امریکہ نے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا،مالی امداد کرنیوالوں کا بھی احتساب کیا جائے :پاکستان

blog-tampletes

امریکہ کی جانب سے بلوچستان لبریشن آرمی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے سے بھارت کو سخت مایوسی ہوئی کیونکہ اسکی خفیہ ایجنسی را ہر لحاظ سے اس تنظیم کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے ۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا یہ اقدام یقیناً پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے کہا ہے کہ را بلوچستان لبریشن آرمی کو بھارت اور افغانستان میں ٹریننگ دے رہی ہے ، آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ یہی لوگ بلوچستان پر کوئی بڑی کارروائی کر کے حکومت کو نقصان پہنچائیں ۔پروفیسر اجے کمار شرما کے مطابق بھارت کی دو ریاستوں اُترپردیش اور چھتیس گڑھ میں تین ٹریننگ کیمپوں میں بلوچستان لبریشن آرمی کے لوگوں کو تربیت دی جا رہی ہے جبکہ افغانستان کے مختلف صوبوں میں بھی ٹریننگ کیمپ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہی معاملات کو بہتر بنا سکتا ہے ، اس وقت بھارت میں انتہا پسندوں کی حکومت ہے جو اس خطے کی سلامتی کے لئے بڑا رسک ہے ۔جونز ہاپکنز یونیورسٹی سے منسلک جاش وائٹ نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان حالات سازگار نہیں ، پاکستان معاشی کفایت شعاری اپنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے سول حکومت پر دبائو بڑھے گا، اس سال تو نہیں مگر اگلے سال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر آئرین نوویرو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا ابھی پاکستان کی بعض مذہبی سیاسی جماعتیں، مدرسوں میں انتہا پسند تیار ہورہے ہیں جب تک ان پر بھی پابندی عائد نہیں کی جاتی، پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے ۔

*امریکہ نے بی ایل اے BLA کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا،مالی امداد کرنیوالوں کا بھی احتساب کیا جائے :پاکستان*
امریکہ نے پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیدیا

*پاکستان نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ بی ایل اے کو فنانس اور سپورٹ کرنے والوں کو بھی احتساب کے دائرے میں لا کر انصاف کیا جائے*

تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے بی ایل اے کو دہشتگرد قرار دینے کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کردیا، کالعدم جنداﷲ، جیش العدل اور فدائین اسلام کو بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، ان دہشت گرد تنظیموں کے امریکہ میں تمام اثاثے منجمد کر دیئے گئے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی شہریوں پر ان تنظیموں سے کسی قسم کے لین دین پر پابندی ہو گی۔
محکمہ خارجہ کے مطابق کالعدم بی ایل اے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے ، بی ایل اے مسلح علیحدگی پسند گروپ ہے جو سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے ،امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کی جانب سے گزشتہ سال پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے کیے گئے ، بی ایل اے نے اگست 2018 میں بلوچستان میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا، نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا اورمئی 2019 میں گوادر میں ایک ہوٹل پر حملہ کیا۔
پاکستان اور برطانیہ پہلے ہی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں اور حکومت پاکستان طویل عرصے سے امریکہ سے بھی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کر رہی تھی،بی ایل اے کے سربراہ حربیار مری ہیں جبکہ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ
*بی ایل اے پاکستان میں 2006 سے کالعدم جماعت تھی جس نے ملک میں بہت سے دہشتگرد حملے کئے ، امید ہے اس فیصلے سے بی ایل اے کی کارروائیوں میں کمی آئے گی ، یہ اہم ہے کہ اس تنظیم کو فنانس کرنے ، سپانسر کرنے اور اس کی حمایت کرنے والے جو پاکستان میں دہشتگردی کو سپورٹ کررہے تھے کا بھی احتساب کیا جائے گا اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا*


