بلوچستان میں دہشت گردی

 کلبھوشن کو زندہ پکڑا، اس کے پاس مسلمان کے نام سے جعلی پاسپورٹ تھا۔ اسے ایران سے پاکستان کا ویزہ ملا اور وہ کئی بار بلوچستان آتا جاتا رہا، تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ وہ تو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر ہے اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے ایک بڑے جاسوسی نیٹ ورک کو چلا رہا ہے جس کا مقصد را کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے بلوچستان میں خونریزی کرنا ہے اور سی پیک کی پیش رفت کو روکنا بھی مقصود ہے، ہم نے پتہ نہیں کون سے آداب میزبانی کا خیال کیا کہ وہ آج تک بھلا چنگا ہمارا مہمان ہے۔ دنیا کے کسی قانون کے تحت اسے نہ تو قونصلر رسائی دی جا سکتی ہے۔ نہ اس کے اہل خانہ سے اس کی ملاقات کروائی جا سکتی ہے۔ مگر ہم نے یہ دونوں کام کئے، نواز شریف حکومت کا کوئی اہلکار کل بھوشن کا نام لینے کو تیار نہ تھا اور نہ آج ہے۔ اس کا ایک کیس عالمی عدالت میںچل رہا ہے، جہاں کسی جاسوس کا مقدمہ چل ہی نہیں سکتا مگر ہم وہاں پیش ہو رہے ہیں اور عوام کی زبانوں پر ہے کہ ہم کیس صحیح طریقے سے لڑ نہیں پا رہے۔ دوسری طرف ایک صاحب ہیں احسان اللہ احسان، وہ تحریک طالبان کے ترجمان تھے۔ بارہ چودہ برسوں میں کوئی بھی دہشت گردی ہوتی تو وہ جھٹ سے اس کی ذمے داری قبول کرتے، ہمارے فوجیوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا جاتا، وہ ا س کی ویڈیو بناتے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے، آج یہ شخص بھی ہمار امعزز مہمان ہے۔ مانا کہ اسلام امن کا دین ہے مگر دہشت گردوں کے ساتھ امن کا رویہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ ہم نے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو پکڑا اور اسے جھٹ پٹ بھارت واپس کر دیا، اب ہم کہتے ہیں کہ بھارت میں الیکشن ہو رہے ہیں، اس لئے کسی بیرونی ہاتھ کی طرف اشارہ نہیں کر سکتے۔ اور ہم کوئٹہ کے شہیدوں کو ہزارہ کہہ کر مطمئن ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کچھ ایسے تضادات ہیں جن کی طرف میں اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس لئے کہ پاک فوج نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کیں اور دہشت گردی کا قلع قمع کیا، پاک فوج آج بھی دہشت گردی کے خلاف یک سو ہے اور بلوچستان میں اس وقت جو فوجی کمانڈر تعینات ہیں، وہ برسوں پہلے جنوبی وزیرستان میں امن کے قیام کا سہرا سر پہ سجا چکے ہیں۔

ایک زمانے میں مشرف نے کہا تھا کہ اب وہ قت گیا کہ جب بلوچ شر پسند پہاڑوں پر چڑھ جاتے تھے۔ اس لئے کہ اب ہمارے پاس ایسے جاسوسی آلات آ گئے ہیں کہ ہم ان کو چن چن کر نشانہ لگا سکتے ہیں۔ مشرف نے سردار بگتی کا ایک غار میں سراغ لگایا اور اسے نشانہ بنا ڈالا۔ یہ آلات آج بھی پاک فوج کے پاس موجود ہیں مگر نہ جانے کہاں سے ایک منترا وجود میں آ گیا ہے کہ جو بلوچ شر پسند قومی دھارے میں داخل ہو جائیں گے تو انہیں پر امن زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ یہ سنہری اصول جیش محمد اور لشکر طیبہ یا جماعت الدعوہ پر لاگو نہیں کیا جاتا۔ حکوت بھی ان پر پابندیاں لگا رہی ہے اور کوئی کسر باقی رہ جائے تو بلاول چیخ اٹھتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کا نمدا نہیں کسا جا رہا۔ قومی دھارے کاا صول لاگو ہونا ہے تو سب پہ لاگو ہو مگر بلوچ شر پسندوں پر یہ اصول لاگو کرتے وقت خوب سوچ سمجھ لینا چاہئے کہ ایک تو کل بھوشن کا نیٹ ورک وہاں کام کر رہا ہے۔ انہیں قندھار کے بھارتی قونصل خانے سے ڈالر ملتے ہیں ۔ اسلحہ ملتا ہے اور دہشت گردی کی تربیت ملتی ہے۔ دوسرے بھارتی وزیراعظم اعلانیہ طور پر دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو اسی طرح ان کے حقوق دلائیں گے جیسے ہر بھارتی نے کوشش کر کے اکہتر میں بنگلہ دیش بنوایا تھا اور وہاں کے عوام کو ان کے حقوق دلوائے تھے۔ بلوچستان میں کسی نرمی کے سلوک سے پہلے یہ نکتہ بھی ذہن میں بٹھا لینا چاہئے کہ چین کے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے اہم تریں حصے سی پیک کی کامیابی کا انحصار بلوچستان میں قیام امن پرہے۔ یہاں ہم آنکھیں بند کر کے کسی کے ساتھ نہ ڈیل کر سکتے ہیں، نہ کسی سے ڈھیل کا برتائو کر سکتے ہیں۔ بلوچستان ایک پل صراط کی مانند ہے اور ہمیں اس کی دھار کی حفاظت کرنی ہے۔

