کرونا وائرس – لمحہ فکریہ Corona Virus – Points to Ponder

کرونا وائرس نے دنیا میں تباہی مچا کر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے- اس وبا سے مسلمان ، کافر ، گورا ، کالا سب بلا تفریق متاثر ہو رہے ہیں-

We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued. … Read more at end of this page … or <<here>>

 مسلمان تقدیر اور موت پر مکمل ایمان رکھتا ہے لیکن تدبیر سے منہ نہیں چھپا تا کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے- الله پر توکل ، دعا  کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سنت رسول اللهﷺ سے ثابت ہے جن کا انکار گناہ، تکبر اور جہالت ہے-


ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]

ایمان مکمل طور پر ایک ذاتی معاملہ ہے ، جس کی پیمائش نہیں کی جاسکتی ،  جو بھی شخص اسلام کے 6 بنیادی اصولوں اور 5 ستونوں پر یقین کرنے کا اعلان کرتا ہے اسے مسلمان سمجھا جاتا ہے چاہے اس کے  عمل میں کوئی کمی بھی ہو۔


معاشرہ میں ہمیں بہت سے لوگ دوسروں کے مقابلے میں “زیادہ مسلمان” نظر آتے ہیں، ظاہری نمائش اور سرگرمیوں کی وجہ سے  ، پھر بھی یہ ان کے اعتقاد کی پیمائش کا آلہ نہیں ہے ، ایمان کی حقیقت صرف اللہ کے علم میں ہے۔  تاہم یہ مذہبی لوگ صرف اپنے آپ کو مذہب پر قابو پانے کا حقدار سمجھتے ہیں ، جو کہ درست نہیں کیونکہ اسلام میں پاپائیت نہیں ، مذہبی معاملے پر کسی بھی شخص کی  رائے کی صداقت کے لئے قران و سنت سے  دلیل کے ساتھ مشروط ہے۔ 


اللہ نے کسی انسان  کو اپنی ذاتی رائے کو اللہ کی طرف سے پیش کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔  یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے علمائے کرام کو رب کا درجہ دینے کی مذمت کی گئی ( قرآن 9:31)  (لہذا علماء کی اس طرح اندھی پیروی شرک ہے)


کورونا وائیرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے ، ماہرین ، معاشرتی دوری اور بھیڑ بھاڑ ، اکٹھ ، مجمع اکٹھا نہ کرنا ،  جیسے بچاؤ کے اقدامات کا مشورہ دیتے ہیں۔  اسے پاکستانی مذہبی ٹھیکیداروں نے سراسر مسترد کردیا ہے۔  قران و حدیث اور منطق ، عقیل دلائل اور کسی بھی حوالہ کو مسترد کرتے ہوئے وہ نماز (جماعت) کے اجتماعات کو عارضی طور پر معطل کرنے پر تیار نہیں ، حالانکہ دو  مکہ و مدینہ حرمین شریفین ، مشرق وسطی ، ترکی ، مشرق بعید اور پوری دنیا میں یہ اقدامات بغیر کسی بحث و مباحثہ کے نافذ کئیے گئے ہیں۔  .


صدر پاکستان نے الازہر سے رابطہ کیا جس نے عوامی تحفظ کے لئے نماز کے  اجتماعات کو معطل کرنے کے لئے فتویٰ جاری کیا مگر اس کو بھی قبول نہیں کیا ان  کو عوامی زندگی کا کوئی احترام نہیں ہے۔


پاکستانی مزہبی پیسواوون کی اس مذہبی ذہنیت کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ، جو اس قوم اور ملک کے لئے مہلک ہے۔


 طاقتور ریلیجیئس اسٹیبلشمنٹ (ہاں حیرت نہ کریں ، یہ حقیقت ہے) اس مذہبی مافیا کی طاقت ور  اکثریت  نے  ( خفیہ اور کھلے عام ) دہشت گرد ٹی ٹی پی کی حمایت کی ، جس کے نتیجے میں عوامی جانوں کے بڑے نقصان کے باوجود دہشت گردوں کو عوامی ہمدردی ملی  (دہشت گردی میں 70،000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوگئیں اور 100 بلین ڈالر  معیشت کو نقصان)- بہت سے  اہل حق علماء نے دہشت گردوں کی مخالفت کیاور دہشت گردی کا شکار ہوے اللہ جنت میں ان کے درجات  بلند فرمایے-


