’’پشتون تحفظ موومنٹ ‘‘دشمن کا ایک نیا ہتھیار Pashteen PTM

آج سے چند سال قبل وزیر ستان میں ہر آدمی کے پاس کلاشنکوف تھی، چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں طالبان نے اپنی ریاستیں قائم کر رکھی تھیں، ازبک دندناتے پھرتے تھے، تاجک، ترکمانی اور یمن کے لوگ جو طالبان سے تعلق رکھتے تھے ان پشتونوں کی زمینوں پر قبضہ کیے ہوئے تھے۔ روزانہ درجنوں لوگ مارے جارہے تھے… دنیا جانتی ہے کہ پاک فوج نے ضرب عضب کے ذریعے ان طالبان کو پاک سر زمین سے مار بھگایا، پشتونوں کو ان کی زمینیں واپس دلائیں، تاکہ پاکستان اور خصوصاََ پشتون محفوظ رہیں اور ان پر کوئی آنچ آئے بغیر امن ہو جائے۔ دشمن کو یہ گوارہ نہ ہوا تو اس نے پاکستان کے اندر غداروں میں اضافہ کرنے کی ٹھانی اور پشتون کارڈ کھیلنے کا منصوبہ بنایا، اور ایک نئی تحریک ’’پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ کا آغاز کردیا۔ اس مذموم مقصد کے لیے ہمارا سب سے بڑا دشمن بھارت پیش پیش ہے جو پانی کی طرح پیسہ بہارہا ہے، جو پاکستان کے دریائوں پر قبضہ جما کر یہاں کی لہلاتی زمینوں کو بنجر کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ جو امریکا و اسرائیل سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ پاکستان کو کمزور کرنے کی شرط پر خریدتا ہے۔ جس کے بدلے میں امریکا و اسرائیل بھی بھارت کے تلوے چاٹتے نہیں تھکتے۔ اور امریکی بل بوتے پر ہی افغانستان میں بھارت 27سفارت خانے قائم کر چکا ہے جہاں دن رات پاکستان کو کمزور کرنے کی مہمات لانچ کی جاتی ہیں۔

ضرب عضب سے پہلے آسانی سے افغانستان سے طالبان پاکستانی علاقوں (خصوصاََ فاٹا ) میں آجاتے، تخریب کاری کرتے، لوگوں کو پاکستان مخالف کارروائیوں کی تربیت دیتے اور چلے جاتے۔ اس لیے وزیر ستان جہاں محسود قبائل اور وزیر قبائل آباد ہیں دنیا بھر میں دہشت گردی کے گڑھ کے طور پر جانا جانے لگا۔ ضرب عضب ہوا پاک فوج نے دشمن قوتوں کو نیست و نابود کر دیا… اور دشمن کے آگے پل باندھ دیے … دشمن نے پاکستان میں تخریب کاری اور شورش پیدا کرنے کے لیے متبادل طریقے تلاش کرنے شروع کردیے اور پشتونوں کے ہاتھوں وزیر ستان سے پیدا ہونے والی مذکورہ تحریک کو لانچ کر کے ایک نئے خطرے کو جنم دے دیا۔

