پشتون ، افغان اور باچا خان کا بیانیہ

پختون قوم سے تعلق رکھنے والے سابق سربراہ آئی ایس آئی کا افغان نیشنل ازم کا چورن بیچنے والی پی ٹی ایم کو منہ توڑ جواب، کہتے ہیں کہ افغانستان میں پشتون ہیں تو وہاں تاجک اور ازبک بھی ہیں، کیا وہ ازبکستان اور تاجکستان کیساتھ مل جائیں؟ کیا یوں پاکستانی سندھی اور پنجابی ہندوستانیوں کیساتھ اور بلوچی ایرانیوں کیساتھ مل جائیں؟۔
تفصیلات کے مطابق پختون قوم سے تعلق رکھنے والے سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ احسان الحق کی جانب سے افغان نیشنل ازم کا چورن بیچنے والی پی ٹی ایم کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے انٹریو میں سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ احسان الحق نے پی ٹی ایم کے افغان قوم پرستی کے پراپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر پشتون افغان نہیں ہو سکتا۔

افغانستان میں صرف پختون قوم آباد نہیں ہے۔ افغانستان میں تاجک اور ازبک بھی آباد ہیں۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ احسان الحق کہتے ہیں کہ تاریخ کو آپ اپنی مرضی کے تحت نہیں بنا سکتے۔ افغانستان کی تاریخ صرف تب شروع نہیں ہوتی جب وہاں پشتون آباد ہوئے۔

پشتونوں کے آباد ہونے سے قبل بھی افغانستان موجود تھا۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ احسان الحق مزید کہتے ہیں کہ افغانستان میں تاجک اور ازبک بھی آباد ہیں تو کیا وہ بھی تاجکستان اور ازبکستان کیساتھ مل جائیں؟

یوں پاکستان میں بھی سندھی اور پنجاب موجود ہیں جبکہ بھارت میں بھی سندھی اور پنجابی قوم موجود ہے، تو پاکستان اور ہندوستان کے پنجاب اور سندھی بھی مل جائیں؟

یوں ہی پاکستان میں بھی بلوچی موجود ہیں اور ایران میں بھی بلوچی موجود ہیں، تو کیا پاکستان اور ایران کے بلوچی بھی مل جائیں؟ سابق سربراہ آئی ایس آئی کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
عرب بھی ایک نسل ہیں ایک قوم ہیں، تاہم وہ 13 مختلف ممالک میں آباد ہیں۔ اور تمام عرب اپنے اپنے ممالک سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ وفادار ہیں۔

پشتون اور افغان

پشتون کا سب سے پرانا مستند حوالہ 2500 سال قبل ہیروڈوٹس نامی یونانی سیاح کی کتاب میں ملتا ہے۔ بلکہ اس نے چند پشتون قبائل کا بھی ذکر کیا۔

اور انہی علاقوں میں جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔

اس نے کہیں “افغان” کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

پشتون کا دوسرا حوالہ سکندر اعظم کے مورخین کی کتابوں میں ملتا ہے تقریباً 2300 سال قبل کا۔ بلکہ اس نے پشتونوں کے یوسفزئی اور آفریدی قبائل کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

وہ بھی انہی علاقوں میں جن کو آج پاکستان کہا جاتا ہے۔

اس نے بھی افغان کا کہیں تذکرہ نہیں کیا۔

پھر تقریبا 1800 سال قبل ایک لفظ “ابگان” شاہ پور نامی فارسی بادشاہ نے استعمال کیا موجودہ افغانستان میں رہنے والوں کے لیے جس کے بارے میں شک ہے کہ شائد یہ لفظ بعد میں “افغان”بنا۔

درحقیقت لفظ “افغان” محض چند سو سال پرانا ہے۔ کچھ کا دعویٰ ہے کہ محض تین سو سال پرانا۔