پاکستان اس وقت  تک ترقی نہیں کر سکتا  جب تک ہم اس جاہل ، مزہبی انتہا پسند طبقے کی اس زہنیت سےچھٹکارا  نہیں حاصل  کر لیتے جو مساجد ، مذہب کو کنٹرول کرکہ  زیادہ جاہل عوام کو گمراہ  کرتے ہیں۔  اسلام کو ان جہلا کے شکنجے بچایا جانا صروری ہے۔


ضروری ہے کہ جو حضرات  اپنے آپ کو قرآن و سنت کو ترجیح دینے والے فرمان بردار علماء حق  میں شمار کرتے ہیں وہ خاموش مت بیٹھیں اور اصلاح کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں- تنقید اور مخالفت کا دلیری سے قرآن و سنت کی طاقت  سے  سامنا کریں- ان کی مصلحت پسندی جہالت کی حمایت ہے-


اس مقصد  کے حصول کے لئے دانشورانہ ، سرکاری اور معاشرتی سطح پر گہری مطالعہ اور ٹھوس نتیجہ پر مبنی مختصر مدت اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے اگر ہم بحثیت پاکستانی مسلمان ، پاکستان اور اسلام کی ترقی میں سنجیدہ ہیں؟

***************

پاکستان میں نمازِ جمعہ اور باجماعت نمازوں کے اجتماعات محدود رکھنے کی حکومتی ہدایات کے ردعمل میں لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے یہ حفاظتی اقدامات درست ہیں یا نہیں۔
 
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جمعہ مبارک (#JummahMubarak)، مساجد (Mosques) اور جمعہ ( Juma) جیسے الفاظ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ’مساجد پر پابندی نامنظور‘ کے نام سے ایک ٹرینڈ ایسا بھی ہے جس میں لوگ اس ہدایت کی مخالفت کر رہے ہیں۔
 
دوسری طرف ’پرے فرام ہوم‘ (#Prayfromhome) یعنی گھر میں نماز پڑھیں بھی ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں میں قیام کرتے ہوئے نماز ادا کریں اور مساجد میں جانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔
 

 

بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایات کے باوجود مساجد میں بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔ >>>  BBC  Report 

————–

🔰 کچھ قرآنی سورتوں کے فضائل !🔰
 
🔰 سورہ فاتحہ قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ہے (بخاری 4474)
 
🔰 ایک حدیث میں سورہ فاتحہ کو ایسا نور کہا گیا ہے جو پہلے کسی کو نہیں عطا کیا گیا (مسلم 817)
 
🔰 جس گھر میں سورہ بقرہ تلاوت کی جاتی ہے شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے (ترمذی 2877)
 
🔰 جو ہر نماز کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت کرتا ہے اسے جنت میں داخلے سے صرف موت نے روک رکھا ہے (نسائی 30/6)
 
🔰 سوتے وقت آیت الکرسی کی تلاوت کرنے والے پر ساری رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ مقرر رہتا ہے اور ساری رات شیطان اس کے قریب نہیں آسکتا (بخاری 2311)
 
🔰 ایک حدیث میں آیت الکرسی کو قرآن کی سب سے عظیم آیت قرار دیا گیا ہے (مسلم 810)
 
🔰 جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرے گا یہ اسے (ہر قسم کے نقصان شیطان اور تمام آفات سے بچاؤ کے لئے) کافی ہو جائیں گی (مسلم 807)
 
🔰 جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرے کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا (مسلم 809)
 
🔰 جو شخص سورہ الملک کی تلاوت کرتا رہا تو سورت اس کے حق میں سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخش دیا جائے گا (ترمذی 2886)
 
🔰 سورہ اخلاص اجر و ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (مسلم 811)
 
🔰 ایک آدمی کو سورہ الاخلاص سے بہت محبت تھی اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس صورت کو ہر نماز کی قرآت کے اختتام پر پڑهتا تها الله تعالى نے اس کی اس صورت سے محبت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیا (ترمذی 2901)
 
🔰رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے) سورہ الفلق اور سورہ الناس جیسی قرآن میں اور کوئی آیات نہیں (مسلم 814)
 
