افغانستان میں پاکستان کے خلاف جذبات کیوں ؟ Why some Afgans hate Pakistan

افغانستان جانے اور خاص کر کابل میں چند دن قیام کا موقعہ ملے تو پاکستانیوں کو شدید حیرت ہوتی ہے کہ ہر کوئی پاکستان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ بچے جو پاکستان میں پلے، بڑھے، پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ، ڈاکٹریٹ، انجینئرنگ جیسی اعلیٰ ڈگریاں لیں، وہ بھی پاکستان کے مخالف ملیں گے ۔ اس کی وجوہات پر جامع اور غیر جانبدارانہ ریسرچ کرانے کی ضرورت ہے۔ ہم تو اس ایشو کو صحافیانہ انداز ہی میں دیکھ سکتے ہیں، طائرانہ نظراور تین چار موٹی موٹی باتیں، جن سے منظر کچھ واضح ہوجائے۔ میرے نزدیک یہ بات تو درست ہے کہ افغانستا ن میں پاکستان مخالف جذبات شدید ہیں، کابل اور چند دیگر بڑے شہروں میں یہ معمول سے کچھ زیادہ ہوسکتے ہیں۔ایسا مگر صرف اس لئے نہیں کہ’’ پاکستان طالبان کی حمایت کر رہا ہے اور ماضی میں روس کے خلاف افغانستان میں جو وار تھیٹر چلتا رہا، اس میں پاکستان کا مرکزی کردار تھا، افغانستان ان جنگوں میں تباہ ہوا اور اسی وجہ سے وہاں کے لوگ پاکستان مخالف ہیںوغیرہ وغیرہ۔ ‘‘ یہ بیانیہ درست نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ادھورا سچ ہوسکتا ہے، وہ بھی پچاس فیصد سے کم۔ افغانستان نے پہلے دن سے پاکستان کی مخالفت کی، 72 برس پہلے نوزائیدہ پاکستان نے کون سا افغان طالبان کی حمایت کر ڈالی تھی ؟ یا اس وقت افغانستان میںمسلح جدوجہد شروع کرائی ؟ ظاہر ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ افغانستان کی حکومتوں اور اشرافیہ نے خواہ مخواہ پاکستان کے ساتھ تلخی پیدا کئے رکھی اور بھارت کے ساتھ اتحاد بنایا۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔ افغانستان نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔بلوچستان آپریشن سے فرار ہونے والے باغیوں کو پناہ اور سپورٹ فراہم کی۔ پاکستان میں پختونستان کا فتنہ کھڑا کیا، دھماکے اور مسلح کارروائیاں کرائیں۔ یہ سب اس وقت ہوا ، جب ابھی پاکستان نے افغانستان میں معمولی سی مداخلت بھی نہیں کی تھی۔ہمارے بہت سے دانشور، صحافی سٹریٹجک ڈیپتھ(Strategic Depth)کی اصطلاح پر تنقید اور اس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ پاکستان نے سٹریٹجک ڈیپتھ کے نام پر افغانستان میں مداخلت کی اور یوں مسائل پیدا کئے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ بھارت تھا جس نے افغانستان کے ساتھ جوڑ توڑ کر کے پاکستان کی مغربی سرحد غیر محفوظ بنائی ۔ پاکستان نے جو کیا اسے کائونٹر سٹریٹجک ڈیپتھ کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بعض سیکولر دانشور اسلامسٹوں کو تہذیبی نرگسیت کا شکار کہتے ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو افغان عوام اس نرگسیت کا بہت زیادہ شکار ہیں۔ ویسے تو یہ نرگسیت جنوبی ایشیا میں عام ملے گی۔پاکستان میں بھی ہے، مگر افغان اپنے تمام تر مسائل، کمزوریوں، غربت، تباہ حالی کے باوجود خواہ مخواہ کے احساس برتری سے سرشار ہیں۔دیگر عوامل بھی کارفرما ہوں گے، مگر اسی تہذیبی نرگسیت نے بھی افغانوں کو پاکستان کے ساتھ غیر ضروری، غیر منطقی سرد جنگ ، پنجابی محاورے کے مطابق اِٹ کھڑکا لگائے رکھنے پر آمادہ رکھا۔ ایک فیکٹر روس کے خلاف افغان جہاد یا تحریک مزاحمت بھی ہے۔ اس میں افغان عوام کے بہت بڑے حصے نے شرکت کی۔ یہ جنگ کئی سال تک چلی، حتیٰ کہ 88ء میں روس افغانستان چھوڑ کر چلا گیا، تاہم اگلے چار برسوں تک روس کا پروردہ افغان جنرل نجیب کابل پر قابض رہ کر کسی نہ کسی طرح حکومت چلاتا رہا۔اس تمام جنگ میں افغانوں کا ایک حصہ ایسا تھا جس نے دل وجاں سے روس کے ناجائز قبضے کو تسلیم کیا، پہلے ببرک کارمل اور بعد میں جنرل نجیب کی حکومتوں کا حصہ رہا۔ ان میں سوشلسٹ سوچ رکھنے والے سرفہرست تھے، مگر موقعہ پرستوں کی بھی کمی نہیں تھی، بدنام زمانہ ازبک کمانڈر رشید دوستم بھی انہی میں شامل تھا۔ یہ سب پاکستان کو اپنا دشمن نمبر ایک سمجھتے تھے۔ آج بھی یہ موجود ہی ہیں، ہوا میں تحلیل تو نہیں ہوئے۔ 92ء سے 96 ء تک کے چار سال افغانستان میں خانہ جنگی کے بدترین ایام تھے۔ کوئی مستحکم حکومت بن نہ پائی، کابل میں حکمت یار اور احمد شاہ مسعود برسوں ایک دوسرے پر گولے، راکٹ برساتے رہے، جہاں جس کا بس چلا ، اس نے حکومت بنا لی۔پاکستان نے مذاکرات اور مصالحت کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایک بار تو مکہ مکرمہ میں امن معاہدہ ہوا کہ حرم پاک میں کئے عہد کی پاسداری کی جائے گی۔ اس معاہدے کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ حکمت یار پاکستانی اداروں سے نسبتاً زیادہ قریب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل اختر عبدالرحمن حکمت یار کی جنگجوانہ صلاحیتوں کے قدردان تھے۔ احمد شاہ مسعود اور دیگر حکمت یار مخالف کمانڈر یہ الزام لگاتے تھے کہ پاکستانی ادارے حکمت یار کو زیادہ سپورٹ کر رہے ہیں۔ ان چار برسوں میں افغان کمانڈرآپس میں لڑتے رہے، ملک کھنڈر بنا دیا مگر اپناقصور ماننے کے بجائے اس کی ذمہ داری بھی وہ پاکستان پر عائد کرتے رہے۔ مزے کی بات ہے کہ حکمت یار کی حامی جماعت اسلامی کو شکوہ ہے کہ پاکستانی اداروں نے حکمت یار کو دھوکہ دیا۔ بہرحال یہ سب لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان نے اگرچہ افغان جہاد میں بے پناہ قربانیاں دیں، مگر جن کے لئے دیں، وہ اس طرح سے خوش نہیں ہوئے ،جیسا ہم آج توقع کرتے ہیں۔ ایک فیکٹر افغان مہاجرین ہیں۔ کئی ملین افغان پاکستان میں دس پندرہ برس رہے، لاکھوں تو تیس چالیس سال سے یہاں ہیں۔ بہت سے افغان مرد واپس چلے گئے، مگر بیوی بچے پاکستان میں رہے، ہزاروں ، لاکھوں کا ایک گھر افغانستان جبکہ دوسرا پاکستان میں ہے۔ کسی بھی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں مہاجر آجائیں تو بے شمار مسائل پیدا ہوجاتے ہیںجنگی معاشرے کی اخلاقیات مختلف ہوتی ہے۔ اس زمانے میں اسلحہ اور ہیروئن کی بے پناہ سمگلنگ ہوئی۔ پاکستانیوں نے ہیروئن اور کلاشن کوف افغان مہاجرین کے طفیل دیکھی۔ پاکستانی سماج میں بہت سے مسائل پیدا ہوئے۔ پشاور جو ہندو اکثریت کا شہر تھا، اس میں افغان مہاجرین کی وجہ سے آبادی کا تناسب بدل گیا، بہت کچھ اور بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ افغان محنتی قوم ہے، اس نے پاکستانی معیشت میں خاصی جگہ لے لی۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ بزنس میں چھا گئے، لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بے شمار کاروباری مراکز ان کے ہیں۔پاکستان میں دانشوروں، تجزیہ کاروں کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کو روس کے خلاف افغان جنگ کا حصہ بننے کا نقصان ہوا۔ اگر شامل بھی ہوئے تھے تو افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود رکھتے ۔ ہمارے حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے مگر ایسا ہوا۔ ایران میں اس کے برعکس کیا گیا۔ انہیں ہمیشہ کیمپوں تک محدود رکھا گیا، وہیں پر سکول، ڈسپنسریاں وغیرہ بنیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوافغان مہاجرین یہاں پر رہے، یہاں سے فوائد، ثمرات سمیٹے، ان میں بھی بہت سی شکایات، مسائل ، تلخیاں موجود ہیں۔ کسی کو یہ شکوہ کہ ہمیں ہر جگہ مہاجر کہتے رہے، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے زیادہ بڑی قربانی دی جبکہ ہمیں سہولتیں اتنی نہیں ملیں۔ سب سے زیادہ یہ منفی خیال کہ پاکستان نے ایسا کیا تو اس کے بدلے اربوں ڈالر بھی لئے۔ حالانکہ وہ اربوں ڈالر جنگ لڑنے کے لئے ملتے رہے اور افغانستان میں ، افغان کمانڈروں پر زیادہ تر خرچ ہوئے۔ بسا اوقات ایک خاص بیانیہ مقبول ہوجاتا ہے، پاکستانی لیفٹ نے افغان جہاد کی مخالفت میں یہ بیانیہ تخلیق کیا ،بعض ناراض افغان مہاجرین اسے ہی استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ میں نے لفظ بعض استعمال کیا ہے، سب نہیں۔ سب سے بڑا فیکٹر افغان طالبان ہیں۔ افغانستان میں نائن الیون کے بعد سے جو حکومتیں قائم ہوئیں، وہ طالبان مخالفوں پر مشتمل ہیں، بنیادی طور پر یہ طالبان مخالف تاجکوں، ازبکوں اور ہزارہ اور طالبان مخالف پشتونوںپر مشتمل ہے۔یہ سب اس شمالی اتحاد کا حصہ تھے جوافغان طالبان کی حکومت (1996-2001) میں تہس نہس کر دئیے گئے۔ان دنوں افغانستان کا صرف تین چار فیصد علاقہ ان کے پاس تھا، پنج شیر وادی اور شمالی افغانستان کے بعض علاقے۔ طالبان دور میں پاکستانی حکومت اور اداروں نے کھل کر طالبان کی حمایت کی اورتمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنے والی غلطی کر ڈالی۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ نے حملہ کیا تو پاکستان نے کوشش کی کہ معتدل طالبان کی صورت میں ایک گروپ بن جائے ، چاہے ملا عمر کی منظور ی سے بنے، مگر کچھ ایسا سیٹ اپ ہو جو امریکیوں کے ساتھ لڑنے کے بجائے مفاہمت کی راہ نکالے اور یوں آئندہ حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بنا رہے۔ طالبان نے بے لچک رویہ دکھایا، ایسی کوئی تقسیم نہ ہوسکی۔ طالبان حکومت ختم، ان کی تنظیم ملیا میٹ ہوگئی اور ساتھ ہی افغانستان میں پاکستان کی حامی لابی بھی سرے سے مٹ گئی۔ وہ تاجک، ازبک ، ہزارہ یا سیاف، حامد کرزئی جیسے پشتون کمانڈر جو ماضی میں پاکستان رہے، ہمارے اداروں کی مدد سے روس کے خلاف جنگ لڑی، وہ سب طالبان دور میں بھارت سے فنانس لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اب وہ بھارتی اتحادی بن چکے تھے۔ یوں افغانستان میں پچھلے سترہ اٹھارہ برسوں میں پاکستان مخالف افغان حکومت رہی ، وہاں کی اشرافیہ، میڈیا، لیڈر، کاروباری افراد، سرکاری ملازم سب ہی پاکستان کے مخالف تھے۔ا مریکیوں نے ہزاروں نوجوانوں کو سکالرشپس دے کر مغرب بھیجا اور انہیں سرکاری محکموںمیںمیں تعینات کیا۔یوں ایک پوری اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل اینٹی پاکستان جذبات کے ساتھ افغان معاشرے اور اپر کلاس، اپر مڈل ، لوئر مڈل کلاس میں موجود ہے۔ جو پاکستان کے حامی ہیں، وہ موجودہ افغان سیٹ اپ سے باہر ہیں، ان کی کوئی آواز میڈیا پر نہیں اور نہ ہی وہ افغان اربن سوسائٹی میں اس وقت قابل ذکر اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔ حالات اگر بدل گئے ، تب پاکستان کے لئے تصور بھی بدل جائے گا۔ جو پاکستانی حیرت سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے اتنی قربانیاں دیں پھر بھی افغان ہم سے نفرت کرتے ہیں،ایسا کیوں ؟ انہیں اوپر دئیے نکات سمجھ کر کچھ نہ کچھ بات سمجھ آ چکی ہو گی۔


