پاک فوج سے نفرت کرنے والوں کے لیے ایک اطلاع

اطلاع یہ ہے کہ ان کی ہر زیریلی اور نفرت انگیز مہم میرے جیسے لوگوں کو پاک فوج سے محبت کرنے پر مزید اکساتی اور فوج مخالف حلقوں کی فتنہ انگیزیوں کا دندان شکن جواب دینے کا خیال سجھاتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار سے ہمیں شدید اختلاف ہے۔ فوج کا کام اقتدار میں آنا، حکومت چلانا نہیں۔ ڈکٹیٹروں کے کبھی حامی رہے نہ ان شاءاللہ آئندہ کبھی حمایت کریں گے۔ مگر پاک فوج کی قربانیوں کی قدر نہ کرنے والا یا تو احمق اور نابینا ہے یا پھر وہ پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کا وفادار ہے۔ اصولی تنقید میں کوئی حرج نہیں، مگر اس تنقید کا کوئی وقت، موقع محل ہوتا ہے۔ جب سرحدوں پر دشمن فوج موجود ہو، کسی بھی وقت جارحیت کا خطرہ ہو، بھارت جیسے بزدل اور کمینہ دشمن پراکسی وار کے ذریعے پاکستانی ریاست کو مفلوج کرنا چاہتا ہو، فوج کو واحد ڈیفنس لائن سمجھتے ہوئے نشانہ بنانا چاہتا ہو، اس وقت اصولی تنقیدوں کو ڈالیں مٹکے میں، جب وقت آئے گا ، تب ایسی بحثیں بہت ہوں گی، ہم بھی ان میں زور شور سے حصہ ڈالیں گے۔

جہاں تک مسلم لیگ ن کے حامیوں کا تعلق ہے، ان کی برہمی اور ناراضی سمجھ میں آتی ہے۔ مگر سیاسی عصبیت اور سیاسی ہمدردی سے ملک زیادہ اہم ہے۔
ایک دوست اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے وہ سخت خلاف ہیں، سیاسی طور پر ان کی ہمدردی مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے، عمران خان کے سخت نقاد ہیں، آرمی چیف پر کئی امور پر براہ راست تنقید کر چکے ہیں، جس کی جرات کم لوگ کر پاتے ہیں، اس کے باوجود جب بھارتی جارحیت کا خدشہ پیدا ہوا تو جناب کمر ٹھونک کر میدان میں اترآئے، اپنے قلم سے وہ تلوار کا کام لیتے ہوئے دشمن کی چالوں کو بے نقاب کر رہے اور فوجی جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ ایسا کوئی بندہ ہو تو اس کی فوج پر تنقید پڑھنے اور سننے کا بھی جی چاہتا ہے، اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ آرمی چیف سے لے کر تمام جرنیلوں کو کھری کھری سنا سکے، اداروں کی غلطیوں کا پوسٹ مارٹم کر سکے، کیونکہ اس نے اپنی جرات، دلیری کے ساتھ ریاست پاکستان کے ساتھ اپنی دردمندی، محبت اور غیرمعمولی استقلال بھی ثابت کر دیا ہے۔
ن لیگ یا کسی دوسری قوم ، نسل پرست پارٹیوں کے بعض ناسمجھ پرجوش حامی، بلوچستان یا کے پی کے سے تعلق رکھنے چند حماقت کی حد تک جذباتی قوم پرست اور ہر بات میں فوج کو گالیاں دینے والے نام نہاد لبرلز کی باتیں ہم نہیں سن سکتے۔ پاکستانی اداروں پر وہ بات کرے جو پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت بھی دے سکے۔ بغداد تباہ کرانے والے علقمی کا کردار ادا کرنے والے جب یہ شکوہ کریں کہ ہم پر غداری کا لیبل لگایا جا رہا ہے اور ہماری بات نہیں سنی جار ہی تو ان کا شکوہ بےجا، فضول اور غلط ہے۔ باقی میری فیس بک وال پر اور میرے دل میں فوج دشمنوں کی کوئی جگہ نہیں۔
پاکستان میری محبت ہے، اس کا دفاع کرنے والی فوج کے ساتھ بھی محبت کا یہی رشتہ ہے۔ پاکستان ہو، پاک فوج ہو یا پاکستانی عوام ، ان کے خلاف زہر اگلنے والوں، فتنہ پروروں کا جواب بلاک کے ہتھوڑے سے دیا جائے گا۔  عامر خاکوانی ، ماخوز

پاک فوج سے نفرت کرنے والوں کےلیے خاص اطلاع – محمد عامر خاکوانی


کیا آپ جانتے ہیں !

“”””””””””””””””””

پاکستان دنیا کا واحد ملک ھے جسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ھے جو کہ 3600 کلو میٹر طویل ھے اور بدقسمتی سے پاکستان ھی دنیا کا واحد ملک ھے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ھے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں- آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!

پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ھے جو انڈین جنگی حکمت عملی ھے جسکے لئے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ھو چکی ہیں – یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ھے اور اس ڈاکٹرائین کے لئے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لئے سڑکوں ، پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رھے ہیں- اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ھے وہ تیزی سے داخل ھوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ھوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ھوگی ۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ھے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ھوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رھی ھے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ھوگا کہ پاکستان آرمی کی “عظم نو ” مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رھا ھے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رھی ھے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ھمارے خلاف ھے- انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ھماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ھے کیونکہ باقی امریکن” ایف پاک ” ڈاکٹرائین کی زد میں ھے ۔۔۔۔۔۔!!

امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن ( Amrican afpak doctrine) امریکی ایڈمنسٹریشن کی پاکستان کے خلاف جنگی حکمت عملی ھے جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ھے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ھے ۔۔۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ھے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ھے اور اب تک ھم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ھونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ھے ۔۔۔۔ اس جنگ کے لئے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ھے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ھے ۔۔۔۔۔ اسکے لیے کرم اور ھنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لئے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ھونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ھے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ھونا چاہئے اور اسکی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ھے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ھیں اور اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ھے !!

فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ھے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ھے- مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ھے ، صوبائیت کو ھوا دے جاتی ھے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ھیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ھے ۔۔۔۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ھے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ھے ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان پر آزمایا جا رھا ھے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ھو چکی ھے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ھیں- باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے- آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لئے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائینگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ھے ۔۔۔!!

یہ واحد جنگ ھوتی ھے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی، آرمی اس صلاحیت سے محروم ھوتی ھے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ھے نہ سول حکومتوں کی اور نہ ھی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ھے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ھوتی ھے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ھیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ھر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ھوگا۔۔۔!!
اس حملے کا سادہ جواب یہی ھے کہ عوام ھر اس چیز کو رد کر دیں جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ھو” ۔
حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم


دنیاکےکینایابترین_فوج

“امریکا نے پاکستان کا ملڑی ٹریننگ پروگرام معطل کر دیا
امریکا نے پاکستان کو یو ایس نیول وار کالج اور سائبر سیکورٹیز کے پروگرام سے بھی فارغ کر دیا
امریکا پاکستانی آرمی کے افسروں کی ٹریننگ اور ایجوکیشن پروگرامز بھی ختم کر دیئے۔
رواں سال ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سے دفاعی تعاون ختم کرنے کی دھمکی دی تھی
پروگرام ختم کرنے سے پاک آمریکا تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔امریکی حکام
امریکی وزیر دفاع نے ٹرمپ کے اقدامات کی مخالفت کی”۔رائڑز

امریکا ایسے اقدامات پہ کیوں مجبور ہوا کیونکہ پاکستان نے خاموشی سے بہت بڑے کام کیے۔اور باجوہ ڈاکٹرائن کامیاب ہو کر چھا گئی۔
امریکا کو زور سے لات مار کر باجوہ ڈاکٹرائن نے بھگا دیا
اب پاکستان اس خطے سے امریکا کو نکال کر اس کا برا حشر کرنے والا ہے۔
پاکستان نے کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کیا اور الیکشن کی سیلیکشن میں امریکا کو آنکھیں دکھا دیں۔اور پاکستان میں موجود اس کے چیلوں کے ساتھ جو حشر ہو رہا پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
اور اب پاکستان کو جو چاہیے تھا لے چکا ہے۔
پوری دنیا کی فوجیں پاکستان کے ساتھ جنگی مشقوں میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔کیونکہ اسی پاکستان نے دنیا کے سب سے طاقتور اتحاد نیٹو کو شکست دی ۔اس اتحاد میں شامل 52 ملکوں نے پاکستان کو توڑنے کے لئے اپنے خفیہ ایجنسیوں سمیت افغانستان میں فوجیں اتار دی
اور پھر
آئی ایس آئی نے اس اتحاد سپیشلی امریکا کا وہ حشر کیا جس کو پوری دنیا نے دیکھا ۔
پاکستان کی فوج پچھلے 20 سال سے حالت جنگ میں ہونے کی وجہ سے دنیا کی نایاب ترین فوج بن چکی ہے۔اس کے بھپرے شیر اپنے سپہ سالار کے ایک حکم کے منتظر رہتے ہیں۔
اور یہ وہ دنیا کی واحد فوج ہے کہ جو گوریلا جنگ کی فاتح بنی اس گوریلہ وار کے نتیجے میں امریکہ چین کے اربوں ڈالر کا مقروض ہو گیا اور اس کی کھربوں ڈالروں کی ٹیکنالوجی افغانستان میں کوڑیوں کے بھاؤ بک رہی ہے۔
اب پتہ چلا کہ
پاکستان نے کیوں ڈبل گیم کھیلی اس نےسب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر اربوں ڈالر لئے اور امریکا کی چھت کے نیچے خاموشی سے میزائل ٹیکنالوجی میں لگا کر آج دنیا کا جدید ترین ایم آر آئی وی سسٹم بنا ڈالا جو صرف 3 دنیا کی سپر پاورز کے پاس ہے۔نہیں تو ویسے آمریکا عالمی پابندیاں لگا کر معیشت کو کمزور کرتا
الحمدللہ اب پاکستان بھی اس میں شامل ہے جو بیک وقت 12 ایٹم بم ایک ہی مزائیل میں مختلف جگہوں کو ایک ہی وقت میں ہٹ کر سکتے ہیں۔
امریکا کو 15 سال بعد پتہ چلا میرے ساتھ پاکستان نے ہاتھ کر دیا ۔
اور اب پاکستان امریکا کی ٹیکنالوجی سپیشلی ریڈار سسٹم کو خیر آباد کہہ چکا ہے

Advertisements