اگر شاہ پور بادشاہ والا حوالہ ہی درست مان لیا جائے تو بھی “ابگان” کسی نسل کا نام نہیں تھا بلکہ مختلف قومیتوں پر مشتمل ایک مخصوص علاقے میں رہنے والے لوگ تھے۔ جن میں پختون، فارسی بان، ہزارہ حتی کہ ترک اور کچھ عرب بھی شامل تھے۔

آج بھی افغان کسی نسل کا نام نہیں بلکہ مختلف قومیتوں پر مشتمل ایک علاقے میں آباد لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں پختون، تاجک اور ہزارہ وغیرہ شامل ہیں۔

البتہ پشتون یا پختون ایک نسل کا نام ہے۔ جس کے مستند تاریخی حوالے دستیاب ہیں۔

پشتون کی تاریخ ہے اور کم از کم ڈھائی ہزار سال پرانی۔

پشتونوں کو افغانوں کی نسل ماننا اور افغان کو 5000 سال پرانا ماننا ایک عقیدہ ہے جس کی بنیاد علم غیب پر  ہے 🙂

کیونکہ نہ اس کا کوئی مستند حوالہ موجود ہے اور نہ کسی بھی طرح اس کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔

ویسے اگر ایک لمحے کے لیے افغان کو بھی نسل مان لیا جائے تو یہ پشتونوں کی کوئی بگڑی ہوئی شاخ کہلائے جاسکتے ہیں جن میں کچھ دوسری قومیتیں بھی مل گئیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

ہم نسلاً پشتون ہیں۔ کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔

لیکن آج پاکستان اور پاکستانیت ہماری شناخت ہے۔

پاکستان ہی پشتونوں کی تاریخ کا سب سے بڑا اور طاقتور ملک ہے جس پر پشتون حکومت کر رہے ہیں۔

ہمیں پشتون اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

تحریر شاہد خان

نوٹ ۔۔ پشتون آج سے نہیں بلکہ قیام پاکستان سے بھی پہلے اس بات کو گالی سمجھتے تھے کہ “الکا افغانے خو نہ ی؟”

پتہ نہیں کیوں ؟


باچا خان کا بیانیہ

نسلی و لسانی تعصب کی بنیاد پہ باچا خان نے جن نظریات کی ترویج کی اسے خود پشتونوں نے بھی خاص پذیرائی نہیں بخشی ۔۔۔ باوجود اسکے کہ باچا خان کے پیروکار سمجھتے ہیں کہ پشتون دنیا کی سب سے اعلی و ارفع قوم ہیں جو کہ حکمرانی کے لئِے دنیا میں اتارے گئے ہیں ۔۔ یہی وجہ ھے کہ فکر باچا خان سے متاثرہ خود کو پشتون پہلے مسلمان بعد میں سمجھتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ اسلام ایسے تمام بتوں کو ٹھوکر کی زد پہ رکھتے ہوئے کہتا ھے قبیلے صرف تعارف کے لئیے ہیں فضیلت کا معیار تقوی ہی ھے ۔۔

باچا خان کی زندگی ہی میں خیبر کے پشتونوں نے انکی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے پاکستان میں شمولیت اختیار کی ، پشتونوں کا لگایا ہوا یہ زخم باچا خان و پیروکار ابھی تک فراموش نا کرسکے ۔ یہی وجہ تھی کہ باچا خان نے اپنے لئیے مزار جلال آباد میں پسند کیا ۔

فکر باچا خان کے مزید ایک متاثر اجمل خٹک تھے جن کا دعوی تھا کہ وہ کابل سے ٹینکوں پہ سوار ہوکر اٹک تک کا علاقہ آزاد کرائیں گے یہ اور بات تھی کہ بعد میں اجمل صیب اپنی فکر و فلسفے سمیت مشرف کو ہی پیارے ہو گئے ۔

