(فرنٹ لائن کے محافظ !! (سید بدر سعید

قربانیوں کی قیمت نہیں لگتی اور جذبے خریدے نہیں جاتے ۔ قوموں پر اچھا برا وقت آتا رہتا ہے لیکن تاریخ سب کو یاد نہیں رکھتی ۔ دس بیس سال زیادہ زندہ رہنے کا لالچ اپنے وقت کی بڑی دستاروں کو بھی تاریخ کے باب سے اٹھا کر گمنامی کی دلدل میں پھینک دیتا ہے جبکہ محض چند برس جینے والے آنے والی نسلوں کے لئے ہیرو کا درجہ پا کر تا قیامت زندہ رہتے ہیں ۔ بہادروں کے یہاں زندگی کا معیار الگ ہوتا ہے ۔ وہ محض پچاس ساٹھ سال کی زندگی پانے کے لئے اپنی غیرت اور حب الوطنی کا سودا نہیں کرتے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ کا اپنا ایک نظریہ ہے اور مورخ اپنے وقت کے لوگوں کی سوچ کو پیمانہ نہیں مانتا ۔ اپنے دور میں بہت سے لوگوں نے میر جعفر اور میر صادق کو درست سمجھا ہو گا جن کے بروقت فیصلوں نے نہ صرف ان کی جان بچائی بلکہ نئے حاکموں سے اعزازات کا حق دار بھی قرار دیا لیکن سچ یہ ہے کہ مورخ نے جب بھی ان کا نام لکھا تو ساتھ غدار کا لفظ ضرور لکھا جبکہ میدان جنگ میں شہادت پانے والے ٹیپو سلطان کو آج بھی بہادری اور غیرت مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔

یہ لازم نہیں کہ بہادری کے اعلی کارنامے سر انجام دینے والے اعلی عہدوں پر ہی فائز ہوں ، ہمارے یہاں پولیس اہلکاروں نے بہادری کے جو کارنامے سر انجام دیئے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ ہماری ہی گلی محلوں سے نکلنے والے لڑکے پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد کسی ناکے پر ڈاکوئوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ معاشرے نے آج تک انہیں وہ مقام نہیں دیا جو زندہ قومیں اپنے شہدا کو دیتی ہیں ۔ یہاں نہ تو پولیس یادگاروں پر شہریوں کی جانب سے پھول رکھے جاتے ہیں ، نہ محکمہ پولیس کے سوا کوئی ان ہیروز کی تاریخ شہادت یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی کوئی شمع جلانے یا فاتحہ پڑھنے آتا ہے ۔ ہر روز لاہور مال روڈ پر موجود یاد گار شہدا کو دیکھ کر خاموشی سے گزرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ پنجاب بھر میں ایسے کئی بورڈ نصب ہیں جن پر کسی شہید ہیرو کا نام درج ہے لیکن وہاں بال کھولے رونے والی یا تو اس کی ماں بہن ہے یا پھر بیوہ ہوتی ہے ۔ عام شہریوں کو شاید ابھی تک علم ہی نہیں ہو پایا کہ بحثیت شہری ہم نے اپنے شہدا اور ان کے اہل خانہ کو کیسے احترام دینا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ لوگوں کو پولیس سے بہت سی شکایات ہیںلیکن یہ بھی سچ ہے کہ پولیس کو بھی شہریوں سے بہیت سی شکایات ہیں ۔ ٹریفک وارڈنز کا شکوہ ہے کہ کاغذات نہ رکھنے والا ڈرائیور بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے کسی نہ کسی سے تعلقات کی دھونس جمانے کی کوشش کرتا ہے ۔کڑی دھوپ میںلب سڑک ناکے پر کھڑے ا ہلکاروں کو گلہ ہے کہ ہر روز وہاں سے گزرنے والوں میں سے کسی نے کبھی ان کی جانب مسکرا کردیکھا تک نہیں ۔ عبادت گاہوں کے باہر ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کبھی کسی نمازی یا امام مسجد نے اپنی دعا میں یہ نہیں کہا کہ’’ مسجد کے باہر ڈیوٹی دینے والے اہلکار کی مشکلات بھی حل ہوں‘‘ ۔ عیدکے روز یہی اہلکار سب کو دوسروں سے گلے ملتے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کیا وہ مسلمان نہیں کہ نظر انداز کئے گئے ۔ محرم میں جتنا خطرہ کسی بھی عقیدت مند و ہوتا ہے اس سے زیادہ خطرہ چیکنگ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر محکمہ میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں لیکن ہم چند افراد کی وجہ سے ایماندار اور محنتی لوگوں کی ساکھ پر انگلی نہیں اٹھا سکتے ۔ کرائم آبزرور کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ صوبے بھر میں دہشت گردی ، لاقانونیت اور جرائم پیشہ افراد کے سامنے پہلی حفاظتی لائن پنجاب پولیس کی ہی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنی جانیں قربان کر کے بھی ان لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کی ہے جو انہی پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔ پنجاب پولیس کے اہلکار یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس صوبہ کے عوام کی حفاظت کے لئے جتنی قربانیاں انہوں نے دی ہیں اتنی کسی نے نہیں دیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر باقی صوبوں کے پولیس افسران و اہلکاروں کی شہادتیں بھی شامل کر لی جائیں تو یہ تعداد کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا شکوہ ہے کہ ان کی قربانیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں حالانکہ وہ کسی بھی مرحلے پر پیچھے نہیں ہٹے۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ پاک فوج نے فاٹا اور سرحدی علاقوں میں ایک بڑی جنگ لڑی ہے لیکن جو جنگ شہروں اور دیہاتوں میں لڑی گئی اس میں پنجاب پولیس کے اہلکار ہی پہلا دفاعی لائن ثابت ہوئے ہیں ۔

 (سید بدر سعید )

https://www.naibaat.pk/Columnist/12

https://www.naibaat.pk/24-Jun-2019/24205

Advertisements