امریکہ نے پاکستان کی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث بلوچستان لبریشن آرمی کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی دیگر تنظیموں میں کالعدم جند اللہ ‘ جیش العدل‘ فدائین اسلام بھی شامل ہیں۔ پابندی کے اس اعلان کے بعد امریکی شہری ان تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان نے امریکی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ بی ایل اے کی پاکستان میں تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی آئے گی۔ پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ بی ایل اے کی مالی امداد کرنے والوں کا بھی احتساب کیا جائے۔ بی ایل اے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ہے جو بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ بی ایل اے بلوچستان میں گیس پائپ لائنیں اڑانے ‘ سکیورٹی اہلکاروں پر حملے‘ ریلوے ٹریک پر بم لگانے اور ملکی و غیر ملکی افراد پر حملوں میں ملوث ہے۔ بی ایل اے 2006ء سے بلوچستان میں کارروائیاں کر رہی ہے اگست2018ء کے دوران اس تنظیم نے بلوچستان میں کام کرنے والے چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا۔ اس تنظیم نے نومبر 2018ء میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا جبکہ حالیہ برس مئی میں گوادر میں ایک فائیو سٹار ہوٹل کو ہدف بنایا۔ پاکستان امریکہ سمیت عالمی برادری کو یہ باور کراتا رہا ہے کہ وہ ایک پرامن ملک ہے اور عالمی امن کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کر رہاہے۔ امریکہ کی پاکستان کے متعلق حکمت عملی گزشتہ بیس سال کے دوران تبدیل ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگرچہ امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں مگر اس جنگ کے نقصانات مقامی سطح پر تنہا پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی تباہی کے علاوہ ایک نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کے سامنے پہلے قوم پرستی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے جو چیلنجز تھے ان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عنصر بھی آملا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرے جو افغانستان میں اتحادی فورسز کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ امریکہ کا دبائو اس قدر شدید تھا کہ بسا اوقات قوم پرستی کے نام پر تخریبی کارروائیاں کرنے والے بے خوف معلوم ہوتے۔ پھر امریکہ کی نئی حکمت عملی میں افغان معاملے میں بھارت کا اثرورسوخ اہم قرار پانے لگا۔ بھارت نے خطے کے بڑے تنازع میں خود کو تعمیر نو کے کاموں تک محدود رکھا‘ بتدریج اس نے اپنے کردار کوتبدیل کیا اور پھر افغان سرزمین کو پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ بھارت نے جن تنظیموں کی مالی اور سٹریٹجک مدد کی ان میں سے ایک بلوچستان لبریشن آرمی ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت خود کو عالمی تنازعات سے دور رکھ کر بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ چند ہفتے قبل وزیر اعظم عمران خان کی بشکیک میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ صدر پیوٹن نے وزیر اعظم عمران خان کو کھلے دل سے پیشکش کی کہ وہ جس طرح کا اسلحہ چاہیں روس دینے کو تیار ہے۔ اس موقع پر عمران خان نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت بڑھانے کا کہا۔ حالیہ برس کے لئے وفاقی بجٹ میں مسلح افواج کے لئے اضافی رقم نہیں رکھی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے رضا کارانہ طورپرفوج کا بجٹ نہ بڑھانے کی درخواست کی تھی۔وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف دونوں اس امر پر متفق نظر آتے ہیںکہ پاکستان کو تنازعات میں الجھنے کی بجائے اپنی معاشی و سماجی ترقی پر توجہ دینے اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان خطے کے امن کے لئے بھارت سے مذاکرات کی متعدد پیشکشیں کر چکا ہے۔ پاکستان کی بھر پور کوششوں اور تنازعات کو پرامن طریقوں سے طے کرنے کی خواہش کے راستے میں وہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو بھارت جیسے ہمسایوں کی مدد سے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ حالیہ پاک افغان کرکٹ میچ کے دوران پوری دنیا یہ دیکھ کر رنجیدہ ہو گئی کہ سٹیڈیم کے اردگرد ایک جہاز پر پاکستان مخالف بینر لہرایا جا رہا تھا۔ لندن کی میٹرو ٹرین پر بلوچستان کی علیحدگی کے حق میں کچھ عرصہ قبل اسی طرح کے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ ایسی ہی مذموم مہم سوئٹزر لینڈ میں بھی شروع کی گئی۔ بلوچ علیحدگی پسند پہلے دن سے پاکستان مخالف طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ مطالبہ قطعی مناسب اور درست ہے کہ بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں پر پابندی کا اعلان کافی نہیں بلکہ اس تنظیم کی معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی موثر کارروائی کی جانی چاہیے۔ امکان ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بیس جولائی سے اپنا پہلا امریکی دورہ شروع کریں گے۔ یہ دورہ پاک امریکہ تعلقات کے ضمن میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ کو افغان تنازع کو حل کرنے کے لئے پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ سفارتی لحاظ سے متحرک ہو کر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یقینا امریکی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان کی سلامتی کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں وزیر اعظم عمران خان صدر ٹرمپ سے ان پر بات کر سکتے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بی ایل اے چونکہ پاکستان اور ایران دونوں کے علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ اس کو دہشت گرد قرار دے کر ایران کے خلاف نئی کارروائی کاجواز پیدا کیا جا رہا ہو ،تاہم سردست پاکستانی نقطہ نظر سے یہ ایک اہم سفارتی کامیابی ہے جسے دانش مندی سے استعمال کیا جائے تو پاکستان بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمہ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ امریکہ ایسی دوسری تنظیموں کے خلاف بھی اسی روح کے ساتھ فیصلے کرے گا جو پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔
Shared via https://Defenders.home.blog

Advertisements