سیاست دان ,اشرافیہ , بیوروکریسی حب الوطنی کا عملی ثبوت دیں

ہمارے ملک میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو اس ملک کا کھا کر اس کی ہی سلامتی کے درپے ہے، یہی طبقہ پاک فوج کے بجٹ پر بھی تنقید کرتا ہے۔

اس وقت ہمارے دشمن کی فوج کا بجٹ بڑھ رہا ہے اس لحاظ سے پاک فوج کا بجٹ بھی کم نہیں ہونا چاہیے ۔ پاک فوج جب بھی اپنے ملکی دفاع میں اضافہ کرتے ہوئے میزائل تجربہ کرتی ہے تو قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ شروع ہو جاتا ہے کہ فوج سارا بجٹ کھا گئی۔
لیکن کسی سیاستدان ‘وزیر ‘ سنیٹر‘ ایم این اے اور ایم پی اے میں اتنی ہمت بھی نہیں ہوئی کہ وہ عید کے تین دن پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ اگلے مورچوں پر گزار کر ان کے ساتھ خوشیاں بانٹنا

اس وقت سینٹ ‘ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ماہانہ طور پر تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں اربوں روپے وصول کرتے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کا سپیکر 6لاکھ 19ہزار روپے جبکہ ایک رکن الائونسز سمیت ماہانہ 4لاکھ 40ہزار روپے وصول کرتا ہے جبکہ دیگر مراعات الگ ہیں۔ اسی طرح سپیکر پنجاب اسمبلی 2لاکھ 60ہزار روپے اورہر رکن 1لاکھ 95ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے

سندھ اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہ 2لاکھ 80ہزار جبکہ وہاں کا رکن اسمبلی 1لاکھ 45ہزار روپے تنخواہ وصول کرتا ہے۔
اسی طرح خیبر پی کے اسمبلی کا سپیکر 1لاکھ 93ہزار روپے جبکہ وہاں کا ہر رکن ایک لاکھ 53ہزار 800روپے تنخواہ وصول کرتا ہے۔

اسی طرح صدر پاکستان‘ وزیر اعظم ‘ سپیکر قومی اسمبلی‘ چیئرمین سینٹ‘ ارکان قومی اسمبلی اور چاروں اسمبلیوں سمیت وفاقی اور صوبائی وزراء اور قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین ہر مہینے اربوں روپے وصول کر رہے ہیں جبکہ ان کے ووٹر غربت و افلاس کی چکی میں پیس کر بھوک اور پیاس کے سبب مرنے پر مجبورہیں۔

ان معاشی حالات میں محب وطن سیاستدانوں کو بھی اپنی مراعات سے دستبردار ہوجانا چاہیے اس سلسلے میں پہل صدر پاکستان جناب عارف علوی کریںکیونکہ انہوں نے تو قوم سے ایوان صدر میں نہ رہنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

اس کے بعد وزیر اعظم اور ان کی کابینہ اور تحریک انصاف کے ایم این ایز تمام سرکاری مراعات سے دستبرداری کا اعلان کریں۔

اس کے بعد اپوزیشن کے پاس کوئی جواز نہیں رہ جائے گا کہ وہ اربوں روپے قومی خزانے سے بٹور کر ایوان میں گھنٹوں لڑائی کرے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور مسلم لیگ( ن) کے صدر بھی اگر واقعی قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ارکان سمیت خود بھی تمام سرکاری مراعات سے دستبردار ہوں

اس ملک نے ان سیاستدانوں کو بہت کچھ دیا اب اگر یہ ملک پر کچھ قربان کر دیں گے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔پاک فوج اپنے بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا اعلان کرسکتی ہے تو صبح و شام عوام کے خیر خواہ اور محب وطن ہونے کے گن گانے والے سیاستدان ایسا کیوں نہیں کر سکتے

اس کے علاوہ بیورو کریسی کو بھی ان مشکل حالات میں قوم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور بغیر کسی کے کہے خود بخود کفایت شعاری اپنانی چاہیے۔

اگر اس موقع پر ساری قوم یک زبان ہوکر کھڑی ہو گی تو ہم نہ صرف اپنی معیشت کو سہارا دے سکیں گے بلکہ غیر ممالک سے قرض لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ فوج کے بعد اب سیاستدانوں کی باری ہے کہ وہ ملک قوم کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔

ایک میجر جس کی فیملی اور بچے ہی، 24 گھنٹے ڈیوٹی اور آن کال ہے۔ اکثر گھر سے دور وزیرستان ، بلوچستان میں دہشت گردوں سے جنگ میں مصروف ہے ۔۔۔ کسی وقت بھی شہید ہو سکتا ہے ۔۔ مہنگائی اس پر بھی اتنی ہی اتر انداز ہے جتنی آپ اور ہم پر۔۔۔ ان کی تنخواہ میں اضافہ نہ کرنا جبکہ باقی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں، بجلی، گیس ، چور ، کرپٹ لوگ موج کر رہے ہوں ۔۔۔۔
کیا پاکستان کا درد اور محبت صرف فوجی اور عوام کو ہے؟
حکمران اور سیاستدان مراعات یافتہ طبقہ اور ان کے بچے ملک سے باہر $ اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔۔ نفرت ہے ایسے گھٹیا لوگوں سے ۔۔۔