اس کے لیے پاکستان بھر میںبھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ، افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس، موساد اور سی آئی اے بھی پیش پیش ہیںجو اس موومنٹ کو نہ صرف سپانسرکر رہے ہیں بلکہ پاک فوج کے خلاف گھنائونی سازشیں بھی کر رہے ہیں۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اسے وائس آف امریکا، بی بی سی، ریڈیو ڈویچے، وائس آف جرمنی، نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ جیسے بڑے غیر ملکی انٹرنیشنل پریس اوراین جی او تھنکرز اور پاکستانی میڈیا میں چند ادارے جن پر پہلے ہی غداری کے مقدمات درج ہیں اسے اس قدر پروموٹ کررہے ہیں جیسے ’’گریٹ گیم‘‘ کا آغاز ہو رہا ہو!اس گیم میں بادی النظر میں وہ شخصیات بھی ملوث ہیں جنہیں رول ’’ماڈل‘‘ کے طور پر پاکستان بھیجا جاتا ہے، جو تعلیم عام کرنے جیسے نعرے کے ساتھ پاکستان آتی ہے ، لیکن پوشیدہ عزائم سے کوئی واقف نہیں، وہ بھی شخصیات اس کھیل میں شامل ہیں جو پاکستان کے حساس موضوعات پر ڈاکیومنٹریاں بنا کر ایوارڈ وصول کرتی ہیں، لیکن حیرت ہے انہیں پاکستان میں کوئی مثبت کام بھی نظر نہیں آتا۔ ان کے ساتھ ساتھ اس کھیل میں وہ شخصیات بھی شامل ہیں جنہیں یہاں صحافتی ذمہ داریوں سے اُٹھا کر اعلیٰ عہدوں پر نوازا گیا ہے۔

اس بھرپور گیم میں ڈھکے چھپے الفاظ میں پاک فوج کو اس کا مورد الزام ٹھہرا یا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی حال ہی میں ملکی سکیورٹی اداروں نے جنوبی وزیرستان میں چھاپہ مار کارروائی کرکے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پکڑا تو حیرانگی اسوقت ہوئی جب انکے (TTP) ساتھ امریکی سی آئی اے اہلکار اور ’’را‘‘ کے اہلکار بھی پکڑے گئے ۔ جو سادہ لوح اور محب وطن پختون عوام کو ریاست پاکستان کے خلاف گمراہ کرتے، پیسوں کا لالچ دیتے اور انہیں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں استعمال کرتے رہے ۔ اب جبکہ ’’پشتون تحفظ موومنٹ ‘‘کو لانچ کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے خطیر رقم بھی غیر ملک سے اپنوں کے ذریعے فراہم کردی گئی ہے، بلکہ نوائے وقت کے ایک سینئر رپورٹر کی خبر کے مطابق ’’حال ہی میں موومنٹ کیلئے بیرون ملک سے ایک ملین ڈالر بھجوائے جانے کا سراغ لگایا گیا ہے۔ غیر قانونی ذرائع سے بھاری رقوم کی ترسیل کا عنصر ہی شکوک کو ہوا دینے کیلئے کافی ہے۔ اب تک کی چھان بین کے مطابق مذکورہ رقم سمیت بعض دیگر رقوم کی فراہمی میں ان معروف قوم پرست رہنمائوں اور ایک دینی شخصیت کو بھی استعمال کیا گیا ہے جنہیں ایسے امور سر نجام دینے کا تجربہ ہے۔ ایک مد میں رقم کابل اور دوسری مد میں رقم لندن سے بھجوائی گئی۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے قائد منظور پاشتین نیک نیتی سے قبائلی پشتونوں کو درپیش مسائل منظر عام پر لانے کیلئے اٹھا تھا۔ اس کے عام سے رہن سہن اور کھاتوں میں اب تک کوئی فرق نہیں پڑا لیکن جیسا ماضی میں ہوتا آیا ہے ،نادیدہ ہاتھوں نے ، اس تحریک کا رخ موڑ دیا ہے۔ بات شروع ہوئی تھی نقیب محسود کے بہیمانہ قتل سے لیکن رائو انوار نے خود کو سپریم کورٹ کے حوالے کر دیا اب یہ معاملہ عدالتوں میںزیر سماعت ہے۔ تحریک اب اس نہج پر چل پڑی ہے جہاں ممکن ہے منظور پاشتیں خود کو بے بس سمجھے۔تحریک کے ابتدائی مطالبات منظور ہونے کی پیشرفت کے بعد اصولاً اس تحریک کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی۔نئے ایشو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ‘‘