پاکستان میں افغانستان مخالف جذبات کیوں نہیں؟

پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی زمین پر غزل کہی جا رہی ہے :

کیا معاملہ ہے افغانستان کے شہری ہم سے خفا ہیں؟

اس سوال کے جواب میں کچھ وہ ہیں جو اپنے خبثِ باطن میں پاکستان پر فردِ جرم عائد کر دیتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو برادرم عامر خاکوانی کی طرح درد مندی اور درد دل کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔میرا سوال مگر قدرے مختلف ہے۔سوال یہ ہے سارا مشاعرہ اس زمین پر کیوں؟ ایک غزل اس پر کیوں نہ ہو جائے کہ پاکستان کاشہری افغانستان کے بارے میں کیا سوچتا ہے ؟افغانوں کے سینے میں اگر دل ہے تو ہمارے سینے کیا سنگ مر مر کے بنے ہوئے ہیں؟ پاکستان معرض وجود میں آیا، افغانستان پڑوسی تھا، مسلمان بھی تھا لیکن اس نے کیا کیا؟ اقوام متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دے دیا۔ کیا کسی کو احساس ہے اس سے پاکستان پر کیا بیتی؟ پاکستان کے وجود کو سب سے پہلے کس نے تسلیم کرنے سے انکار کیا؟ افغانستان نے۔ پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے سب سے پہلی کوشش کہاں سے ہوئی؟ افغانستان سے؟ پاکستان کے خلاف پہلی فوج کشی کس نے کی؟ افغانستان نے۔ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کس نے کیا؟ افغانستان نے۔قائد اعظم محمد علی جناح کو بطور گورنر جنرل پاکستان پہلی دھمکی کس ملک کے سفیر نے دی؟ افغانستان نے۔پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کی ابتدا کس نے کی؟ افغانستان نے۔پاکستان میں دہشت گردی کے لے پہلا کیمپ کس حکومت نے قائم کیا؟ افغانستان نے۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ببرک کس ملک کا باشندہ تھا؟ افغانستان کا۔ پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد کس نے رکھی؟ افغانستان نے۔ پاکستان کے خلاف پہلی دہشت گرد تنظیم’’ پشتون زلمے‘‘ کس کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی؟ افغانستان کی۔ بلوچستان میں شورش اور بغاورت کا سرپرست کون تھا؟ افغانستان۔پاکستان کے علاقوں کو الگ ریاست بنا کر اس کی اسمبلی ، اس کا پرچم تک کس ملک میں تیار ہوا؟ افغانستان میں۔ پاکستان کے ایک صوبے کو پشتونستان ملک قرار دے کر اس کا پرچم اپنے قومی پرچم کے ساتھ کون لہراتا رہا؟ افغانستان ۔یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کس ملک میں ہوا؟ افغانستان میں۔ اس سب کے باوجود جب افغانوں نے ہجرت کی تو پاکستان نے دل کھول کر اپنے مسلمان بھائیوں کو خوش آمدید کہا۔یہ محض ریاستی فیصلہ نہ تھا۔ یہ سماج کا فیصلہ بھی تھا اور پورا معاشرہ چشم ما روشن دل ما شاد کی تصویر بن چکا تھا۔ یہاں کسی نے نہیں سوچا کہ تحریک خلافت میں جب جب ہجرت کی گئی اور مسلمان افغانستان گئے تو وہاں ان کے ساتھ ، ان کے مال و دولت کے ساتھ اور ان کی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ، سب کچھ بھلا کر لوگوں نے افغان بھائیوں کو خوش آمدید کہا۔ مطالعہ پاکستان پر یہاں پھبتی کسی جاتی ہے لیکن ہم نے تو مطالعہ پاکستان میں بھی تحریک خلافت کا ذکر کرتے ہوئے اس وحشت اور درندگی کا ذکر نہیں کیا جس کا سامنا ہمارے بزرگوں کو افغانستان میں کرنا پڑا۔ہمارے مطالعہ پاکستان نے جب بھی افغانستان کا ذکر کیا یہی بتایا کہ وہ برادر اسلامی ملک ہے۔ پاکستان میں جہاں مرضی چلے جائیے آپ کو افغان شہری کاروبار کرتے نظر آئیں گے۔ ہر شہر کی ہر مارکیٹ میں یہ لوگ بیٹھے ہیں اور بعض جگہوں پر تو مقامی تاجروں کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں۔ لیبر میں یہ ہیں، دکانیں ان کی ہیں ، پلازے بنا کر بیٹھے ہیں، کپڑے کی مارکیٹوں پر ان کی اجارہ داری ہے۔ہمارے گائوں میں ایک چاچا شیر خان ہوتا تھا۔ سائیکل پر کپڑے بیچتا تھا پھر سرگودھا کی مارکیٹ پر ان کی اجکارہ داری بھی ہم نے دیکھی۔ ان کی اہلیہ ہماری خالہ ہوتی تھیں۔ ایک لمحے کو بھی احترام میںکمی آئی نہ یہ خیال گزرا کہ یہ لوگ پرائے ہیں۔لیکن آپ بتائیے کیا کسی غیر پشتون پاکستانی کے لیے افغانستان میں کاروبار کرنا تو دور کی بات ہے چائے کا ایک ڈھابا بنانے کی بھی گنجائش ہے؟قوم پرستی کا آزار لر میں بھی ہے اور بر میں بھی۔ کابل کو تو چھوڑیے، حیات آباد اور کارخانہ مارکیٹ میں کوئی پنجابی تاجردکھا دیجیے۔ہمیں تو گھروں میں بتایا جاتا ہے پٹھان بہادر ہوتا ہے ، پٹھان مہمان نواز ہوتا ہے ۔ میرے چونکہ بہت سے پٹھان دوست ہیں اور بہت پیارے دوست اس لیے مجھے خوب معلوم ہے ان کے گھروں میں پنجابی کو کن الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایپی فقیر افغانستان کی شہہ پر پاکستان سے لڑتے رہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ خدائی خدمت گار والے لوگ جو عدم تشدد کے پیروکار ہیں ان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف اس لڑائی میں شریک رہے۔لیکن پاکستان نے ہمیشہ صرف نظر کیا ۔ ایپی فقیر طبعی موت مرے۔ آج بھی ان کا ایک عمومی احترام ہے۔ ان کی بغاوت کبھی زیر بحث ہی نہیں آئی۔ پاکستان کے دارالحکومت میں شاہراہ کشمیر اور آئی جے پی روڈ کو ملانے والی اہم ترین سڑک کا نام ایپی فقیر روڈ ہے۔ قوم پرستی کے آزار کو کبھی ہم نے نہیں اوڑھا ، دوسری جانب مگر ایسا خوفناک احساس برتری ہے کہ کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔کوئی ایک کمانڈر بتائیے جو افغانستان سے ہمارے ہاں آیا ہو اور بربادی کی داستانیں نہ چھوڑ گیا ہو۔ہم اپنے نصابوں میں احمد شاہ ابدالی سے لے کر نادر شاہ تک ہر اس شخص کو ہیرو بنا کر بیٹھے ہیں جو برصغیر لوٹنے آتا تھا اور اپنے پیچھے بربادی چھوڑ جاتا تھا کہ چلو مسلمان تو تھے ۔ہمارے ساتھ انہوں نے جو بھی کیا اس پر مٹی پائو۔ کو۔ دوسری جانب احساس برتری مگر تھمنے ہی میں نہیں آتا۔ دو طرفہ تجارت کے مذاکرات اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کہ افغانستان کہتا ہے بھارت کو شامل کرو ورنہ ہم بھی نہیں آ رہے۔باہم مل کر رہنا ہے تو ہر دو اطراف کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا ہو گا۔معاملہ محض اتنا نہیں کہ مستحکم پاکستان کے لیے مستحکم افغانستان ضروری ہے ، معاملہ یہ بھی ہے کہ مستحکم افغانستان کے لیے مستحکم پاکستان بھی بہت ضروری ہے۔احساس ذمہ داری میں پاکستان خاموش رہ کر قوم پرستوں  کی جلی کٹی سنتا رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا مقدمہ کمزور ہے۔ آصف محمود


