کشمیر آپشنز Kashmir Options

دنیا انصاف اور حق کو نہیں بلکہ اپنے مفادات کو دیکھتی ہے ۔ چونکہ پاکستان اور بھارت نیو کلیئر پاور ہیں اس لئے امریکہ سمیت عالمی برادری کا انٹرسٹ صرف ………مزید  نیچے اس صفحہ پر ….

The international community cannot afford India’s displeasure, India’s economy is a bigger economy than Pakistan’s (6th in the world, fastest growing , ahead of China).  One thing is certain that the international community will never offend India and will not openly support Pakistan. This is the same Modi, whom the United States and Europe called an unwanted figure and was not issued a visa by USA while Modi was CM of Gujrat, but with his becoming Prime Minister, all his sins were washed away.

انڈکس

  1. مروجہ عالمی  ماحول
  2. صلیبی جنگ
  3. یہودی تھرڈ  ٹیمپل، “بنیاد پرست مسیحی” اور صہونیت  
  4. امریکہ اسرائیل۔ ہندوستان کا گٹھ جوڑ
  5. غزوہ ہند
  6. کشمیر
  7. آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین میں ترمیم
  8. بین الاقوامی رد عمل
  9. مسلم  امہ روحانی نظریہ ؟
  10. جہاد اور قتال (لڑائی ، جنگ)
  11. ریاست کی ذمہ داری
  12. معاہدات
  13. انڈیا کا معاہدوں پر عمل درآمد سے انکار 
  14. ہائیبرڈ جہاد  مقبوضہ کشمیر
  15. جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت
  16. احکام جہاد۔ – جنگ
  17. جہاد (قتال)جنگ کے اصول
  18. پاکستان کے لئے آپشنز 
  19. جہاد کےانفرادی فوری عملی  اقدام
  20. اختتامیہ
  21. حوالہ جات / روابط۔

The world accord priority to its own interests, justice and truth are just bookish, media slogans.. Since Pakistan and India are nuclear powers, the interest of the global community including the United States is just that Pakistan and India should not go to war.  Pak-India war will not remain conventional war, it will quickly turn into a nuclear war, the world just wants to save themselves from the effects of nuclear war. Therefore, the interest of the world at this time is only in reducing India-Pak tension. They are not interested in resolution of Kashmir issue. It is the same thing that the fire brigade is used to extinguish fire but not paying attention to the cause of the fire.
The world has not supported Pakistan and Kashmiris as usual, we have been left alone [even the Arabs and Muslim counties are mysteriously silent, except Turkey and Iran]. If the interests of the world would have been threatened, then the problem of Palestine and Kashmir would have been resolved long ago.

  1. Pakistan needs to take advantage of the nuclear war threat, only the fear and weakness of the world to the nuclear war will force them to find the peaceful resolution of Kashmir issue, otherwise it can never be resolved by mere talks, protests and resolutions.
  2. Make the world aware of the racist agenda of Modi, RSS and BJP their neo Nazi Hindu Hitler, anti Muslim ideology.
  3. Full support of the struggle of Kashmiris including military support in training and logistic is essential.  Kashmir struggle should be declared as a freedom struggle,  from oppression and restoration of human rights .
  4. Nation and youth should be ideologically and physically prepared for Jihad.  Training under Pak Army should be immediately organized. We need not to be afraid of enemy numbers … Trust Allah , give call for Jihad … World will shake … tremble, will listen to Pakistan …Nation will not disappoint our leadership. We have seen people enthusiastically participating , donating for Afghan Jihad , though it was not officially declared by govt. We may  not be good practicing Muslims , but our faith , ایمان remains strong … We don’t care for life once it’s Jihad for the cause of Allah  جہاد فی سبیل اللہ., to help oppressed people of Kashmir is a sacred religious and human duty.  We have to make it clear to the world that Jihad has nothing to do with terrorism, we demonstrate the true spirit of Jihad to the world. Declaration and conduct of Jihad (may be Fifth Generation Jihad under present environments) is the responsibility of government it cannot be left to the religious leaders, clergy, individuals, groups and warlords .  It is very important in case of Kashmir in nuclear armed Indo-Pak scenario where any misadventure may turn in to nuclear conflict. Thrice  in the past such scenarios were developed when India falsely alleged Parliament attacks , Mumbai attacks and Pulwama attacks as terrorist actions.
  5. Support Sikhs in Khalistan movement.
  6. Pakistan will have to strengthen itself economically, so that instead of crying and complaining all the time, the world will be forced to listen to a strong prosperous Pakistan and India will also sit on the negotiating table on equal terms, but this may be a long term practical strategy, however immediately the  above mentioned steps need to be taken now.

