The Real Demand of PTM? Inside Story پی ٹی ایم کی اصل ڈیمانڈ

One and Only Demand of PTM

© irfan mirza

The merger of tribal areas into mainstream has turned things upside down for some groups who were historically involved in all sorts if criminal !activities and were running grey economy of Pakistan, through Afghan Trade and smuggling etc.

Should I  share with you a lengthy list of all those crimes?

These areas were the hideouts of all sorts of “wanted men”. Any body would murder somebody anywhere in Pakistan and would run towards these areas to hide .

All sorts of drugs, weapons and contraband items being traded without impunity in these areas. All stolen vehicles were finally used to be handed over to the owners from these areas after the extortion of huge amounts. All kind of ransom based activities were controlled from here. Families of Mohsin Dawar and Ali Wazir etc. were thriving under previous setup.

Now check posts have been erected in these areas to keep a check on all those illegal activities as it is no more “Alaqa Ghair”

It has ruined the business of those families who now own more than half of the properties in Islamabad.

You must all have seen Ali Wazir. Can a thug like him be controlled and stopped by the local police of that area. No! He could eat alive, any local police officer in North Waziristan.

Hence these check posts are strengthened by army jawans.

This interest group mafia from both sides of Durand line is fully supporting PTM along with RAW and CIA.

Yesterday Ali Wazir and Mohsin Dawar went there to threaten the authorities to remove the check posts, their accomplices fired at the check post and the rest is now in your knowledge through media.

Their demand is brief and simple that they must be left alone to resume their previous crimes of “Allaqa Ghair” era unchecked.

Also see: https://dailytimes.com.pk/61594/drug-trafficking-from-afghanistan/


پی ٹی ایم کی قیادت زیادہ مثبت نہیں۔

نام پختون تحفظ موومنٹ ہی سے اختلاف ہے۔ یہ پشتونوں کا ایشو ہے ہی نہیں۔ یہ صرف آپریشن متاثرین کا معاملہ ہے، بدقسمتی سے اس خاص کیس میں متاثرین وزیرستان کے رہائشی پشتون تھے، انہیں پریشانی سے گزرنا پڑا۔

ایسا آپریشن اگر ہزارہ میں ہوتا تو ہزارہ متاثر ہوتے ، بلوچ علاقے میں آپریشن ہو تو بلوچ آبادی تکلیف اٹھاتی ہے،اگر سندھ میں ہوتا تو سندھی اور اسی طرح جنوبی پنجاب میں ہونے کی صورت میں سرائیکی جبکہ سنٹرل پنجاب میں کسی وجہ سے آپریشن کرنا پڑے تو پنجابی عوام پریشان ہوں گے۔

یہ آپریشن اس لئے نہیں کیا گیا تھا کہ وہاں پشتون آباد ہیں اور انہیں ان کی زبان، نسل کی وجہ سے کوئی ہدف بنانا چاہ رہا ہے۔ اس کی سادہ دلیل یہ ہے کہ خیبر پختون خوا کے ڈیڑھ درجن سے زائد پشتون آبادی والے اضلاع میں کسی بھی قسم کا آپریشن نہیں ہوا اور نہ ہی وہاں پشتونوں کو کسی نے تنگ کیا۔

پنجاب میں لاکھوں پشتون آباد ہیں، کراچی تو ملک کا سب سے بڑا پشتون آبادی والا شہر ہے، وہاں کسی نے پشتونوں کے خلاف آپریشن کیا ؟

مسائل چونکہ ایم کیوایم الطاف کے ٹارگٹ کلرز نے پیدا کئے تھے، بدقسمتی سے وہ اردو بولنے والے تھے، اس لئے اس خاص کیس میں اردو سپیکنگ ہی ہدف بنے ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی مہاجر تحفظ موومنٹ بناالے ۔

ایسا کرنا بدنیتی ہو

ایک خاص ایجنڈے کے تحت محسود تحفظ موومنٹ کو پختون تحفظ موومنٹ میں بدلا گیا۔

مقصد یہی تھا کہ پشتونوں کا نام لے کر زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کی جائے۔

اس سوچ سے ہمارا اختلاف ہے۔

پی ٹی ایم کے لیڈر جس طرح کی جارحانہ زبان بولتے ، فوج اور ریاستی اداروں کو ہدف بناتے ہیں، وہ بھی بڑا عجیب اور خطرناک لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لوگ کسی دشمن ملک کی زبان بول رہے ہوں۔

ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم محب الوطن یا غیر محب الوطن کے سرٹیفکیٹ تقسیم کریں نہ ہی یہ رجحان پسندیدہ ہے۔ البتہ تحفظات پیدا ہونا فطری ہے ۔

یہ بات مگر ضروری ہے کہ پی ٹی ایم کے خلاف کچھ بھی اگر کیا جائے تو وہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہو۔ عدالتیں موجود ہیں، کسی شخص نے زہرآلود تقریر کی تو اس کے لئے قانون موجود ہے۔ کسی نئے بحران کو جنم نہ دیا جائے۔

وزیرستان کسی اور نواب اکبر بگٹی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔تاریخ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کو مارنا ایک بلنڈر تھا۔ بگٹی مرحوم کی ہلاکت نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا۔ بلوچستان میں اس کے بعد جو آگ بھڑکی، وہ ابھی تک نہیں بجھ سکی۔وہ ایک تباہ کن غلطی تھی۔

وزیرستان میں قطعی طور پر اس طرح کا کوئی دوسرا بلنڈر نہیں کرنا چاہیے۔ علی وزیر ہو یا محسن داوڑ، جس کے خلاف جو بھی شکایت ہے،عدالت کے سامنے رکھی جائے۔ وہی مناسب فورم ہے۔ پی ٹی ایم میں کچھ عناصر اگر سیاسی شہیدوں کے طلب گار ہیں تو انہیں مایوس ہی کرنا چاہیے۔

محمد عامر خاکوانی

Advertisements