باچا خان کا المیہ بھی عجب رہا ۔

پشتون پاکستان کے حق میں تھے تو وہ کانگریس کیساتھ قدم سے قدم ملائے کھڑے تھے ۔سویت یونین نے افغانستان پر جارحیت کی تو غفار خان کمیونسٹوں کیساتھ اس بات کے منتظر تھے کہ کب روسی جہاز بحیرہ عرب میں اتریں اور انکے ناتمام خواب پورے ہوں ۔

امریکہ نے کابل پہ بارود کی برسات کی تو باچا خان کے پیروکار امریکہ کے ساتھ تھے۔ یاد رھے یہ وہی امریکہ تھا جسے خدائی خدمتگار کے پیروکار افغانوں کا قاتل کہتے تھے۔

انہی دنوں خان عبد الغفار خان کا پوتا واشنگٹن گیا اور اپنے سارے پاپ معاف کراتے ہوئے مور بی بی {محترمہ بیگم نسیم ولی خان } کے مطابق فقط 35 لاکھ ڈالرز میں پشتونوں کے خون کی قمیت لگائی اور بدلے میں صوبائی حکومت پاکر کرپشن کا بدترین بازار گرم کیا ۔

پاکستان توڑنے اور باچا خانی فکر کے لوگوں کی روس سے محبت و الفت کی داستان جاننے کے لیے بہتر ہوگا کہ اجمل خٹک اور دیگر باچا خانی پیروکاروں کے ساتھ کابل میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے جمعہ خان صوفی کی کتاب ” فریب ناتمام ” کا مطالعہ کرلیا جائے ۔

فکر باچا خان جسے اپنا نے کا مشورہ کچھ دوست دے رہے ہیں ،

وہ  بخوبی جانتے ہیں باچا خان نے اس ریاست کو تسلیم ہی کب کیا ؟؟؟؟

وہ ڈیورنڈ لائن کو ہی نہیں مانتے

انکے مطابق تو اس معاھدے کی رو سے اٹک تک کا علاقہ افغانستان کو دیا جائے۔

بھلا کوئی ذی ہوش یہ کرسکتا ھے ؟؟؟؟؟

سید مودودی کی تو خیر زندگی بھی طعنوں میں گزر گئی لیکن اصل بات تو یہ ھے کہ انکی زندگی میں کب ریاست نے انکا بیانِہ اختیار کیا ؟؟؟؟

ریاست اپنا بیناںِہ مفادات کے تابع ہو کر تشکیل دیتی ھے ۔ ویسے بھی اطلاعا عرض ھے اس بیانئیے کی ابتداء بھٹو نے کی تھی ۔ وجہ اسکی بھِی باچا خانی فکر کا توڑ تھا جو آزاد پشتنونستان کی تحریک کی صورت میں ہماری بنیادیں کھود کررہا تھا ۔

خیر ریاست کا اپنا بیانیہ ہوتا ھے جسے حسب ضرورت مذھب ۔۔۔۔ قوم ۔۔۔ سیکیولر ازم یا الحاد کا تڑکہ لگایا جاتا ھے ۔۔۔۔

سب جانتے ہیں کہ مشرف نے روشن خیالی و سیکیولر ازم کے بیانئیے کو ریاست کے لئیے پسند کیا کیونکہ وہ تب بھِی اور اب بھی ریاست کی ضرورت ھے ۔۔۔ تو کیا ہم کہیں گے کہ یہ سیکیولرازم کے اصلی و نسلی علماء سے پو چھا گیا ھے ؟؟؟

جواب یقینا نفی میں ہوگا کیونکہ ایک آدھ سیکیولر کو چھوڑ کر وطن عزیز کے سارے سیکیولر جعلی ہیں یا زیادہ سے زیادہ ردعمل میں لکھتے ہیں ۔ البتہ یہ ضرور ھے کہ اب انہیں غامدی صیب کی شکل میں ایک عدد اسلامی سیکیولر مل چکا اور اب اسلامی سیکیولرز مذھبی رنگ لئیے قوم کو حاکمیت کے باب میں گمراہ کر رھے ہیں ۔