…. یہ دور ختم ہوا۔ اقوام  عالم نے مل کر اقوام متحدہ قائم کی تو ایک نیا ورلڈ آرڈر وجود پذیر ہوا۔………….. جس کے مطابق پرانا عالمی دستور جس میں طاقت کے زور پر دوسرے ملک اور علاقے فتح کیے جاتے تھے تھے اس کا اختتام ہوا تو یہ کہا جاتا ہے کہ کہ جو ملک اور سرحدیں قائم ہوگیں ان کو بزور طاقت تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ قانون سپر پاورز پر لاگو نہیں ! [انڈیا کو غلط فہمی ہو گیئی ہے، یا کروا دی گیئی  ہے کہ وہ  بھی سپر پاور ہے !]

 ہاں اگر کسی علاقے کے عوام خود فیصلہ کریں کہ وہ کسی دوسرے ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو یہ اور بات ہے لیکن اس کو بھی شرط ہے کہ جو ہمسائے ہیں ان کے مفادات بات کا تحفظ ہو۔۔۔

قبرص کی مثال ہمارے سامنے ہے جو جو یونان کے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہے لیکن وہاں ترک آبادی بھی ہے اور ترکی اس کو اپنے مفاد میں نہیں سمجھتا لہذا قبرص ایک آزاد ملک ہے جس کے دو حصے ہیں اور یہ مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔

اس کے علاوہ وہ انڈونیشیا کا ایسٹ تیمور کا علاقہ جہاں پر عیسائی آبادی تھی وہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے بعد ریفرنڈم کے ذریعے آزاد ہوگیا اسی طرح جنوبی سوڈان کا علاقہ جس میں عیسائی آبادی تھی اور جنگ جاری تھی اس کو بھی ریفرینڈم کے ذریعے آزاد ہونے کا موقع دیا گیا لیکن ان میں یہ بات اہم  ہے کہ آبادی کا مذہب عیسائیت ہے۔

مسلمانوں کے لیے قانون علیحدہ ہے فلسطین کی مثال ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح یورپ اور دوسرے ممالک سے یہودی نقل مکانی کرکے آئے اور فلسطین کی مقامی آبادی کو نکال کر ان کے علاقے پر قبضہ کرلیا اس معاملے میں مغربی طاقتیں اور امریکہ شامل ہیں

افغانستان پر پہلے روس نے قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اس کو جانا پڑا اس کے بعد امریکہ نے کوشش کی اور اب وہاں سے بھاگنے کی تیاری میں ہے اس ایئر ویتنام الجزائر اور دوسرے ملکوں نے جنگ کرکے اپنی آزادی کو حاصل کیا۔

لہذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ کہ آزادی کے لیے جنگ ایک جائز جدوجہد ہے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی قبول کی جاتی ہے۔ مگر کشمیر کے معاملے میں نہ تو اقوام متحدہ کی قراردیں  اور نہ ہی یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کیا جاتا ہے۔ اس کی وجوہ دو ہیں

نمبر1 کے کشمیری مسلمان ہیں اور

نمبر2 طاقت ہندوستان ایک بہت بڑی معیشت ہے بہت بڑی آبادی ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے کتنی بڑی امریکا اور مغرب  چین کے گرد گھیرا ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ ہندوستان کی طرف سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

مزید انڈیا اپنے آپ کی ابھرتی ہوئی سپر پاور سمجھتا ہے ، اور ایک سپر پاور کی طرح سمجھتا ہے کہ دنیا کے قوانین صرف چھوٹے ممالک پر لاگو ہوتے ہیں ، انڈیا پر نہیں ، سو انڈیا جو چاہے کرے سب ٹھیک ہے !

کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم پر پاکستان خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا ایک ایٹمی طاقت کی حیثیت سے پاکستان کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔

عوام  سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو حملہ کرکے کشمیر کو آزاد کرا لینا چاہیے مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ: بھارت کی دنیا میں کیا حیثیت ہے ہے اور سپرپاور ، اور مفادات پرست دنیا  (حتی کہ عرب بھی ) اس کے ساتھ  کھڑی ہیں۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو حافظ سعید اور اس طرح کے دوسرے جہادی گروپ کو کشمیر میں جنگ لینے کی کھلی چھٹی دے دینی چاہیے تاکہ مسلمانوں کی مدد کر سکے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نائن الیون کے بعد دنیا کے حالات مختلف ہوچکے ہیں آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ہندستان نے نے ہندوستان نے کشمیر کے معاملے میں دہشتگردی کا کارڈ کارڈ بہت مہارت سے سے پروپیگنڈا کے ذریعے استعمال کیا ہے ابھی پلوامہ نہ کہ حملہ اللہ اور اس سے الیکشن میں ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا.

اگر پاکستان ان جہادی گروپوں کو کو کھلم کھلا لا سپورٹ کرے گا تو یہ کشمیر کی کی آزادی کی جدوجہد د کوبدنام کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ پاکستان گرے واچ لسٹ میں ہے، معاشی قرضے لیتا پھرتا ہے ۔۔۔

مزید مزید یہ کہ جہادی گروپ کچھ دیر کے بعد بعد کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں ہیں اور اپنا ایجنڈا بنا لیتے ہیں تحریک طالبان پاکستان ان اور اس طرح کے کئی گروپ  پاکستان مخالف سرگرمیوں میں اور دہشتگردی میں دشمنوں کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ کشمیر جیسے حساس علاقے میں میں ہم اس طرح کے گروہوں کا وجود کسی طور بھی بھی قبول نہیں کر سکتے جن کو مال و دولت یا کسی اور لالچ کے ذریعے ہندوستان ان یا کوئی اور قوتیں استعمال کریں ۔

پاکستان کو کشمیریوں کی جدوجہد کو کو مکمل طور پر سپورٹ کرنا چاہیے وہ اپنی آزادی افغانستان الجیریا یا ویتنام یا کسی دوسرے ملک کی طرح نہ خود حاصل کریں گے انڈیا کے لیے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ وہ ہمیشہ کے لئے کشمیریوں کو دبا کر غلام بنا کر رکھ سکے کے تاریخ گواہ ہے کہ جو قومی آزادی کے لئے جنگ کرتی ہیں دو آخر وہ وہ ظلم کے خلاف کامیاب ہوتی۔

کشمیر کا فوجی حل جس طرح ہندوستان کے لئے ممکن نہیں اسی طرح پاکستان کے لیے بھی  مشکل ہے ہے کیونکہ کسی بھی ناکامی کی صورت میں ہندوستان پورے پاکستان باڈر کے اوپر کھلم کھلا جنگ شروع کر سکتا ہے جیسا 1965 میں ہوا۔ انڈیا پاکستان سے چار گنا طاقتور ہے ۔۔  اور اب کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوت بھی ہیں کہ جنگ انتہائی خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

پاکستان سٹریٹیجی

پاکستان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اخلاقی اور سفارتی طور پر کشمیریوں کی مدد جاری رکھے اور
کشمیریوں کو جدوجہد آزادی میں ہر ممکن طریقے سے خفیہ طریقے سے مدد مہیا کرے بغیر جہادی گروپوں کو شامل کئے بغیر۔

کشمیر میں پاکستان انڈیا  لائن آف کنٹرول پر جنگ دباؤ جاری رکھے اور کسی قسم کے بھی انڈیا کی طرف سے خلاف ورزی یا فوجی کروائی کا سختی سے جواب دے جیسا کہ 24فروری تو کیا.

اس کے ساتھ دنیا کو یہ بتائے کہ انڈیا کی طرف سے کوئی بڑی کارروائی جو پاکستان کی سالمیت صحت کے خلاف ہوگی تو پاکستان ایٹمی جنگ سے گریز نہیں کرے گا۔