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین​
 
     ●□■○■□●○
لاک ڈاون میں منتخب “مضامین قرآن” 🔰 قرآن فہمی میں آپ کا مددگار ! 🤷‍♂
“اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” [ الفرقان 25  آیت: 30] 
~~~~~~~~~~~~~~~~~

 

گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں :


علماء سوء جنت کے دروازوں پہ بیٹھے اپنے اقوال سے لوگوں کو جنت کی طرف بلاتے ہیں، جبکہ اپنے افعال کے ذریعہ وہ جہنم کی دعوت دیتے ہیں. جب کبھی انکے اقوال لوگوں کو بلاتے ہیں کہ آؤ، تو انکے افعال کہتے ہیں کہ انکی بات نہ سنو، کیونکہ جس بات کی یہ دعوت دیتے ہیں اگر وہ سچی ہوتی تو سب سے پہلے وہ خود اسے قبول کرتے.
یہ لوگ بظاہر تو رہبر ہیں لیکن در حقیقت رہزن ہیں. [الفوائد لابن القیم: 112]



كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي ” قَالَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: “أَئِمَّةً مُضِلِّينَ “


“ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھا اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
“مجھے میری امت کے لئے دجال سے بھی زیادہ خدشہ (ایک اور چیز کا) ہے”
آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا ۔ میں نے کہا ! اے اللہ کے رسول ﷺ ، وہ کیا چیز ہے جس کا آپ دجال کے علاوہ اپنی امت پر خوف کر تے ہیں ؟ تو فرمایا “گمراہ ائمہ”  ( مسند امام احمد 20335، 21334 اور 21335] ۔


ابن تیمیہ سے روایت ہے :
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک اسلام کی بنیادیں ایک کے بعد ایک تباہ و برباد ہو جائےگیں۔ اگر اس میں ایسے لوگ پیدا ہو جائےجو نا واقف ہوں گے کہ جہالت کیا ہے ۔ (مجمو’الالفتاوى 10/301، القیم اپنی فوائد میں بھی اسے لائے ہیں)


عمر بن الخطاب نے زیاد رضی اللہ عنہ سے کہا :


أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنبَأَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: «هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ»


کیا آپ جانتے ہے اسلام کن چیزوں سے تباہ ہوگا؟ میں (زیاد) نے کہا نہیں- انہوں (عمر) نے کہا: اسلام تباہ ہوگا ،علماء کے غلطیوں سے ، الله کی کتاب کے بارے میں منافقین کے بحث و دلائل سے، اور گمراہ ائمہ کے رائے سے [ مشكوةألمصابیح89/1حدیث:269، محض الثواب 2/717، الدارمی1/295، مسند الفاروق 2/536، تلبيس الجاهمييا [4/191

بدترین علماء

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔
مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔
اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:

”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)

~~~~~~~~~~~~~~~~~

Corona & Attitude of Ulema of Pakistan – Point to Ponder

Faith is entirely a personal matter, which cannot be measured or quantified. Anyone who declares to believe in 6 Fundamentals and 5 Pillars of Islam is considered as a Muslim even if he lacks in practice.
We find many people looking “more Muslim” than others due to their outlook and activities in display, yet it’s not a measuring  tool for their level of faith , which is only known to Allah. However they consider ONLY themselves  to be entitled to  exercise control on religion, which is contested because authenticity of any opinion on religious matter is conditional to the reference and authority from Holy Scripture.
Allah has not authorized anyone to present their personal opinions to be Divine. The Jews and Christians were condemned for taking their scholars indulging in such practices as Lord (Rabb) (9:31). (Hence such blind following is Shirk,  polytheism)
To control the spread of Corona Panadamac, experts advise preventive measures like social distancing and Quarantine. This have been outrightly rejected by Pakistani religious contractors. No amount of  references from Holy Books or logic could convince them to temporarily  suspend the prayer (Salah) congregations, though in the two Holiest Mosques,  in Middle East,  Turkey,  Far East and all around the world  these measures has been implemented without any debate.
The President of Pakistan contacted Al-Azhar which issued Edict (Fatwa) to suspend prayer congregations for public safety. Even this has been resisted by our  Holy (Hollow)  Men, who have no regard for public life.
There is need to deeply analyse this religious mindset of Pakistani clergy,  which is fatal for this nation and country.
The Powerful Religious Establishment ( yes don’t be surprised,  it’s reality ) mafia supported TTP, overtly and covertly (many big names)  resulting in public sympathy despite huge loss of public life (over 70,000 lives lost in terrorism and over  $100 Bn loss to economy). Some genuine Scholars opposed and were martyred by terrorists.
We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued.
Those who claim to be genuine Scholars of Islam should not sit home in silence like hypocrites. They must come forward and debate to convince ignorant ulema.
This requires deep study and concrete  result oriented short term and long term measures  at  intellectual, governmental and societal level.
References / Links for Further Study
  1. http://trueorators.com/quran-tafseer/9/31
  2. http://forum.mohaddis.com/threads.26172
  3. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52061647
  1. ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]

~~~~~~~~~~~~~~

Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

https://SalaamOne.com