فوج ، سیاست دان ، طاقت ، محب الوطنی، اور مال و دولت

سیاست دان فوج کو اصل سیاسی طاقت کہتے ہیں ، تو اپنے کچھ بچے ادھر بھرتی کیوں نہیں کرتے ؟ کیونکہ جان کا خطرہ ہے۔۔ بزدل کو پیسہ ، مال سی پیار ہوتا ہے ۔۔ بزدل قوم کا لیڈر نہئں ہو سکتا ۔۔ جب بیٹی نے کپتان پسند کیا تو اس کو بھی فوج سے ریٹائر کروا کر مال بنانے کے دھندے پر لگا لیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج میں حب الوطنی کا جذبہ کسی اورشہری سے زیادہ محسوس ہوتا اور  نظر آتا ہے۔ (اگرچہ ہر شہری اپنی جگہ محب وطن ہوتا ہے) یہ ضروری ہے کہ وہ لوگ (فوجی) اپنی جان قربان کرتے ہین،۔ دنیا میں ایسا ہے۔
برطانوی شہزادے فوج میں بھرتی ہو کر جنگ (فاک لینڈ، افغانستان) میں شامل ہوتے ہیں اپنی حب الوطنی  کو عمل سے ثابت کرتے ہیں۔ امریکہ میں سیاستدان کے لیئے فوج ، جنگ میں حصہ لینا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
ہمارے سیاستدان اور ان  کے بچے فوج میں کیوں نہیں آتے؟
بلاول ، حسن نواز ،  وغیرہ وغیرہ چند سال فوج کی تربیت لیں جنگ میں حصہ لیں سیاہ چین، باڈر پر دن رات گزاریں،  اگر نہیں کر سکتے جو ہرگز نہیں کرسکتے تو عوام کو بے وقوف نہ بنائیں مال بناتے رہیں اور شہید ڈالر بنیں ۔ اپنی حب الوطنی کے دعوی اپنے پاس رکھین

ہمارے شہزادے ، شہزادیاں لندن میں جائیدادیں بناتے ہیں ۔۔ اور غلام ۔۔ ابن غلام ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔  امریکہ ، برطانیہ اور فرانس تو کجا، بھارت کا نریندر مودی ، افغانستان کا اشرف غنی اور بنگلہ دیش کی حسینہ واجد بھی ، بیرونِ ملک اربوں کے کاروبار کا تصور بھی کر سکتی ہیں ؟ خواب بھی دیکھ سکتی ہیں ؟

زہریلے دودھ سے زہریلا مکھن ہی نکلتا ہے ۔ اخلاقی طور پر معاشرہ اگر پست ہو جائے تو بالیدہ قیادت کیسے نصیب ہو ۔

بانی ء پاکستان کا ایک جملہ یہ ہے : سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو غریبوں کا خون چوسنے کی اجازت نہ دی جائے گی ۔ یا رب! اب تو عوام کے خون ہی پر وہ پلتے ہیں ۔

افلاطون نے کہا ، کنفیوشس نے کہا اور سید نا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے ارشاد کیا تھا کہ کارِ حکمرانی تاجروں کو نہیں سونپنا چاہیے ۔ افلاطون نے تو کہاتھا : جنرلوں کو بھی ہرگز نہیں ۔

سندھ کے جاگیردار جناب آصف علی زرداری کی قیادت میں متحد ہیں ۔ ان کا فیصلہ یہ ہے کہ ایک ایک گوٹھ ، ایک ایک گائوں اور تعلقے کا فیصلہ پاکستان کے نیلسن منڈیلا فرمائیں گے ۔ کل شب ہوائی اڈے پر شوگر انڈسٹری کے ایک منصب دار سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ سندھ میں شکر کا کارخانہ چلایا نہیں جا سکتا، رداری  صاحب  کے ہاتھ پہ اگر کوئی بیعت نہ کرے ۔ خیر، یہ تو کوئی راز نہیں ۔ ذوالفقار مرزا سے ان کا جھگڑا بھی ایک شو مل  پر ہوا۔ سب جانتے ہیں کہ سندھ میں کوئی شوگر فیکٹری گنا خریدنے کی جسارت نہیں کر سکتی ، شاہی خاندان کی اجازت اگر نہ ہو۔

سب جانتے ہیں کہ سندھ میں کوئی شوگر فیکٹری گنا خریدنے کی جسارت نہیں کر سکتی ، شاہی خاندان کی اجازت اگر نہ ہو۔ سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑا کر ،وسطی پنجاب سے شریف خاندان اپنی فیکٹریاں اکھاڑکر جنوبی پنجاب لے گیا ۔ یہی نہیں بھارت سے کاریگر بلوائے اور رمضان شوگر مل میں مدتوں وہ مقیم رہے ؛تاآنکہ بات پھیل گئی۔ سرکاری مہمانوں کا پروٹوکول انہیں دیا گیا اور اس کے باوجود دیا گیا کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری کے د رپے رہتاہے ۔ جمہوریت کے نام پر چیخ و پکار بہت ہے ۔ ضرورت پڑے تو آئین کا غلغلہ بھی برپا ہوتاہے ۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ سوال کبھی اٹھایا گیا ؟ کیا کبھی کسی عدالت نے حکمران خاندان کے اس کارنامے کا جائزہ لینے کی جسارت کی ؟

ژولیدہ فکری اور خوئے غلامی کی ماری اس قوم کے لیے کیا نجات کا کوئی راستہ بھی ہے ؟ جی ہاں ، اس پروردگار کی رحمت سے، جس کے نام پر یہ ملک وجود میں آیا ۔ جس کا فرمان یہ ہے کہ مایوسی کفر ہے ۔
شامِ شہرِ ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو
یاد آکر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو
 ( ہارون رشید کی کالم سے کچھ اقتباسات کے ساتھ)

https://Defenders.home.blog

Advertisements