دنیا کو یہ بات سمجھ میں ہے کہ پاکستان انڈیا کی ایثمی جنگ کے اثرات تمام دنیا میں پھیل جائیں گے اور وہ ممالک اور لوگ جن کا کشمیر انڈیا پاکستان سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے وہ بھی نقصان اٹھائیں گے ایک سائنسی تحقیق کے مطابق انڈیا پاکستان کی جنگ سے 90 کروڑ سے ایک ارب لوگ نیوکلیئر ریڈیشن، nuclear winter اور nuclear cloud  کی وجہ سے موت کا شکار ہوں گے اور اٹامک بادل تمام دنیا پر اثر انداز ہوگا اس لیے لیے انڈیا کو سپورٹ کرنے کی بجاۓ تمام دنیا کو اپنے تحفظ کو پہلے ترجیح دینے کی ضرورت ہوگی ۔ اس لئے وہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے میدان میں آئینگے۔ جیسا کہ ٹرمپ کی فون کالز ۔۔۔۔

مودی کی ہندتوا ، RSS اور ہندو ہٹلر جو یہودیوں کی بجائیے مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے ۔۔ ایک حقیقت ہے ۔۔ جس کو روکنا  کرنا ضروری ہے ۔

.  قوم اور نوجوانوں کوجہاد کےلیےنظریاتی، ذہنی اور عملی طور پر تیار کیا  جائے – اس سلسلے میں فوج کے . زریعہ تربیت کا بندوبست کے جائے – ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ فوجی فتح کا کوئی متبادل نہیں ہے … پوری دنیا اور سپر پاور ہمارے مخالف ہیں … ہم ایٹمی ہتھیاروں اور ایڈوانس میزائلوں سے لیس ایک بڑی  فوجی طاقت ہیں …ہمیں دشمن کی تعداد سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے … اللہ پر بھروسہ کریں ، جہاد کا اعلان کریں … دنیا لرز اٹھے گی … تھر تھر کانپے گی ، پاکستان کے حکمران سن لیں  … قوم ہماری قیادت کو مایوس نہیں کرے گی … ہم اپنا سب کچھ ، جان بھی پیش کریں گے کہ حکومت کہے گی بس — بہت … یہ کافی ہے …ہم نے لوگوں کو افغان جہاد کے لئے چندہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ، حالانکہ حکومت نے سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا تھا .. ہم شاید عملی پر  عمل پیرا مسلمان نہیں ہوں گے ، لیکن ہمارا عقیدہ ، ایمان مستحکم ہے … ا جہاد کے لیئے ہم زندگی کی پرواہ نہیں کرتے جہاد فی سبیل اللہ

جہاد کے لفظ سے کفار اور مشرکوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں ۔۔ اور اگر یہ اعلان پاکستان کرے ۔۔ پابندیوں پر لعنت ۔۔۔ہم ایسا اسلامی ملک کی طرح نہیں جو جنگ میں مسلمانوں کا خون کررہے ہیں ۔۔

 ہماراجہاد خالص اللہ کے لئیے اس کے حکم کے مطابق ۔۔مظلوم کشمیری مسلمانوں کو ظلم سے نجات کے لئیے ہوگا ۔۔۔

 شمالی کوریا ایک نکڑ میں لگا ملک ہے پاکستان کی جیوسٹریجک پوزیشن نارتھ کوریا والی نہیں ہم کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا ۔۔ 

لیڈرشپ ٹانگوں میں جان ڈالے اور  کھڑے ہوں ۔۔ قدم بڑھائیں

! No one on earth can undo Pakistan ان شاءاللہ

https://defenders.home.blog/2019/08/30/kashmir-jihad/

پاکستان کے علماء کا اجماع ہے کہ جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے ” پیغام پاکستان” ان کی دستاویز جس کو اسلامک ریسرچ سنٹر اسلام آباد اسلامک یونیورسٹی کی مدد سے تیار کیا گیا اور جس پر تمام مکاتب فکر کے اٹھارہ سو علمائے کرام نے دستخط کئے اس کے علاوہ تقریبا بابا 8000 علماء نے اس کو سپورٹ کیا۔۔۔ جہاد کومت کی زمہ داری ہے ، گروہ، فرد یا لشکر کی نہیں !  تفصیل اس لنک پر 

https://paighampakistan.wordpress.com/paigham-e-pakistan/islami-jamhorya/jihad/

پچھلے چالیس سال میں اس پر کافی بحث مباحثہ ہو چکا ہے اور ہم 70 ہزار سے زیادہ قیمتی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں لہذا جہاد کسی گرو وہ فرد یا لشکر کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

آج کے دور میں میں خاص طور پر پاکستان ہندوستان کے سیناریو میں کشمیر کے معاملے میں دونوں طرف عوام کے جذبات بہت بہت سخت ہیں او کسی ملک  کی عوام اپنے موقف سے ذرا برابر بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں لہذا جہاد کسی شکل میں بھی ایک بھرپور جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کی انتہا ہاں ہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچ سکتی ہے۔

 ہم جانتے ہیں کہ انڈیا کی پارلیمنٹ پر حملہ ہو ممبئی ہوٹل یا پلوامہ میں حملہ ،آن تمام کارروائیوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا اور دونوں ملک جنگ کے قریب آگئے اس لیے پاکستان میں جہاد کو کنٹرول کرنا اس کا اعلان کرنا اور اس پر عمل برما درآمد کرنا صرف اور صرف حکومت اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہونا ضروری ہے۔

یہ ففتھ جنریشن وار فئیر کا دور ہے ۔۔ جہاد بھی ایسا ہوگا  اس میں میڈیا خفیہ آپریشن اور کھلم کھلا فوجی کارروائی ہوتی ہے اس لیے اس حساس معاملے کو صرف حکومت اور مسلح افواج ہی ہینڈل کر سکتی ہیں۔

 عوام اپنے طریقے سے اس جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں قلم اور میڈیا کی بہت طاقت ہے دنیا کی رائے کو بدلنا ، صحیح انفرمیشن کا پھیلانا ،  اور دشمن کے پروپیگنڈا کا توڑ کرنا یہ ہر شہری کا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی جہادی اعلان یا اجازت کی ضرورت نہیں ہم کو فوری طور پر اس طرح عمل کرنا ہے۔  اور جب حکومت سمجھے کہ اس کو افراد کی ضرورت ہے تو وہ اعلان کرے اور لوگوں کو بھرتی کرے یا فوجی تربیت پہ یا جس طرح مناسب سمجھے ان کے کے جہاز میں شامل کریں۔

یہ نیوکئیر وار کوئی فکشن ، افسانہ نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے پاکستانی قوم موت سے نہیں دیتی ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اور کشمیر میں مسلمانوں کی حالت سے یہ  بات ثابت کرتی ہے کہ انڈیا کے زیر اثر رہنے سے بہتر ہے کہ ایٹمی جنگ کریں اور عزت کی موت کو خوش دلی سے قبول کریں، اور ظالم دنیا کو بھی موت کا مزا ملے ۔ جیساکہ ٹیپو سلطان شہید نے کیا اور وزیراعظم پاکستان اس کا اعلان کرچکے ہیں !!!


خلاصہ   :

بھارت کی معیشت پاکستان کے مقابلے میں بہت بڑی معیشت ہے اور عالمی برادری بھارت کی ناراضگی نہیں مول لے سکتی۔ ایک بات طے شدہ ہے عالمی برادری کبھی بھی بھارت کوناراض نہیں کرے گی اور پاکستان کا کھل کر ساتھ نہیں دے گی۔ یہ وہی مودی ہے جس کو امریکہ یورپ نے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا ہوا تھا اور اس کو ویزہ نہیں جاری کیا جا تا تھا لیکن وزیر اعظم بنتے ساتھ اس کے تمام گناہ ختم ہو گئے ۔

دنیا انصاف اور حق کو نہیں بلکہ اپنے مفادات کو دیکھتی ہے ۔ چونکہ پاکستان اور بھارت نیو کلیئر پاور ہیں اس لئے امریکہ سمیت عالمی برادری کا انٹرسٹ صرف اس میں ہے کہ پاک بھارت جنگ نہ ہو اگر پاک بھارت جنگ ہو جاتی ہے تو وہ ایٹمی جنگ ہو گی اور دنیا اس خطہ کو صرف جنگ سے بچانا چاہتی ہے- اس لئیے دنیا کا مفاد اس وقت صرف پاک بھارت کشیدگی کم کروانے میں ہے کسی کومسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ وہی بات ہے کہ فائر بریگیڈ آگ بھجاتا ہے لیکن آ گ لگانے کی وجہ پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ عالمی دنیا نے ہمیشہ کی طرح پاکستان اور کشمیریوں کا ساتھ نہیں دیا ان کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اگر دنیا کے مفادات بیچ میں حائل نہ ہوتے تو فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔

١.پاکستان کو  دنیا کا نیوکلیئر جنگ کے خطرہ سے ڈر ، خوف اور کمزوری  سے فائدہ اٹھنا ضروری ہے تاکہ کشمیر کے مسلۂ کا پرامن حل ممکن ہو سکے ورنہ یہ سلسلہ ایسے ہو قرادادوں اور مظاہروں سے حل نہ ہو گا –

٢.مودی ، آر ایس ایس اور بی جے پی کی مسلمان دشمن نازی ہٹلر کی طرح کی نسل پرستی ی ایجنڈا سے دنیا کو آگاہ کیا جایے- 

٣. کشمیریوں کی جدوجہد کی مکمل سپورٹ لازم ہے اور اس کو آزادی ، انسانی حقوق کی بحالی ، ظلم سے نجات کی جدوجہد قرار دیا جائے –

٤.  قوم اور نوجوانوں کوجہاد کےلیےنظریاتی، ذہنی اور عملی طور پر تیار کیا  جائے – اس سلسلے میں فوج کے . زریعہ تربیت کا بندوبست کے جائے – ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ فوجی فتح کا کوئی متبادل نہیں ہے … پوری دنیا اور سپر پاور ہمارے مخالف ہیں … ہم ایٹمی ہتھیاروں اور ایڈوانس میزائلوں سے لیس ایک بڑی  فوجی طاقت ہیں …ہمیں دشمن کی تعداد سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے … اللہ پر بھروسہ کریں ، جہاد کا اعلان کریں … دنیا لرز اٹھے گی … تھر تھر کانپے گی ، پاکستان کے حکمران سن لیں  … قوم ہماری قیادت کو مایوس نہیں کرے گی … ہم اپنا سب کچھ ، جان بھی پیش کریں گے کہ حکومت کہے گی بس — بہت … یہ کافی ہے …ہم نے لوگوں کو افغان جہاد کے لئے چندہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ، حالانکہ حکومت نے سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا تھا .. ہم شاید عملی پر  عمل پیرا مسلمان نہیں ہوں گے ، لیکن ہمارا عقیدہ ، ایمان مستحکم ہے … ا جہاد کے لیئے ہم زندگی کی پرواہ نہیں کرتے جہاد فی سبیل اللہ

جہاد کے لفظ سے کفار اور مشرکوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں ۔۔ اور اگر یہ اعلان پاکستان کرے ۔۔ پابندیوں پر لعنت ۔۔۔ہم ایسا اسلامی ملک کی طرح نہیں جو جنگ میں مسلمانوں کا خون کررہے ہیں ۔۔

 ہماراجہاد خالص اللہ کے لئیے اس کے حکم کے مطابق ۔۔مظلوم کشمیری مسلمانوں کو ظلم سے نجات کے لئیے ہوگا ۔۔۔

 شمالی کوریا ایک نکڑ میں لگا ملک ہے پاکستان کی جیوسٹریجک پوزیشن نارتھ کوریا والی نہیں ہم کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا ۔۔ 

لیڈرشپ ٹانگوں میں جان ڈالے اور  کھڑے ہوں ۔۔ قدم بڑھائیں ! No one on earth can undo Pakistan ان شاءاللہ

https://defenders.home.blog/2019/08/30/kashmir-jihad/

٥.  سِکھ  خالصتان موومنٹ کو سپورٹ کیا جائیے –

٦..پاکستان کو ہر وقت رونے دھونے ، شکوہ شکایتیں کرنے کے بجائے خود کو اتنا مضبوط کرنا ہو گا کہ دنیا مجبور ہو جائے ہماری بات ماننے کیلئے اور بھارت بھی مذاکرات کی میز پر ہماری شرائط پر بیٹھے، مگر یہ لانگ ٹرم عملی اسٹریٹجی ہو سکتی ہے جس پر پہلا قدم اٹھایا جائے ۔


زوال امت مسلمہ کیوں؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ .

Sunnan e Abu Dawood Hadees # 4297

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔

جہاد

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ﴿٧٥﴾

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے (4:75)

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴿٧٦﴾

جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، و ہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں (4:76)


Kashmir Options:

Related

In the cost-benefit calculations of the Kashmiris the benefit of armed defiance clearly outweighs its costs that include elimination of socio-cultural identity and political enslavement to Indian Union. Kashmir is on the boil and this time Pakistan must support a purely indigenous asymmetric battle with the Indian occupation forces in a manner that India could not point the accusing finger of cross border terrorism. Indian hubris has united the Kashmiris in a manner that was not witnessed in over seventy years of their struggle for independence  and hubris does have a fall.