ضیا شاہد اور سرحدی گاندھی

بھٹو نے  ولی خان اینڈ کمپنی پر غدار ی کا جوریفرنس قائم کیا، اس کی بنیاد زیادہ تر اجمل خٹک ہی کے بیانات پر رکھی گئی۔

سرحدی گاندھی، ان کے چیلوں کے خلاف اجمل خٹک کی تقاریراور بیانات کو الگ بھی رکھ دیا جائے تو تب بھی اس قدر مواد موجود ہے کہ ان پر غداری تو چھوٹا جرم ہے،ان پر کوئی ا س سے بھی سنگین فرد جرم عائد کی جانی چاہئے۔

کیا یہ شہادت کافی نہیں کہ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان باپو گاندھی کے پاﺅں دھو کر پیتے تھے۔ یہ تھی ان کی صبح سویرے کی عبادت۔ اور کیا یہ بہتان کافی نہیں جو ولی خان نے اپنی کتاب ”حقائق حقائق ہیں“ میں قائد اعظم پر لگایا ہے کہ پاکستان مسلمانوں کے لئے الگ مذہبی ریاست کے نمونے کے طور پر نہیں بلکہ انگریز کی سازش کے تحت بنایا گیا تھا۔ ولی خان کے بقول دو قومی نظریہ انگریز نے قائد اعظم کے ذہن میں ڈالا تھا۔ اس پر انسان لاحول پڑھنے کے سوااور کیا کر سکتا ہے۔

ویسے ولی خان سے کوئی یہ پوچھے کہ ایک طرف وہ کانگرس کے طرفدار تھے جو بھارت کو اکھنڈرکھنا چاہتی تھی مگر خان عبدالغفار پھر بھی پختونخواہ کی آزاد ریاست کے قیام کے حق میں نعرے لگا رہے تھے، کیا ولی خان یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کے باپ کے کان میں علیحدگی کی آواز کس نے پھونکی تھی۔

سرحدی گاندھی اپنے مطالبے پر آخری دم تک قائم رہے اور مرتے وقت یہ وصیت کر گئے کہ انہیں پاکستان کی بجائے افغانستان میں دفنایا جائے۔ ان کی قبر آج بھی علیحدگی کی علامت کے طور پر موجود ہے۔

مگر سرحدی گاندھی اگر جمہور کی آواز پر ذرہ بھر یقین رکھتے تھے تو انہیں اپنے مذموم مطالبے سے اسوقت تو پیچھے ہٹ جانا چاہئے تھا جب انہیں سرحد کے ریفرنڈم میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے پشت پناہ کانگرسی لیڈروں پر غیور اور محب وطن پاکستانی پٹھانوں نے گوبر پھینک دیا تھا۔ اس تذلیل سے بھی سرحدی گاندھی نے کوئی سبق نہ سیکھا۔

یا شاہد سے کوئی سوال کر سکتا ہے کہ جو لوگ اب دنیا میں نہیں رہے، ان کے خلاف کتابیں چھاپ کر انہیں کیا ملے گا۔ میں کہتاہوں کہ انہیں ڈھیروں ثواب ملے گا کہ نئی نسل کے سامنے انہوں نے سرحدی گاندھی خان غفار خان ، ان کے بھائی ڈاکٹر خان اور ان کے بیٹے خان عبدالولی خان کی خباثت نمایاں کر دی ہے۔ اس کتاب کے ہوتے ہوئے کسی کو پختون خواہ، یا متحدہ افغان قومیت یا پاکستان کی تقسیم کی بات کرنے کی جرا¿ت نہیں ہو سکے گی۔ ضیا شاہد نے حقائق بیان کئے ہیں دلائل پیش کئے ہیں اور منطق سے بات کی ہے۔ان کے قلم کے نشتر کی چبھن سرحدی گاندھی کے اور ان کے چیلوں کے دل و دماغ کو تڑپاتی رہے گی۔

Advertisements