آج کی جنگیں اورمورچے

ہمارے دشمنوں نے جان لیا کہ دُگنی عسکری برتری کی بنیاد پر وہ پاکستان کو زیر نہیں کر سکتا‘جس کا منظر 27 فروری کو لائن آف کنٹرول کی فضائوں میں دنیا بھر نے اپنی آنکھوں سے بھارت کے دو مگ طیاروں کوپاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں زمین بوس ہوتے ہوئے دیکھ لیا اور دشمن کے زیر قبضہ کشمیر کے چھ مقامات جو ‘ان کی سکیورٹی کے سخت ترین حصار میں تھے‘ جس طرح ہمارے شاہینوں نے ان کے دروازوں کو دھڑا دھڑ پیٹ کر انہیں دبکنے پر مجبور کیا‘ وہ بھی اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ ہاں! یہ علیحدہ بات ہے کہ ہماری جگہ‘ اگرہمارا دشمن ہوتا ‘تو اس نے اپنی زد میں آئے ہوئے ہائی پروفائل ٹارگٹس کو واررنگ دینے پراکتفا کرنے کی بجائے بے دردی اور سفاکیت سے ہماری ایمبولینسز تک کو بھی معاف نہیں کرنا تھا۔دشمن یہ بھی جان چکا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر سے اپنے مطلب اور ڈھب کے ایک نہیں ‘کئی طرح کے بے شمار غدار خرید سکتا ہے‘ لیکن اسے ہر بار اس لئے نا کامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کے مقابل محب وطن پاکستانی ہوتے ہیں۔
دشمن کی ایک نہیں؛ متعدد ایجنسیاں ‘ادارے اور تھنک ٹینک‘ ہماری حب الوطنی کو ختم کرنے اور قوم کے اتحاد کو توڑنے کی اب تک نہ جانے کتنی نا کام کوششیں کر چکا‘ لیکن ابھی تک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں اسے معمولی سی کامیابی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہو سکااوراب تویہ بھی کوئی راز نہیں رہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دشمن نے پنجاب میں زبر دست نقب لگاتے ہوئے پنجاب کے ایک سیا سی گروہ اور اس کے لاکھوں کی تعداد میں پیروکاروں کو سکیورٹی فورسز کے مخالف کھڑا کرنے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے جلسوں‘ جلوسوں اور ریلیوں میں بھارت کی دشمنوں کے خلاف نعروںاور گالیوں کا طوفان بھی اٹھا ئے رکھا‘ لیکن جلد ہی پاکستان کے محب وطن اور سر فروشوں کی بہت بڑی اکثریت دشمن کے خریدے گئے ‘ان غدارِ وطن پر غالب آ گئی؛ حالانکہ گائے کے نا م سے اپنی بھائیوں کی کھال کھنچتی دیکھنے کے با وجود یہ اقلیت سجن جندال کے کاروباری شریک لیڈران کے بیانات کے فریب میں آ گئی تھی کہ ” ہمارا اور ان کا رب ایک ہی ہے‘ ادھر وہ آلو گوشت کھاتے ہیں‘ توادھر ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں‘‘۔
پاکستان کے ایک نہیں‘ کئی دشمنوں کا مشترکہ محاذ ‘ہماری فوج کے مقابلے میں جب شکست پہ شکست کھاتا گیا ‘تو اس نے سوشل میڈیا کی دیمک کے ذریعے اپنے مقابل مضبوط دیوار کو چاٹنا شروع کر دیااور آج سوشل میڈیا پر ان کی تیارکی گئی تصویریں‘ کارٹون اور تحریریں ‘چوہوں کی طرح اس مضبوط رسے کو کترنے میںدن رات ایک کئے ہوئے ہیں اوریہ چوہے مختلف جگہوں پر اپنے ہی ملک کی فوج کے خلاف نت نئی کہانیاں گھڑتے ہوئے کہیں اپنی باریک سی آوازوں میں للکارے مارتے ہیں‘ تو کبھی ادھر ادھر بھاگتے ہوئے‘آپ کو پتھر مارتے ہوئے دکھائی دے رہے ہوں گے۔ان کا نشانہ صرف اور صرف پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہیں‘ جس کا انہیں اندازہ ہو چکا کہ میدان ِ ِحرب میں ان سے جیتنا ناممکن ہو چکا ہے۔
ایک دو تحریریں اور چند تصویریں‘ جنہوں نے مجھے یہ کالم لکھنے کیلئے تحریک دی‘ ان کو دیکھتے ہوئے دل اور ذہن سے پکے پاکستانی کیلئے چونک جانا قدرتی امر تھا ۔ان میں سے ایک کارٹون کی صورت میں سامنے ہے ‘جس میں سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس دو دیو ہیکل ہاتھوں میں وزیر اعظم کو آگے کی جانب دھکیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے‘ جس کا مقصد دیکھنے والوں کے ذہنوں میں اس خیال کو نقش کرنا ہے کہ موجودہ حکمران کوئی منتخب عوامی نمائندے نہیں‘ بلکہ ان کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھوں والے ہیں اور یہ جو بار بار بلاول بھٹو زرداری کے بعد نون لیگ اور مولانا فضل الرحمن سمیت ولی خان ٹولہ وزیر اعظم عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کہہ کر پکارتا ہے‘ تو ان بے چاروں کو کیا پتا کہ یہ تو اس سفید مونچھوں والے کی تحریر ہے‘ جو ہر وقت بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے اوریہ تو اب کوئی راز نہیں رہا کہ یہ سب تحریریں اور تقریریں واشنگٹن میں بھارتی قیادت کا نمائندہ حسین حقانی بھیج رہا ہے۔

