U.S. Kills Iran’s Commander in Dramatic Escalation – Satire قاسم سلمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟

Iranian Quds Force commander Qassem Suleimani meets with the Islamic Revolution Guards Corps in Tehran, Iran, on Sept. 18, 2016.

Iranian General Qasim Salmani was killed in the US drone attack, very sorry but the question is:
What was Qasim Salmani doing in Iraq?

*قاسم سلمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟*

آخر میں پڑھیں >>>

Qasim Sulaimani

I dont care what you think but one thing i know he was an enemy of Pakistan.

He threatened Pakistan few times. You can search google for his threats.

He also spoke through another general and threatened Pakistan saying that we have trained militia in pakistan too, they are waiting for our orders. This statement on record also.

He was the architect of India-iran defence treaty, also Chahbahar port and facilitation of RAW in Balochistan. Prime example was Kalboshan.

How its possible that an indian Kalboshan get an iranian passport with muslim name from Iran without Iranian govt support?

He supported Northern alliance in Afghanistan to weaken Pak strength in afghanistan, helping India to get hold in afghanistan.

He destroyed syria and killed thousands bcz of one man Asad.

He facilitated Houthis in Yemen to poke Saudi Arabia threaten and even attacked before Yemen war.

I dont care which country or religion he belongs, he was my country’s enemy, openly threatened us, helped our enemy- India.
i dont care who killed him and why, but i am happy to get rid of one of my enemy. Thats it.

You think what you want, i dont care.
I just care about my country and my safety.
: 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

Possible answers … Random thoughts

1. He has been working there for around 20 years on a secret mission (?) for the unity and betterment of Muslims against Israel and the United States. The United Nations, the OIC, and the world intelligentsia should consider him for Nobel Prize.

2. Got help from Russia’s an other country of infidals so as to propagate Islam … (if Russia builds naval and military bases in Syria, so does America? It creates balance )

3. Only 3 million Syrian Muslims refugees went to Turkey – So that Turkey can receive the Sawaab (religious rewards) through serving refugees of their similar sect.
Didn’t take a Syrian refugee in Iran … So that the refugees enjoy better opportunities in Europe and other Islamic countries. Moreover refugees in EU can spread Islam there. Iran was already cleansed 500 years ago by Safavi. There is no room for such people anymore.

4. General Sulemani played a key role in ending ISIS, which was a proxy created by US and Israeli. Now the Muslim Ummah is united and happy. (bloodshed is part of game). There’s more to be done right now.

5, It’s just coincidence that now only Israel in the Middle East has become a major power , Sulaimani had no such purpose, it’s just coincidence.

6. Israel is the only country that destroyed several Iranian bases by airstrikes in Syria and killed many Iranians. But apart from verbal cries against Israel, there was no military action, military action is specific to Muslims only, so that they can go to paradise. Sulemani was for Peace, love and prosperity of Muslims.

7. Many Afghans and Pakistanis were also recruited in the Quds Force to facilitate martyrdom and employment through Jihad against Muslims (of other sect). Also gave citizenship to the families , pensions and aid. This is Welfare of Muslims … Creation of so many jobs during period of high inflation and unemployment. Pakistan and Afghan should be grateful to Sulaimani. But American puppets are cheering to death. That’s bad

8. Practice of sending military forces out of your country to fight was challenged by Sulemani to break the monopoly of the United States and the West. Here is a Muslim country which can do alike… Yemen – Iraq, Syria – It is also to protect the major holy places of Islam later. Instead of using military force, creation of Al-Quds force (semi non state actors ) to operate abroad is good new practice to fight … Terror against Terror … Tit forTat.

9.Muslims are being oppressed in Kashmir, Rohingya, China, India. We do not interfere there so that other Muslim countries should get a chance to help Muslims, we are just looking after the Middle East. understood!

10. Now, under the alarm of Iranian threat, the United States , Russia send weapons and troops to Arab countries, (Israeli secretly) they make money. This was not the goal of General Salmani, its just coincidence , one man cannot control everything.OK

11.Its absurd to blame General Sulemani as a sectarian criminal. Iran help Sunni Palestenians against Israel, they will soon get freedom. No … No, it’s not propaganda tool for media deception.

