جاچکے تھے۔

اب صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ پہلے پی ٹی ایم سیاسی جماعتوں کے کندھے استعمال کرتی تھی، اب ان جماعتوں نے پی ٹی ایم کے کندھے استعمال کرتے ہوئے ریاست کو دبائو میں لانے کی اسٹرٹیجی بنائی ہوئی ہے
ایسے میں بعض عناصر پی ٹی ایم کے پاکستان مخالف بیانات و تقاریر اور اشتعال انگیزیو ں پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے حکومت مخالف تحریک میں اپنا حصہ ڈال کر ملک کی سالمیت کو خطرات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ رمضان کے بعد آل پارٹی کانفرنس اور حکومت مخالف تحریک کا کیا بنے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن جس طرح بعض اپوزیشن جماعتیں کھل کر پی ٹی ایم کے اراکین قومی اسمبلی پر اپنی سیاست کو چمکا رہے ہیں، اس کو مثبت سیاست نہیں کہا جاسکتا۔

حکومت کے خلاف مہنگائی، معیشت، بے روزگاری سمیت کسی بھی مفاد عامہ کے لیے احتجاج تمام اپوزیشن جماعتوںکا حق ہے، لیکن وطن کی سالمیت کے خلاف سرگرم عناصر کے کندھے کو استعمال کرنے سے ملکی وحدت مزید پارہ پارہ ہوسکتی ہے۔ اے این پی اور دیگر قوم پرست جماعتوں کے نوجوان جذبات کی رو میں بہہ کر پی ٹی ایم کو تقویت پہنچاچکے، لیکن پی پی پی سمیت ایسی جماعتیں جو سابق فاٹا کے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں خود کو قبائلیوں کا ہمدرد ثابت کرنے کی خاطر اپنی حد سے متجاوز ہورہی ہیں انہیں تحمل، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔قادر خان یوسف زئی ، جہاں پاکستان
http://jehanpakistan.pk/column-blog-detail/-437


ملک دشمنی یا سیاست ؟

عدلیہ بھی بطور ادارہ اپنی صفوں میں چھپی کالی بھیڑوں کو بچانے کے حق میں نہیں‘ البتہ قانون اور انصاف کی گاڑی کا اہم پہیہ یعنی بار اسے عدلیہ کی آزادی‘ خود مختاری اور عزت و وقار کا معاملہ قرار دے کر برہم اور 2007ء کا جیسی عدلیہ تحریک چلانے کے درپے ہے۔

بلاول بھٹو نے ریاست کو چیلنج کرنے‘ عوام کو بغاوت پر اکسانے والے محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر پر اصرار کر کے اپوزیشن کی کشتی میں بھاری پتھر ڈال دیے ہیں۔ اپنے والد گرامی اور پھوپی جان کو جعلی اکائونٹس کیس میں احتساب سے بچانے کے لئے وہ اس حد تک جائیں گے؟

کسی کو توقع نہ تھی‘ اس پر مستزاد ریاست کا یہ بیانیہ کہ کوئی احتساب سے بالاتر نہیں۔

مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا کوئی چھوٹا بڑا ہو ‘ جج ‘جرنیل یا جرنلسٹ۔ فوج نے تو اس بیانیے کو قبول کرتے ہوئے اپنی نیک نیتی اور اخلاص کا ثبوت دے دیا۔

بار کی قابل احترام قیادت کو یاد نہیں کہ جب جنرل پرویز مشرف نے سعید الزماں صدیقی اور دیگر ججوں کو فارغ کیا تھا تو کوئی سڑکوں پر نکلا نہ تحریک چلی‘ جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں وکلاء کی تحریک کو سیاسی جماعتیں سپورٹ نہ کرتیں اور ساڑھے سال سات بعد جنرل پرویز مشرف صرف عوام ہی نہیں فوج کی نظروں سے گر نہ چکے ہوتے‘ آئی ایس آئی چیف اور پرویز مشرف کے فوجی جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی کی خاموش تائید و حمایت عدلیہ بحالی تحریک کو حاصل نہ ہوتی تو اس کا حشر بھی میاں نواز شریف کی تحریک نجات اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی تحریک خزاں سے مختلف نہ ہوتا‘ آغاز بھی رسوائی‘ انجام بھی رسوائی۔

اس وقت بلا امتیاز و بلا تفریق احتساب عوامی نعرہ ہے‘ ملک میں کوئی فوجی آمر نہیں ایک مقبول و منتخب سیاسی لیڈر کی حکمرانی ہے‘ اپوزیشن اخلاقی ساکھ سے محروم اور ریاست کے دفاع و سلامتی میں تن ‘ من دھن کی بازی لگانے والے ادارے امن و استحکام کے متمنی‘ کوئی بھی احتجاجی تحریک موجودہ بُری بھلی جمہوریت کا بوریا بستر ضرورلپیٹ سکتی ہے‘ میاں نواز شریف آصف علی زرداری میاں شہباز شریف مولانا فضل الرحمن کو اقتدار میں نہیں لا سکتی۔ مریم نواز شریف‘ بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز کو عوام کی آنکھ کا تارہ بنانے کے قابل ہرگز نہیں۔ ننگی مداخلت کا امکان ہے نہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات اس کی اجازت دیتے ہیں اور نہ دفاع وطن کے مقدس فریضے میں مشغول کسی افسر و اہلکار کو سوچنے کی فرصت۔ لیکن اگر احتساب کے موجودہ عمل کو ڈی ریل کرنے اور مافیاز کی حکمرانی کے سابقہ دور کو واپس لانے کی احمقانہ کوششیں ہوئیں تو پھر حالات جو رخ اختیار کر سکتے ہیں ان پر عمران خان کا کنٹرول ہو گا نہ نتیجہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے لئے‘ خوشگوار ۔ یہ قوم 1990ء ‘1980ء کی دہائی سے ملک میں ایک ایسے مسیحا کا انتظار کر رہی ہے جو عشروں سے عوام کو یرغمال بنا کر قومی وسائل‘ اقتدار و اختیار اور مراعات سے داد عیش دینے والے دوچار ہزار چوروں اور سینہ زورں کا صفایا کرے اور کسی عوام دوست نظام کی بنیاد رکھے‘ پاکستان میں انقلاب کا نعرہ ہمیشہ بلند ہوا مگر کسی نے انقلاب برپا ہوتے دیکھا نہیں ‘دل پشوری کرنے کے لئے کبھی ایوب خان کے مارشل لاء پر انقلاب کا لیبل لگا دیا‘ کبھی بھٹو کی عوامی آمریت کو عوامی انقلاب کا جامہ پہنا دیا۔ فرانس‘ ایران اور چین میں انقلاب نے اشرافیہ کو کس طرح سڑکوں ‘چوراہوں پر گھسیٹا اور کردہ ‘ ناکردہ جرائم کی سزا دی ہم نے سنا ہے‘ دیکھا نہیں‘ مارشل لاء بھی ہمارے ہاں خاصے شریفانہ اور ہومیو پیتھک قسم کے لگے۔ مصر میں عبدالفتاح السیسی کا مارشل لاء چند برس پہلے کا قصہ ہے اور خاصہ تلخ و ترش واقعہ‘ امریکہ سمیت کسی جمہوریت پسند ملک نے مذمت نہیں کی‘ الٹا گلے لگایا۔ فوجی افسروں کے خلاف کارروائی میں احتساب مخالف خواتین و حضرات اور محسن داوڑ و علی وزیر کی محبت میں گرفتار بلاولوں‘ فرحت اللہ بابروں کے لئے سبق ہے کہ کوئی احتساب سے بالاتر ہے نہ مقدس گائے‘ سیاست دان ‘ جج جرنیل اورجرنلسٹ۔ مجھے گزشتہ سال مارچ کی ایک بریفنگ یاد آتی ہے‘ کہا گیا’’جس نے غلط کام کیا ہے اس کا احتساب ہو گا خواہ اس کا تعلق فوج سے ہے‘ پی ٹی آئی‘ مسلم لیگ اور پی پی سے یا کسی دیگر ادارے سے‘ اپنے ملک سے گند صاف کرنا ہے‘ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں‘‘ تازہ فیصلے کا پیغام بھی یہی ہے۔ قوم کے لئے قربانی دینے کا وقت ہے اشرافیہ فیصلہ کر لے کہ مال بچائے یا کھال۔
ارشاد عارف ، 92 نیوز

Advertisements