ریاستی دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنے والے یہ لوگ اپنے آپ کو پر امن کہتے ہیں جنہیں یہ بھی خطرہ ہے کہ ان کے حقیقی عزائم کہیں آشکار نہ ہو جائیں اس لیے فی الوقت یہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ میرے چند سوال ہیں ان کے ساتھ کہ …کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ وزیر ستان سے ہی پورے ملک میں دھماکے کروائے جاتے تھے، یہیں سے پورے پاکستان میں ٹی ٹی پی کو مضبوط کیا جا رہا تھا۔ جب ان کو یہاں سے نکالا گیا تو انہوں نے مخصوص لوگوں کو ساتھ ملایا اور اُن پشتون کو ساتھ ملانے کا تہیہ کیا جو پاکستان میں پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ …کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ ایک وہ بھی وقت تھا جب یہ لوگ طالبان کے ہاتھوں مارکھا کر لاشیں چننے لگے تھے۔مشیران قتل ہونے لگے تھے۔ گھروں سے جنازے نکلنے لگے۔ مسجد اور حجرے خودکش دھماکوں کی نذر ہوگئے تھے۔ ایک سازش کے تحت سکولوں کو تباہ کیا جانے لگا تھا، سکولوں میں طلباء کی جگہ طالبان نے پناہ لے رکھی تھی۔ …کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ نقیب اللہ محسود کے قتل پر پورا پاکستان سراپا احتجاج بن گیا تھا، اور سپریم کورٹ ہی کی بدولت رائو انوار اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ اور رائو انوار نے اگر 4سو سے زائد لوگوں کو پولیس مقابلے میں مارا ہے تو اُن میں سے کم و بیش 1فیصد بھی پشتون نہیں ہونگے! کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ پاکستان کے 30فیصد کاروبار میں پشتون شراکت دار ہیں۔ کیا کراچی، کیا لاہور، کیا اسلام آباد، کیا پشاور ، کیا کوئٹہ ، کیا فیصلہ آباد، گوجرانوالہ الغرض پورے پاکستان میں کیا پشتون پرامن طریقے سے کاروبار نہیں کررہے؟ …اور کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ پاکستان کے کس علاقے میں پشتون کو کاروبار نہیں کرنے دیا جارہا، یا نوکری نہیں کرنے دی جارہی، یا کہیں یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں مل رہا؟

خدارا اپنے ملک پر مر مٹئے مگر دشمنان پاکستان کے ہاتھوں میں کھلونا نہ بنیں… آج وزیر ستان میں موجود بارودی سرنگوں اور چیک پوسٹوں کی تکلیف کسی اور کو نہیں بلکہ انہی دشمن قوتوں کو ہے جو پہلے کی طرح آسانی سے پاکستان میں اپنے قدم جمانا چاہتی ہیں۔جبکہ اب پاک فوج ان کے ناپاک عزائم سے پوری طرح باخبر ہے۔ پاک فوج یہ بھی جانتی ہے کہ ملک دشمنوں نے اس بار پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے لیے منظور پشتین کو چنا ہے جو سادہ اور عام زبان میں لوگوں کے سامنے اپنا سینہ چیر کر ایک ہی لکھی لکھائی تقریر دہراتا ہے۔ جسے سن کر ایسا لگتا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان سے بڑا پشتونوں کا کوئی دشمن نہیں… منظور پشتین کو تکلیف یہ ہے کہ اب پاک فوج کی وجہ سے دشمن ملک سے آنے والے ڈالر بند ہوگئے ہیں۔ اس لیے وہ بھارتی ایماء پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بیانات دے رہا ہے اس کی سب سے بڑی مثال بی بی سی پر اس کا انٹرویو موجود ہے جسے خاصا پروموٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ جس میں اُس نے پاک فوج کے خلاف باتیںبھی کی ہیں؟ کیا ایسے شخص کا تعلق پاکستان سے ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں!

بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے پشتون سماج کے اندر بڑے پیمانے پر جہادی اور انتہا پسند مدرسوں اور تنظیمی نیٹ ورک پر مشتمل ریڈیکل تکفیری یا جہادی آئیڈیالوجی کے حامل مراکز اور ان کے بڑے بڑے ناموں کو ساتھ ملانا شروع کردیا ہے اس لیے ان کے جلسے جلوسوں میں جہادی ریڈیکل گروپ نمایا ںنظر آتا ہے۔ خیر جو بھی ان جلسے جلوسوں میں شامل ہو، یہ سب کا جمہوری حق ہے، مگر یہ خیال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا اس حق کا کہیں ہم غلط استعمال تو نہیں کر رہے ؟ یا کہیں اسے ملک دشمنی کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟ اگر ہمیں یہ شعور آجائے کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے نتیجے میں دیے جانے والے اسلام آباد دھرنے میں اس قدر اخراجات یہ غریب قبائلی کیسے اُٹھاسکتے ہیں؟ یا ان کو فنڈ کون فراہم کررہا ہے اور یہ بھی شعور آجائے کہ ملک دشمن قوتیں کس طرح پاکستان کو غیر مستحکم کر رہی ہیں اور ہم ان کا حصہ بننے کے بجائے مقابلہ کریں گے تو یقیناپاکستان آگے بڑھے گا اور دشمن منہ کے بل زمین پر ہوگا!!!

محمد اکرم چودھری  https://www.nawaiwaqt.com.pk/19-Apr-2018/807853


وزیرستان کلیئر ہونے سےاورکرپٹ پولیس کی بجائے فوجی چیک پوسٹیں بننے سےکیا ہوا؟

* اغوابرائے تاوان کے واقعات ختم۔
*نو خیز بچوں کو اغوا برائے حرامزدگی کا مکروہ دھندہ ختم۔
* انسانی اعضاء کی سمگلنگ ختم۔
* اغوا کر کے علاقہ غیر لیجا کر جبری مشقت لینا ختم۔
* گاڑی چرا کر یا چھین کر میرانشاہ لیجا کر مالک سے رقم وصولنے کا دھندہ ختم۔
*میرانشاہ میں چوری شدہ گاڑیوں کے پارٹس کا دھندہ ختم۔
* ڈرگ سمگلنگ کمی۔
* غیرقانون اسلحے کی سمگلنگ ختم۔
* کپڑا اور الیکٹرانک اشیاء بغیر کسٹم ادا کئے پولیس کو رشوت دے کر سمگلنگ ختم۔
مذکورہ بالا دھندے پشتون عوام کے تو تھے نہیں۔
یہ سارے دھندے داوڑوں، وزیروں، محسودوں، ملکوں، بھٹنیوں اور انہی خنزیروں کے تھے جو آج سادہ ترین قوم پشتون کو ورغلا کر اپنے دھندے پھر سے بحال کرنے کیلئے بھونک رہے ہیں۔
اور دنیا جانتی ہے کہ یہ سارے دھندے کسی سیاستدان نے نہیں ہماری پاک فوج نے ہی تو ختم کئے ہیں۔
اور ہاں بوسنیا، چیچنیا، فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان، لبیا، شام، یمن اور برما میں مسلمانوں پر ڈھائ جانے والی قیامت پر خاموش رہنے والا ایمنسٹی اور سارا مغربی میڈیا چیک پوسٹ پر ہوئے حملے کی انکوائیری کا مطالبہ بھی کررہا ہے اور نام نہاد پی ٹی ایم کا بیانیہ بھی پروموٹ کررہا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے افواج پاکستان بالکل درست سمت جا رہی ہے اور پشتون عوام کو پاک آرمی کا ساتھ دینا چاہئے۔


بیت اللہ محسود کا دور تھا…..

بقول بیت اللہ محسود کے ، فوج کبھی بھی ان علاقوں میں نہیں آسکتی۔۔۔۔!