وہی حسین حقانی‘ جس نے نواز شریف کو بلاول کی والدہ محترمہ اور قابل احترام نانی کی جعلی قابل ِ اعتراض تصویریں مہیا کرتے ہوئے عام انتخابات کے دوران پنجاب کے ہر گھر میں جہازوں کے ذریعے پھینکوائی تھیں۔اب حسین حقانی کے بارے میں تو بتانے کی کسی کو ضرورت نہیں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ ہر ماہ نئی دہلی کے کتنے چکر لگاتے ہیں اور ان کی وہاں کن سے طویل ملاقاتیں رہتی ہیں۔ براہمداغ بگٹی اور مریوں سے ان کی لندن اور بلجیئم میں کس قدر راز و نیاز ہوتی ہے۔ حسین حقانی اور اس کا آقا امریکہ ا ور بھارت اچھی طرح جان چکے کہ تب تک وہ پاکستان اور اس کی فوج پر حاوی نہیں ہو سکتے‘ جب تک اس کی فوج اپنی پوری مضبوطی اور مورال کے ساتھ موجود ہے اور ان کو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہو چکا کہ پاکستان کی اس فوج کو وہ اکیلئے شکست نہیں دے سکتے۔(اس کیلئے ان کے سامنے 1971 ء میں بنگلہ دیش کی مثال موجود ہے کہ پاکستانی فوج کو مشرقی پاکستان میں اپنی دس گنا زیا دہ طاقت سے نہیں‘ بلکہ بنگالی مسلمانوں کو اپنی ہی فوج کے مقابل کھڑے کرنے کے بعد علیحدہ ہونے میں کامیاب ہوسکے تھے)
اس لئے ہمارے مشترکہ دشمن جان چکے ہیں کہ جب تک عوام پاکستان کی فوج کے ساتھ کھڑی ہے ‘وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ کے پی کے اور قبائلی علاقوں سمیت وزیر ستان میں بے شک امریکہ اور بھارت نے کچھ پشتونوں کو اپنے ساتھ ملا نے میں کامیابی حاصل کی اور یہ بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی فوج اور شہریوں کو بے پناہ نقصان بھی پہنچا یا‘ لیکن ناکامی اس لئے ان کا مقد ربنی کہ کے پی کے اور قبائلیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی فوج کے ساتھ کھڑی رہی۔دشمن جان چکا کہ جب تک عوام اپنی فوج کے ساتھ کھڑی رہے گی ‘وہ کامیاب نہیں ہو سکتا‘ اس لئے دشمن ایک بار پھر مشرقی پاکستان کی طرح اپنی فوج کے مقابل لانے کیلئے اپنے مذموم مقاصد استعمال کر رہا ہے ‘جس کے ثبوت آپ کو سوشل میڈیا پر نظر آ رہے ہوں گے۔


دشمن کو موقع مت دیجئے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو ڈھیل دینے سے کام ہو گا۔ اس لئے یہ بات ذہن کر لیجئے کہ آپ کی فوج کے خلاف نفرت ابھارنے کی کوششیںکرنے والا کبھی بھی آپ کا اور آپ کے وطن عزیز کا دوست نہیں ہو سکتا۔ بے شک ان میں سے بہت سے لوگ آپ کے جاننے والے ہوں گے ‘جن کی تحریروں ‘ تصویروں‘ تجزیوں اور ان کے بنائے گئے کارٹونوں سے فوج کی تضحیک‘ کبھی جمہوریت دشمنی کی صورت میں کبھی بجٹ کے جھوٹے اعداد و شمار کی صورت میں سامنے لائی جاتی ہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کی طرف نہ تو اپنی آنکھیں بند رکھیں اور نہ ہی ان کی اندرونی غلاظت کو پاک وطن میں بکھرنے دیں۔ یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک حصہ ہوتا ہے‘ جس میں انہیں جو پہلا سبق دیا جاتا ہے ‘وہ یہی ہے کہ پہلے مرحلے میں پاکستانی قومی اداروں کے خلاف عوام کے ذہنوں میں دراڑیں ڈالتے ہوئے انہیں متنفر کر دو۔ یہ آپ کے ملک کی آزادی چھیننے کا پہلا حربہ ہوتا ہے۔


آزادی کی قیمت کا اندازہ کرنا ہے تو شام چلے جایئے‘ لیبیا اور فلسطین کا حال دیکھ لیجئے افریقا کی ریا ستوں کو تصور میں لے آیئے‘ کشمیریوں کا قتل عام دیکھ لیجئے۔اس لئے اگر آزاد رہنا چاہتے ہیں تو اپنی فوج کو تضحیک کا نشانہ بنانا بند کر دیں اور وہ لوگ جو فوج کو آپ کی نظروں میں گرانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں‘ ان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ان کے زہریلے فقروں اور تجزیوں کا مقابلہ کریں اور اگراس زہریلے تیروںکا مقابلہ کرنے کیلئے دل ہے‘تو اپنے اندر حب الوطنی کا جذبہ رکھتے ہیں‘ تو اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس کو اپنا مورچہ سمجھ لیجئے‘ جہاں سے آپ نے دشمن کے مورچوں کو تباہ کرنا ہے۔

، Dunya. Com. Pk , منیر احمد بلوچ

Advertisements