.. https://dailytimes.com.pk/447015/our-kashmir-options/

‘Fighting back’: Kashmir enclave blocks entry of Indian troops
Residents in Soura neighbourhood of Srinagar, Indian-administered Kashmir, plant barricades to keep security forces out.. >>>>>>.

Protesters threw stones at a an Indian paramilitary bunker on Aug. 20, as tensions continue to rise since the Indian federal government made the decision to strip Kashmir of its autonomy….. >>>>>

https://globalnews.ca/video/rd/60b0959e-c36e-11e9-a035-0242ac110002/?jwsource=cl

Top Ten Economies: https://www.focus-economics.com/blog/the-largest-economies-in-the-world ..

Pakistan  is number 22 in the list of most powerful countries in the world, leaving Singapore, Spain, and Brazil behind in a new global ranking. As per the list published by US News and World Report, an American media house publishing since 1933, has placed the South Asian country at the 22nd spot. The ranking is based on the influence of nation, political, economic and military power. India is ranked 15th most powerful and 25th best country in the list, while Turkey is 14th most powerful and the 36th best country. .. The United States of America (USA) remains the most powerful country in the world, with Russia and China claiming the second and third spot respectively. https://www.pakistantoday.com.pk/2018/07/07/pakistan-ranked-at-22-on-list-of-most-powerful-countries/ ..


What Israeli PM Golda Meir Learned from the Prophet Muhammad [PBUH]

After a gap of one decade after the Arab-Israeli  war, a reporter of the Washington Post interviewed Meir, asking “Was the logic you had in your mind for the arms was spur of the moment decision or you had had an advance strategy?”

Meir’s reply was very surprising.

She answered, “I got this logic from the Prophet (of the Muslims) Mohammed (peace be upon him). When I was a student, my favorite topic was comparative study of religions. Those days I studied the life of Mohammed (PBUH). One author stated that when Prophet Mohammed (PBUH) died, there was not enough money to buy oil for a lamp, his wife (Ayesha Siddiqa[Radi Allahu-ta’ala unha]) mortgaged his battle shield to buy oil, yet there were nine swords hung on the wall of his house.

When I read this account, it occurred to me- how many people in the world would have known about the worst economic condition of Islamic state?  But everyone recognizes them as conquerors of half the world. So I decided that I would buy arms at any cost; even if we would have to starve or to live in camps instead of buildings, but we would prove ourselves as the victor”.

Source: https://defence.pk/pdf/threads/what-israeli-pm-golda-meir-learned-from-the-prophet-muhammad-pbuh.191915/ ..

گولڈا میئر کا سنت رسول اللہ صلعم سے حاصل کردہ  سبق 

جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈا میئر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ’’امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟ ‘‘گولڈا میئر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی : ’’میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے آخری نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی اور اس کے بعد معلمہ بنی تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل تک خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو یا سات تلواریں لٹک رہی تھیں لیکن انہیں رہن نہیں رکھا گیا تھا۔۔۔۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو سوچا ،، دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح بنے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، گولڈا میئر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھایا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اس کے انکشاف کو ’’آف دی ریکارڈ‘‘ رکھا جائے۔ کیونکہ نبی آخر الزمانؐ کا نام لینے سے جہاں اس کی یہودی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔۔۔۔۔۔۔وقت گزرتا رہا، گولڈا میئر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا، برسوں بعد ایک اورصحافی،،، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں،،، کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے بھی پہنچا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈا میئر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈا میئر کے انٹرویو کے اس حذف شدہ حصے کو بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا۔ گولڈا میئر کا انٹرویو کرنے والے نے مزید کہا: ’’میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس تک نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ اس امریکی صحافی نے ایک فقرہ یہ بھی بولا۔۔۔۔ ’’تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔ گولڈا میئر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس حقیقت کو جان گئی کہ چودہ سو سال پہلے ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، کس طرح جہاں بان بن گئے تھے، تاریخ ہی ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کئے۔۔۔۔

Advertisements