دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ نہ لینے کا فیصلہ، آرمی چیف

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج نے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ نہ لینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قوم پر احسان نہیں ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارا۔

آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پر عیدالفطر کی نماز ادا کی، انہوں نے ملک میں امن، قومی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔

مزید پڑھیں: فوج کا دفاعی اخراجات میں کمی کا رضاکارانہ فیصلہ قابل تحسین ہے، وزیراعظم

اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپاہی کی بہترین عید یہ ہے، فخر ہے کہ وہ تہوار کے دن پر بھی اپنے گھر والوں سے دور وطن کے دفاع کے فریضے میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ یاد رکھیں، ہمارے لیے، وطن کے محافظوں کا پہلا خاندان پاکستانی قوم ہے اور گھروں میں موجود اہلِ خانہ بعد میں ہیں’۔

آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے نہ لینے کا فیصلے سے متعلق کہا کہ ‘ یہ اقدام قوم پر احسان نہیں ہے، ہم ہر قسم کے حالات میں ایک ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بجٹ کٹوتی کو دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیار زندگی پر اثرانداز کئے بغیر آنے والے مالی سال میں دیگر امور میں ایڈجسٹمنٹ سے پورا کیا جائے گا’۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ بھی صرف آفیسرز کا ہے جوانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
https://www.dawnnews.tv/news/1104671

ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھارتی میڈیا پر تنقید

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پاک فوج کی جانب سے دفاعی بجٹ میں کمی کے فیصلے پر بھارتی میڈیا کے بے سروپا تبصروں پر تنقید کی ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی میڈیا ہمارے دفاعی بجٹ جیسے داخلی معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے، بھولیے مت، ہم اسی بجٹ کے ساتھ وہی فوج ہیں جو 27 فروری کو تھے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم میں جواب دینے کی ہمت اور اہلیت ہے، بجٹ نہیں بلکہ جذبہ اور قوم کی حمایت ہماری طاقت ہے۔

خیال رپے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پاک فوج کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ کمی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس بچت کو بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں خرچ کریں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ہماری قومی سلامتی کو درپیش گوناں گوں چیلنجز کے باوجود افوجِ پاکستان کا آئندہ مالی سال کے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ طور پر کمی کا فیصلہ قابل تحسین ہے

انہوں نے کہا کہ ‘اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا جائے گا’۔

رواں برس فروری میں وفاقی حکومت نے دفاعی بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘ملک کا دفاعی بجٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی بہت کم ہے اس لیے اضافہ ہونا چاہیے’۔

‏‎بھار ت کا دفاعی بجٹ 60 ارب ڈالرز سے زیادہ ے ہمارا 10 ارب ڈالرز بھی نہیں پھر بھی اللہ کا شکر ہے ہم انکے جہاز بھی مار رہے 9 خفیہ ایجنسیوں سے مقابلہ کر رہے ملک بھی بچا رہے اور بھارت کے جہاز گرا کر فوجی مار کر ابھی نندن کو چائے بھی پلا رہے کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے
……..
‏‎بھارتی میڈیا کواوربھارتی فوج کوایک بات ہمیشہ ﺫہن میں رکھنی چاہیے یہ پاکستانی فوج ہےجو مظبوط فوجی بجٹ سےنہیں ایمان سےجوش و جزبے سے لڑتی ہےاپنے دشمن سے
اورخاص طور پہ اپنے سب سے ازلی اور بے وقوف دشمن بھارت سے
28 فروری کو جو ہمارے پاک فوج کے شاہینوں نے حشر کیا تھا وہ بھول گئے کیا😎
……..
‏‎‎یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
…….

یہ بغداد ہے

“عوام پر اور ٹیکس لگاؤ اور خزانہ جمع کرو مجھے نیا محل تعمیر کرنا ہے ،” خلیفہ وقت نے کہا.
“پر حضور وہ مزید محصول نہیں دے سکیں گے ہم پہلے ہی ان کی اوقات سے زیادہ وصول کررہے ہیں ،”
“تو پھر میرا محل کیسے تعمیر ہوگا ؟”
“اخراجات کم کرنے سے ،”
ابن علقمی نے کہا
“اخراجات سب سے زیادہ کس چیز پر ہورہے ہیں ؟”
خلیفہ نے استفسار کیا.
“آپ کی شان و شوکت پہ اور اسلامی فوج پہ ،،”
ابن علقمی نے کہا
“مجھے کیا کرنا چاہئے ابن علقمی؟ “،
خلیفہ نے پھر پوچھا،