سوات وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقے اب طالبانوں کے مظبوط مرکز بن چکے تھے۔۔

پھر ایک خطرناک دور شروع ہوا ، شریعت کے نام پر طالبانوں نے مختلف علاقوں میں اپنے امیر بٹھا دئیے، سکولوں کو بند کر کے اسلحہ ساز کارخانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ تعلیم حاصل کرنا جرم کرنے کے برابر ٹھرا ۔۔ اسلام کا نام استعمال کر کے مخالفین کو ذبیح کرنا معمول بن گیا تھا۔ دہشتگرد زبردستی لوگوں کی بیٹیوں سے نکاح کرتے ، یاد رھیے انکار کی سزا موت تھی ۔

طالبانوں کے خلاف جب نفرت بڑی تو ایک خوفناک طریقہ اپنایا گیا۔ دہشتگرد جسے چاہتے گولی مار کر لاش سڑک پر پھینک دیتے ، بازاروں میں لٹکتی لاشیں اب معمول بن چکی تھیں ۔ غضب کی بات یہ ہے کہ اب لاشوں کے ساتھ ایک چٹ بھی لکھی جاتی جس پر علاقے کے امیر کا حکم درج ہوتا کہ یہ لاش چار دن یا پانج دن بعد سڑک سے اٹھائی جائے ۔ جو مقررہ دن سے پہلے لاش اٹھاتا اگلے دن اس کی لاش بھی پڑی ہوتی ہے۔

اس دور میں سوات کا گرین چوک لاشوں کے حوالے سے بہت مشہور ہوا ، جسے لوگ بعد میں خونی چوک کہنے لگے۔ دہشتگردوں کی ایک مخصوص گاڑی ہوتی تھی جو جس کو ایک دفعہ اٹھا لیتی پھر اس کی لاش گرین چوک میں ہی لٹکتی ملتی۔ آپ ذرہ ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے آپ سوات کے گرین چوک پر کھڑے ہیں ، ۔ آپ کے گھر کے کسی فرد کی لاش آپ کے سامنے لٹک رہی ہے۔
لاش کے ساتھ چپکی چٹ پر لکھا ہے کہ اس کافر کی لاش کو پانچ دن تک ہاتھ تک نہ لگایا جائے۔۔۔

ذرہ تصور کیجئے کتنا دردناک لمحہ ہوتا ہے آپ کا اپنا بے گناہ مارا گیا ، آپ خوف کے مارے اس کی لاش کو بھی نہیں گھر لے جاسکتے ۔۔۔۔۔!!!
ذرہ سوچئیے یہ کیسی شریعت تھی جس میں لوگوں کی بیٹیوں کو گھروں سے اٹھا لانا جائز تھا؟؟؟

اب یہ دہشتگردی پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی۔ مسجدوں ،مدرسوں سرکاری عمارتوں پر دھماکے معمول تھے۔ کے پی کے اور بلوچستان تو مکمل پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی دہشتگردی ملک کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی تھی۔

پھر حالات بدلے فوج ان دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں آئی ۔۔۔فوج نے اپنے پندرہ ہزار جوانوں کی قربانی دی ۔۔ ہزاروں فوجی عمر بھر کے لیے معذور ہوئے۔ پاک فوج کے جوانوں کو اغواہ کیا جاتا۔۔۔انکی لائیو ویڈیو بنائی جاتی۔۔۔۔۔۔ایک جوان کو سب باندھے ہوئے جوانوں کے سامنے چھری سے اللّه اکبر کہہ کر ذبح کیا جاتا۔۔۔۔وہ ذبح کئے ہوۓ جانور کی طرح خراٹے مارتا۔۔۔۔اسکا سر تن سے جدا کیا جاتا ۔۔۔۔۔پھر ناچتے ہوۓ اس کے سر سے فٹ بال کھیلا جاتا۔۔۔۔ذرا اپنے آپ کو ان جوانوں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔۔۔۔۔کیا ایسے میں انکو بیوی بچوں کی یاد نہیں آئی ہو گی۔۔۔۔۔وہ جنگ جسے جیتنا محض خواب تھا، فوج نے وہ جنگ جیتی۔اپنی جانیں قربان کر کے۔۔۔۔۔۔۔