 کرکٹ میچ کے موقع پر جو کچھ برطانیہ میں ہوا ،اس کے بعد ہم پاکستانی پرانے زخم چاٹنے لگ گئے ہیں۔ مگر کم ہی ہیں جو معاملے کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھ سکیں۔ شعوری اور لاشعوری دونوں طور پر ہم اس بات کو نہیں بھول پا رہے کہ افغانستان کا علاقہ مغل سلطنت کا حصہ تھا۔(قندھار مغلوں اور ایرانیوں کے درمیان وجہ نزاع رہا) مگر ہم یہ بھول جاتے ہیںکہ برٹش عہد میں جب برما اور سری لنکا سمیت پورا جنوبی ایشیا ایک وحدت میں پرو دیا گیا‘ افغانستان اس وحدت کا کبھی بھی حصہ نہ بنا۔ مسلسل کوشش کے باوجود برطانوی ہند‘ افغانستان کو اپنی کالونی نہ بنا سکا۔ افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کی ذمہ داری اس فضا پر ہے جو باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے تیار کی تھی۔ کس کو برا لگتا ہے کہ ساتھ والی زمین مل جائے یا ساتھ والے ملک کا ایک علاقہ! افغانستان کو امید تھی کہ نوزائدہ مملکت پاکستان اپنی اکائیوں کو متحد نہیں رکھ سکے گی اور اونٹ کا نچلا ہونٹ گر پڑے گا۔ یوں پختون علاقے افغانستان میں شامل ہوجائیں گے۔ افغان حکومت باچا خان اور ان کے ہم نوائوں کی مکمل حمایت کر رہی تھی۔ بہت سے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو بھی نہیں معلوم کہ افغانستان دو حصوں پر مشتمل ہے جنوب اور مشرق پختونوں کی اکثریت پر مشتمل ہے۔ شمال اور مغرب ازبکوں ‘تاجکوں‘ترکمانوں اور ہزارہ اکثریت پر! موجودہ افغانستان کو احمد شاہ ابدالی نے 1747ء میں ایک الگ ریاست کے طور پر تشکیل دیا۔ اس وقت سے لے کر 1979ء کے سوویت حملے تک، افغانستان کے پیش نظرپر پختون چھائے رہے۔ احمد شاہ ابدالی سے لے کر ظاہر شاہ تک تمام بادشاہ درانی تھے یا بارکزئی بعد میں بھی سردار دائود خان ‘ نور محمد ترکئی‘ حفیظ اللہ امین، نجیب اللہ‘ صبغتہ اللہ مجددی سب پختون تھے۔ ببرک کارمل بھی والدہ کی طرف سے پختون ہونے کا مدعی تھا۔ برہان الدین ربانی تاجک فغانستان کے پہلے غیر پختون حکمران تھے۔ روسی حملے کے بعد ازبک اور تاجک جنگ جوئوں نے اپنے آپ کو نمایاں کیا۔ پختونوں کے مقابلے میں شمال کے غیر پختون تعلیم‘ صنعت و حرفت زراعت اور بیرونی دنیا سے روابط کے حوالے سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ غیر پختونوں کا پیش منظر پر چھا جانا، پختونوں نے اپنے روایتی اقتدار کے لئے چیلنج سمجھا۔ ہم افغان طالبان کو لاکھ اسلامی احیا کی عینک سے دیکھیں، شمالی افغانستان کے لئے یہ ایک نسلی تحریک ہے جو پختونوں کی بلا شرکت غیرے حکمرانی ہی ہے۔ کابل کے لئے احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار کی باہمی لڑائی۔ پختون اور تاجک لڑائی تھی ورنہ کیا احمد شاہ مسعود پابند صوم و صلوٰۃ نہ تھا؟ بدقسمتی سے پاکستان نے اپنا سارا وزن طالبان کے پلڑے میں ڈال کر شمال کے غیر پختونوں کو اپنا دشمن بنا لیا ،یہ ایک ناہموار‘ ٹیڑھی، غیر متوازن اور غیر متعادل خارجہ پالیسی تھی۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی اتحاد کا جھکائو بھارت کی طرف ہو گیا۔ بھارت ہمیشہ سے افغانستان کی پاکستان مخالف پالیسیوں کی پشت پر تھا۔ چنانچہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی قربت راس آئی دشمن (پاکستان) ایک ہی تھا! طالبان پر صدقے واری ہونے کے بجائے اگر پاکستان متوازن پالیسی اپناتا اور شمالی اتحاد اور طالبان دونوں کو اپنی ڈپلومیسی کے طلسم کا اسیر کرتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ رہا اہل پاکستان کا یہ طعنہ کہ افغان مہاجرین خیمے میں اونٹ بن گئے ہیں تو اس میں کس کا قصور ہے؟ ضیا پسند حلقے ‘ ملک کے بجائے ضیاء الحق کے عہد حکومت کے زیادہ وفادار ہیں۔ سوویت یونین کے مقابلے میں افغان مزاحمت کی مدد پر کسی کو اعتراض نہیں۔ اعتراض صرف یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور ان کے حامیوں نے پاکستانی سرحد کو برباد کر کے رکھ دیا۔ پاکستانی ویزے کی اس قدر بے حرمتی ہوئی کہ عملی طور پر پاکستان کو افغانستان کا حصہ بنا کر رکھ دیا گیا۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے مطبوعہ مضامین گواہ ہیں کہ غیر پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر ملک میں لایا جاتا اور چھپا چھپا کر رکھا جاتا۔ اس اندھی بہری پالیسی کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ افغان مہاجرین پر ضیاء الحق کی حکومت نے پاکستان کی تجارت‘ جائیداد ‘ ملازمتوں اور شہریت کے دروازے کھول دیے۔ ہر شعبے میں انہوں نے مقامی لوگوں کو کہنیوں سے پیچھے دھکیلا اور آگے ہو گئے۔ مہاجرین کو کیمپوں میں رکھنے کے بجائے پورے ملک میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت دے دی گئی۔ آج ہم کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین نے اٹک میں مقامی دکاندار کو قتل کر دیا اور لاہور کی مارکیٹ میں واحد مقامی دکاندار کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مگر یہ نہیں پوچھتے کہ بازاروں اور مارکیٹوں میں انہیں دکانیں کھولنے کی اجازت کس بدبخت‘ ملک دشمن نے دی تھی اور کیوں دی تھی؟ روڈ ٹرانسپورٹ پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ وفاقی دارالحکومت کے دائیں بائیں ترنول اوربارہ کہوجیسی سینکڑوں آبادیاں پورے ملک میں افغانوں سے اٹی پڑی ہیں یہ سب پاکستان کی اپنی پالیسیاں ہیں۔ اس میں افغانوں کا کیا قصور ہے؟ آج اگر چینی یہاں جائیدادیں خرید رہے ہیں، اگر چینیوں کے ویزے چیک نہیں کئے جا رہے‘ اگر وفاقی دارالحکومت میں ان کی گاڑیوں کے کاغذات تک نہیں دیکھے جا رہے اگر عربوں کو کھلی چھٹی ہے کہ ہمارے صحرائوں میں دندناتے پھریں، ہمارے قیمتی پرندوں کی نسلوں کی نسلیں ختم کر دیں اور ہماری عزت تک داغدار ہونے کی خبریں پھیل جائیں تو اس میں چینیوں اور عربوں کا کیا قصور ہے؟ ہمارا اپنا احساس کمتری ہمیں ہر غیر ملکی کے سامنے دستہ بستہ کھڑا کر دیتا ہے! ’’افغان بھگائو‘ ملک بچائو‘‘ کی تحریک ضرور چلائیے مگر پہلے اپنی چارپائی کے نیچے بھی ڈانگ پھیر لیجیے اور یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ان مہاجرین کے نام پر ہم نے فنڈ کہاں کہاں سے اور کتنے لئے؟ جذبات کی نہیں ‘ حقائق پر غور کرنے کی ضرورت ہے! جس ملک میں چند سکوں کے عوض غیر ملکیوں میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ تھوک کے حساب سے بانٹے جائیں، جس ملک میں نادرا جیسے حساس محکموں میں بھی غیر ملکیوں کو ملازمتیں دے دی جائیں اس ملک کے باشندوں کو سارا الزام دوسروں پر نہیں دھرنا چاہیے: دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

اظھار الحق

https://roznama92news.com/

Advertisements