“خلیفہ کی شان کو آنچ نہیں آنی چاہئے ، فوج کم کردیتے ہیں حضور،”

خلیفہ نے چند لمحے سوچا اور فوج کو کم کرنے کا حکم دے دیا ، پونے دو لاکھ مسلح اسلامی فوج گھٹ کر دس ہزار رہ گئی ، زاید اسلحہ بیچ دیا گیا ،

اور ابن علقمی کی دعوت پہ ہلاکو سر پہ آن کھڑا ہوا ، بغداد تباہ کردیا گیا دس لاکھ لوگ مار دئے گئے اور خلیفہ مستعصم باللہ کو بیڑیوں میں جکڑ کر ہلاکو کے سامنے پیش کیا گیا ، ہلاکو کے دن رات خلیفہ کے محل میں گزرنے لگے ، جس طرح بلی شکار کے ساتھ کھیلتی ہے اسی طرح ہلاکو خلیفہ کے ساتھ کھیلتا ، کئی دن بھوکا رکھ کر خلیفہ کو جب ہلاکو نے خلیفہ کی میز پہ کھانا کھاتے ہوے دعوت دی تو وہ دوڑا چلا آیا، ایک طشت ڈھانپ کر اسکے سامنے رکھی گئی ، “کھاؤ ۔۔۔۔ کھاتے کیوں نہیں ؟” ندیدے پنے سے طشت دیکھتے خلیفہ کو ہلاکو نے حکم دیا .

خلیفہ نے طشت کا کپڑا اٹھایا تو دیکھا کہ وہ ہیرے جواہرات سے بھرا پڑا تھا ، خلیفہ کا ہاتھ رک گیا.

“کھاؤ مستعصم باللہ کھاؤ، پیٹ بھرنے کو ایک روٹی کافی ہوتی ہے تم دولتوں کے انبار اکٹھے کرتے رہے ، کھاؤ اپنا یہ اکٹھا کیا ہوا مال ،”
ہلاکو نے سپاہی کو اشارہ کیا اس نے جواہرات کی مٹھی بھری اور خلیفہ کے منہ میں انڈیل دی ،
“جتنی دولت تم نے اپنی شان و شوکت پہ لگائی اتنی اپنی فوج بنانے میں لگاتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ سلطنتیں شان و شوکت یا آرائشوں سے نہیں بچا کرتیں ، یہ طاقتور افواج کی وجہ سے بچا کرتی ہیں ،” ہلاکو ٹھہرا، قالین کی نرمی محسوس کی اور بولا ۔۔

“اے نرم قالینوں کے عادی انسان ، کاش تم نے جنگوں کی گرمی کا مزہ چکھا ہوتا ، تمہارا کنیزوں کے رقص پہ داد دیتے ہاتھوں نے تلوار کی گرفت محسوس کی ہوتی.

اس نرم قالینوں کے عادی انسان کو اسی کے قالینوں میں لپیٹ دو اور اسے گھوڑوں کی سموں تلے روند دو اور نشان عبرت بنا دو ، جن کو اپنے دفاع سے زیادہ اپنی عیاشیوں کی فکر ہو ان کو بقا کا کوئی حق نہیں”

اپنی ہی فوج کے اٹھارہ فیصد بجٹ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے والے مسلمانوں، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ کے گھر فاقے ہوتے تھے، پر ان کے گھر کی دیواریں تلواروں سے سجی ہوتی تھیں ، سہولتوں ، عیاشیوں میں بقاء ڈھونڈنے والو، بقاء صرف طاقت سے ملتی ہے ورنہ کیا لیبیا و عراق کے لوگ سہولتوں کے عادی نا تھے؟؟ ، ملٹری بجٹ پہ طعنے زنی کرنے والو،، امریکہ سے برطانیہ تک جن کی خوشحالیوں پہ تمہاری آنکھیں چکاچوند ہیں انکی تاریخیں تو پڑھو کہ انکی سہولتیں، سب ھی طاقتور افواج رکھنے کی وجہ سے ممکن ہو سکیں۔
جو قومیں چہار طرف سے اپنے دشمنوں میں گھرے ہونے کے باوجود محافظوں کے ہاتھ باندھنا چاہیں، وہ بقاء کا حق کھو بیٹھتی ہیں..

پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ آباد

Advertisements