پاکستان عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے، یہاں مزار داتا صاحب پر حملہ ہوا، ہم نے نہیں کہا کہ بریلوی شہید ہو گئے یا یہ فرقہ ورانہ واردات تھی۔ ہم نے دہشت گردی کو فرقوں کے سر نہیں منڈھا۔ اس لئے کہ تمام فرقے قیام امن پر متفق ہیں۔ پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے پیچھے سراسر بیرونی ہاتھ ہے، امریکہ کے ہاں نائن الیون ہوا تو پانچ منٹ کے اندر اس کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈال دی گئی اور اس کا پیچھا اس وقت تک جاری رکھا گیا جب تک اسے ایبٹ آباد کے ایک محفوظ تریں مقام پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ بھارت میں ممبئی ہوا اور اب پلوامہ ہوا۔ درمیان میں کئی سانحے ہوئے اور بھارت نے بلا سوچے سمجھے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا مگر ہم کسی دہشت گردی کے سلسلے میں سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کس کا نام لیں اور کس کا نہ لیں۔ ہم نے بہت کہا اور بہت سنا کہ ہمارا دشمن بے چہرہ ہے مگر اب برسوں کی قربانیوں کے بعد یہ راز کھل چکا کہ ہمارا دشمن بے چہرہ نہیں ہے، ہم خود اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں تو اور بات ہے اور یہ ایک قومی جرم ہے۔ دشمن کو دشمن نہ کہنا جرم نہں تو اور کیا ہے۔ ہم ڈرتے کیوں ہیں۔ ایک ایٹمی طاقت ہو کر بھی ڈرتے ہیں۔

یہ فلسفہ بھی غلط ہے کہ بلوچستان محرومیوں کا شکار ہے، کیا اس صوبے کے لوگ سینیٹ اور قومی اسمبلی میںنہیں آتے، کیا ان کے ہی لوگ اپنے صوبے کا گورنر اور وزیراعلیٰ نہیں لگتے اور کیا اس صوبے کے لوگ پاکستان کے وزیراعظم نہیں بنتے۔ کیا اس صوبے کو اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات منتقل نہیں ہوئے اور کیا اسے قومی محاصل سے پورا اور بڑا شیئر نہیں ملتا۔ اگر اس صوبے کے نمائندے اس آمدنی میں خوردبرد کر جاتے ہیں تو اس میں پاکستان کا کیا قصور اور اب جو گوادر بنے گا تو کیا یہ صوبہ ترقی کی معراج کو نہیںچھوئے گا، کیا یہ دوبئی، سنگا پور اور ہانگ کانگ کے برابر نہیں آجائے گا۔ اس سارے پس منظر میں، میں یہ نہیں مانتا کہ کوئی بلوچ شرپسند دہشت گردی کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی دہشت گردی میں ملوث بھی ہوں تو محض آلہ کار کے طور پر، اصل میں ہمارے ہمسائے بلوچستان میں قیام امن کے دشمن ہیں اور ہمیں انکے خلاف چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ میں ہزارہ جات پر نہیں، ہم پاکستانیوں پر حملہ ہوا ہے اور ہر پاکستانی اس دکھ درد کو محسوس کررہا ہے۔

اسد الله غالب

https://www.nawaiwaqt.com.pk/16-Apr-2019/1005902

 <<<بلوچستان میں دہشت گردی

Advertisements