سوات کے خونی چوک کو دوبارہ امن چوک بنایا۔ وہ علاقے جہاں لٹکتی ہوئی لاشیں ملتی تھیں ، ان کو پرامن علاقہ بنایا۔ وزیرستان اور سوات کے علاقوں میں کیڈٹ کالج بنائے ۔ وہ سکول جو دہشتگردوں کے اسلحے کے کارخانے تھے ، دوبارہ تعلیمی مرکز بنائے ، تمام قبائلی علاقوں کو پرامن ماحول فراہم کیا۔۔

اب ایک دفعہ پھر کچھ لوگ جو عام لوگوں کے روپ میں انہی کے گماشتے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔۔۔۔مسنگ پرسن واپس کیے جائیں۔۔۔۔ارے بھائی وہ جنکا رونا تم رو رہے ہو۔۔۔۔۔۔وہ فوج کے ساتھ جنگ کرتے ہوۓ اپنے انجام تک پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔باقی افغانستان بھاگ گئے ہیں جاؤ انکو منا کر واپس لاؤ۔۔۔ ہمیں نہ آپس میں لڑواو ۔۔۔۔۔ انکے نام پر قومیت کا چورن نہ بیچو۔۔۔۔۔خدارا ہم پشتونوں پر رحم کرو ۔۔ ہم دوبارہ اپنے پیاروں کی لاشیں سڑکوں پر پڑی نہیں دیکھنا چاہتے ۔ہم نہیں چاہتے دوبارہ ہماری بیٹیوں کو جہاد کے نام پر گھروں سے اٹھا لیا جائے۔۔ اگر یہ چیک پوسٹیں ختم کر دی گئیں تو بارڈر کے پار افغانستان میں موجود درندے ہمیں نوچ ڈالیں گے ۔

بقلم : ایک پشتون


 ے .. 1971 والے طریقہ واردات اپنائے ہوئے ایک  جعلی فوجی کو شانگلہ سے گرفتا کر لیا گیا ۔

پی ٹی ایم جعلی فوجی کی وڈیو پھیلاتے پکڑی گئی۔

اب PTM نے بنگلادیش والا کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے۔ سن 1971 میں بنگال میں مکتی باہنی کے روپ میں چھپے انڈین را کے ایجنٹوں نے پاک فوج کی وردیاں پہن کر نہ صرف بنگالیوں کو قتل کیا بلکہ بنگالی لڑکیوں کا ریپ بھی کیا تاکہ بنگالی پاک فوج سے نفرت کرکے ان کے خلاف ہتھیار اٹھالیں اور آزادی کا مطالبہ کریں۔

اب PTM کے دہشتگرد بھی پاک فوج کی وردیاں پہن کر سوشل میڈیا پر بیان جاری کرکے بلکل بنگال والا کام کر رہے ہیں۔ انہیں یہ طریقہ بتانے والا انڈیا ہی ہوسکتا ہے کیونکہ انڈیا یہ کام بنگال میں کامیابی سے سرانجام دے چکا ہے۔

اس بیان کو اگر کوئی ان پڑھ معلوماتی جنگ سے لاعلم پشتون سنے گا تو لازمی بہک جائے گا، پاک فوج کو ظالم، قاتل اور کفار کی فوج سمجھنے گا اور عین ممکن ہے پروپیگنڈے کا شکار ہوکر ہٹھیار اٹھاکر فوج پر حملہ ہی کردے۔

یہ طریقہ بڑا خطرناک ہے، بنگال میں اسی پروپیگنڈہ وار کی وجہ سے ہماری فوج کو جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا جسکا نقصان بنگال کی علیحدگی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔

منظور پشتین کون؟ Manzoor Pashteen Kon?

Advertisements