12. We condemn the aggressive action of the United States, that they killed a peaceful general who benefited them, but was killed in a drone attack. The new General will work and pursue peace through Quds Force against imperialism…. Muslim casualties are just collateral…

(This is Satire)


Details: https://foreignpolicy.com/2020/01/02/u-s-strike-kills-one-of-irans-most-powerful-military-leaders/

ایرانی جنرل قاسم سلمانی امریکی حملے میں جاں بحق ہو گئے ، بہت افسوس ہوا لیکن دریچہ دل پر ایک سوال نے بھی دستک دی ۔ سوال یہ ہے کہ :

This is Satire …

قاسم سلیمانی۔

مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں لیکن ایک بات میں جانتا ہوں کہ وہ پاکستان کا دشمن تھا۔
اس نے کئی بار پاکستان کو دھمکی دی۔ آپ اس کی دھمکیوں کے لئے گوگل کو تلاش کرسکتے ہیں۔

انہوں نے ایک اور جنرل کے ذریعہ بھی بات کی اور پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھی پاکستان میں ملیشیا کی تربیت کی ہے ، وہ ہمارے احکامات کے منتظر ہیں۔ ریکارڈ پر بھی یہ بیان۔

وہ ہندوستان – ایران دفاعی معاہدے کا معمار تھا ، چابہار بندرگاہ اور بلوچستان میں را کی سہولت بھی۔ پہلی مثال کلبھوشن تھی۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہندوستانی کلبوشن ایرانی حکومت کے تعاون کے بغیر ایرانی مسلمان نام کے ساتھ ایک ایرانی پاسپورٹ حاصل کرے؟

انہوں نے افغانستان میں پاک طاقت کو کمزور کرنے کے لئے افغانستان میں شمالی اتحاد کی حمایت کی ، اور ہندوستان کو افغانستان میں گرفت میں آنے میں مدد کی۔

اس نے سیریا (شام) کو تباہ کیا اور ایک شخص اسد کے لئے ہزاروں مسمانون کو ہلاک کردیا۔

انہوں نے یہودیوں میں حوثیوں کو یمن میں جنگ سے پہلے سعودی عرب کی دھمکی دینے اور یہاں تک کہ حملہ کرنے کے لئے سہولیات فراہم کیں۔

مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ وہ کس ملک یا مذہب سے تعلق رکھتا ہے ، وہ میرا ملک دشمن تھا ، کھلم کھلا ہمیں دھمکی دیتا تھا ، ہمارے دشمن بھارت کی مدد کرتا تھا۔
مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ اس نے کس کو اور کیوں مارا ، لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے ایک دشمن سے چھٹکارا پاؤں
یہ بات کہ آپ سوچتے ہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں صرف اپنے ملک اور اپنی حفاظت کا خیال رکھتا ہوں۔

I am Defender of Pakistan, are you too… if yes … share it… now..

ایرانی جنرل قاسم سلمانی امریکی حملے میں جاں بحق ہو گئے ، بہت افسوس ہوا لیکن دریچہ دل پر ایک سوال نے بھی دستک دی ۔ سوال یہ ہے کہ :

*قاسم سلمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟*

This is  Satire …

ممکن جوابات  ۔۔ Random thoughts 

1۔ وہ وہاں اسرائیل اور امریکہ کے مقابل امت مسلمہ کے اتحاد اور حفاظت کے خفیہ مشن پر 20 سال سے دن رات  کام کر رہے تھے، اقوام متحدہ، OIC, اور دنیا کو ان کو نوبل پرائز دینے کے لئیے غور کرنا چاہیئے ۔

2۔ ان کو روس کی مدد بھی شامل ہے، برادر کافر ملک ۔۔ سے روابط تاکہ  اسلام کی تبلیغ کی جا سکے ۔۔۔ اب روس شام میں نیول اور فوجی اڈے بناتا ہے تو کیا ہوا امریکہ بھی تو یہی کرتا ہے ۔۔

3۔ صرف 30 لاکھ شامی مسلمان ترکی چلے گئیے ۔۔ تاکہ ترکی کو مہاجرین کی خدمت کرکہ ثواب دارین حاصل ہو ۔۔ ایران میں ایک شامی مہاجر نہیں لیا ۔۔ تاکہ یورپ اور دوسرے اسلامی ممالک میں بہتر مواقع مل  سکیں اور وہ وہاں اسلام پھیلا سکیں ۔۔ ایران کو تو پہلے ہی صفوی نے 500 سال قبل صاف کر دیا تھا ۔۔ اب اس طرح کے لوگوں کی گنجائیش نہیں ۔۔ 

4۔ داعش دہشت گرد تنظیم تھی جو خلافت کے نام پر فساد کر رہی تھی  ،جس کو امریکہ اور اسرائیل کی درپردہ مدد حاصل تھی ، داعش دہشت گرد کو ختم کرنے میں جنرل سلمانی القدس  کی القدس بریگیڈ نے اپنا اہم کردار ادا کیا، القدس بریگیڈ دہشت گرد نہیں بلکہ جہاد کر رہا تھا ، داعش  والے بھی کہتے کہ وہ جہاد کر رہے ہیں کوئی خلافت کے نام پر کوئی امامت کے نام پر قتل و غارت کرتا ہے ۔۔ اب امت مسلمہ متحد اور خوش ہے۔ ابھی مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔۔

4@ یہ محض اتفاق ہے کہ اب مشرق وسطی میں صرف اسرائیل ہی بڑی قوت بن گیا ہے ، ورنہ سلیمانی کا ہرگز یہ مقصد نہ تھا ۔۔ 

5۔ اسرائیل واحد ملک ہے جس نے شام میں  کئی ایرانی ٹھکانوں کو فضائی حملوں سے تباہ کیا اور کئی ایرانی شہید ہوئے ۔۔ مگر اسرائیل کے خلاف زبانی کلامی کے علاوہ  مگر کوئی فوجی کاروائی نہ کی، جو صرف مسلمانوں کے لئیے مخصوص ہے تاکہ وہ جنت زیادہ تعداد میں جا سکیں ۔۔ ۔۔ *امن اور محبت کا تقاضہ ہے* ۔۔ بہت بڑی بات ہے ۔۔

6۔ قدس فورس میں بہت افغانی اور پاکستانی لوگ بھی بھرتی کئیے اور ان کو *جہاد*  کے ذریعہ شہادت کی سہولت اور روزگار مہیا کیا ۔۔ ان کی فیملیز کو شہریت بھی عطا کی اور پینشن و امداد ۔۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود ۔۔۔۔ اس مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں اتنی نوکریاں بنائیں ۔۔پاکستان اور افغان کو سلیمانی کا شکر گزار ہونا چاہئیے ۔۔ جہاد سے واپسی پر یہ لوگ افغانستان اور پاکستان میں فرقہ واریت کا خاتمہ کر سکیں گے .. کتنی اچھی بات ہے ، آپ کو سمجھ نہیں آتی اور  امریکی پٹھو موت پر خوش ہو رہے ہیں ۔۔ یہ بری بات ہے ۔۔

7۔ اپنے ملک سے باہر افواج بھیج کر جنگ کرنا صرف امریکہ اور مغرب کی اجارہ داری کو چیلنج کیا ۔۔ کہ ایک  مسلمان ممالک بھی یہ کام کرسکتا ہے ۔۔ یمن ۔۔ عراق، شام ۔۔ کے بعد اسلام کے بڑے مقدس مقامات کی حفاظت کرنا بھی  ہے ۔۔

 کشمیر،  روہنگیا ، چین ، آنڈیا میں مسلمانوں پر جبر ہو رہا ہے ۔۔ ہم مداخلت نہیں کرتے کہ آخر دوسرے مسلمان ممالک بھی کچھ کریں ثواب حاصل کریں  ۔۔ ہم نے صرف مڈل ایسٹ کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔۔ سمجھے! 

8۔ اب  ایرانی خطرہ کی آڑ میں امریکہ روس ، (اسرائیل  خفیہ) اور مغرب اپنا اسلحہ اور فوج عرب ممالک میں بھیجتے ہیں  مال کماتے ہیں ۔۔ یہ مقصد جنرل سلمانی کا نہ تھا ۔۔ اب انسان سب کچھ کنٹرول تو نہیں کرسکتا ۔۔

  1. القدس بریگیڈ .. فرقہ وار نہیں سب  مسلمانوں کو دعوت عام ہے مگر صرف ایک خاص مسلک کے  لوگ ہی آتے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں – کہتے ہیں کہ کشمیر ، انڈیا ، رہینگیا ، چین میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کی مدد کیوں نہیں کرتے … ارے بھئی  کیا ہم نے سب کا ٹھیکہ لے رکھا ہے باقی مسلمان ممالک بھی ثواب کمائیں ، پھر کہو گے کہ سب کچھ سلمانی کر گیا … ہم مشرق وسطی میں مصروف ہیں .. فلسطنیوں کی مدد کرتے ہیں جو کہ سنی ہیں … ہم ذرا مسلمانوں کو ٹھیک کر لیں پھر سب سے نپٹ لیں گے –

9۔ ہم امریکہ کی جارحانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک پرامن جنرل کو جو ان کو فائدہ ، جواز، دیتا رہا ، بزدلی سے ڈرون حملہ میں شہید کردیا ۔۔ بحر حال دوسرا جنرل کام سنبھال کر امن کی کوشش جاری رکھے گا ۔۔سامراج کے خلاف ۔۔

….. Satire….

ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کے طور پر سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ملک کی سرگرمیوں اور عزائم کے منصوبہ ساز اور جب بات امن یا جنگ کی ہو تو ایران کے اصل وزیرِ خارجہ تھے۔

انھیں شام کے صدر بشارالاسد کی ملک میں باغیوں کے خلاف جنگ، عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے عروج، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے علاوہ اور بہت سے کارروائیوں کا معمار بھی سمجھا

ایران میں مقبولیت اور شہرت

وہ عموماً شہرت کی چکاچوند سے دور رہنے والی شخصیت سمجھے جاتے تھے تاہم حالیہ برسوں میں وہ کھل کر سامنے آئے جب انھیں ایران میں ان کی داعش کے خلاف کارروائیوں کی بدولت شہرت اور عوامی مقبولیت ملی۔

وہ شخص جنھیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے، دستاویزی فلموں، ویڈیو گیمز، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع بن گئے۔

عراق کے شیعہ ملیشیا جنگجوؤں کی جانب سے تیار کردہ ایک میوزک ویڈیو ایران میں بہت زیادہ پسند کی گئی جس میں سپاہیوں کو دیوار پر جنرل سلیمانی کی تصویر سپرے سے پینٹ کرتے اور اس کے سامنے پریڈ کرتے دکھایا گیا جبکہ ان مناظر کے پس پردہ جذباتی موسیقی شامل کی گئی تھی۔

ساتھ ہی جنرل سلیمانی کا ایران کے خارجہ امور میں کردار مزید ابھر کر سامنے آیا۔ وہ اب فون لائن کی دوسری طرف پائے جانے والے ایک چھپی ہوئی شخصیت نہیں تھے۔

2013 میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ سلیمانی ’مشرقِ وسطیٰ میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔‘

بی بی سی فارسی کی ایک دستاویزی فلم کے لیے ایک انٹرویو میں عراق میں سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے بھی کہا تھا کہ جنرل سلیمانی کا بغداد مذاکرات میں اہم کردار تھا۔

رائن کروکر کے مطابق انھوں نے جنرل سلیمانی کے اثرو رسوخ افغانستان میں بھی محسوس کیا تھا جب وہ بطور امریکی سفیر افغانستان میں تعینات تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ‘افغانستان کے حوالے ایران میں میرے باہمی میل جول کے لوگوں نے مجھ پر واضح کیا کہ وہ وزارت خارجہ کو مطلع رکھیں گے، آخرَکار وہ جنرل سلیمانی ہی تھے جنہیں فیصلے لینے تھے۔’

کرشماتی شخصیت کے مالک سمجھے جانے والے جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ان کے شخصیت کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کرتی تھیں۔

غریب گھرانے سے قدس فورس کی کمان تک

62 سالہ قاسم سلیمانی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انھوں نے واجبی سی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی لیکن پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت کے بعد وہ تیزی سے اہمیت اختیار کرتے گئے۔

1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں قاسم سلیمانی نے اپنا نام بنایا اور جلد ہی وہ ترقی کرتے کرتے سینیئر کمانڈر بن گئے۔

1998 میں قدس فورس کے کمانڈر بننے کے بعد سلیمانی نے بیرونِ ملک خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اتحادی گروہوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور ایران سے وفادار ملیشیاؤں کا ایک نیٹ ورک تیار کر لیا۔

کہا جاتا ہے کہ اپنے کریئر کے دوران قاسم سلیمانی نے عراق میں شیعہ اور کرد گروپوں کی سابق آمر صدام حسین کے خلاف مزاحمت میں مدد کی جبکہ وہ لبنان میں حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کے بھی مددگار رہے۔

2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انھوں نے وہاں سرگرم گروپوں کی امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں رہنمائی بھی کی۔

انھیں اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی۔ ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد نے ہی بشارالاسد کو باغی فوج کے خلاف جنگ میں پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔

قاسم سلیمانی کو خود کئی بار ایسے ایرانی افراد کے سفرِ آخرت میں شریک دیکھا گیا جو شام اور عراق میں مارے گئے تھے۔

اپریل 2019 میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے قاسم سلیمانی کی قدس فورس اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا اور الزام لگایا کہ قدس فورس لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین اسلامک جہاد سمیت ایسے گروہوں کی مشرقِ وسطیٰ میں مدد کے لیے ایران کا بنیادی ڈھانچہ ہے، جنھیں امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور یہ فورس انھیں مالی مدد، تربیت، ہتھیار اور آلات فراہم کرتی ہے۔

اپنے بیان میں امریکی محکمۂ دفاع نے قاسم سلیمانی کا نام لے کر کہا کہ وہ ’عراق اور پورے خطے میں امریکی سفارتی عملے اور امریکی فوجیوں پر حملوں کے منصوبے بنانے میں سرگرم رہے ہیں۔‘

ایران اور امریکہ کے تعلقات امریکہ کی جانب سے ایران اور عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے تنزلی کا ہی شکار ہیں اور ان کی موت ایران اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان جاری بڑے بحران میں ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس قدم پر ردعمل آنا یقینی ہے اور اس سے حالات مزید خراب ہوں گے اور یہ خطہ ایک مزید خطرناک راہ پر چل سکتا ہے۔


Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: