پاک فوج اور عوام

!فوج کو عزت دیتے رہو

پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ ہمارے بہادر سپوتوں کے جذبہ حب الوطنی، پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہمارے وطن عزیزکی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں۔ ہمارے آرام و سکون کے لۓ اپنی نیندیں قربان کرنے والے بہادر سپاہی بلاشبہ قابل فخر ہيں۔

ہماری طویل ترین اور دشوار گزار نظریاتی سرحدوں کی بلا خوف وخطر حفاظت کرنے والے بری، بحری اور فضائی افواج کے جوان ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہماری عسکری انٹیلیجنس ایجنسی کا شمار بھی دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں ہوتا ہے اور یہ ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں بری طری کھٹکتی ہے۔

ہمارے بیرونی اور نظریاتی بارڈرز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے اندرونی محاذوں پر بھی قابل قدر خدمات سر انجام دی ہيں۔ پاک فوج کی کاوشوں اورقربانیوں کی بدولت دہشت گردی، انتہا پرستی اور شدت پسندی کا قلع قمع ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے بہتری کی طرف جارہے ہيں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کرنے میں پاک فوج ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے۔ صحت، تعلیم، شاہرات بنانے اور دیگر شعبہ جات میں بھی پاک فوج کی گراں قدر خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ قومی اثاثوں کی حفاظت، امن و امان، مردم شماری اور انتخابات وغیرہ پاک فوج کی شموليت اور بے لوث مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ بلا شبہ کرپشن اور دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑے وطن عزیز میں امید کی واحد کرن پاک فوج ہی ہے۔

ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک کو ديکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ دراصل ان کی افواج کو آکسیجن انکی عوام سے ملتی ہے۔ ان ممالک کے لوگ اور حکمران اپنی اپنی افواج کی بھرپور اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔ ویسے بھی حب الوطنی کے ترازو میں اگر ہر کسی کو تولا جاۓ تو فوج کا پلڑہ ہی بھاری ہوتا ہے۔

قارئین، پاک فوج کے بارے میں سوشل میڈیا پر اور بعض مطلبی افراد کے منہ سے ہتک آمیز کلمات سن کر دلی افسوس ہوتا ہے۔ چند انفرادی ڈکٹیٹروں اور سربراہان کی غلطیوں کی بنیاد پر پورے ادارے کو بدنام کرنا ہرگز لائق تحسین نہیں۔ اپنے لہو اور لازوال قربانیوں سے ہمارے آج اور کل کو محفوظ بنانے والے اس اہم ادارے کی اخلاقی و سیاسی حمایت کرنا اشد ضروری ہے۔
)عبد الباسط علوی)
سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت
سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا انکارکوئی عقل کا اندھا ہی کر سکتا ہے مگر جس ریاست کے اندرونی معاملات میں بھارت‘ امریکہ ‘ برطانیہ اور سعودی عرب دخل اندازی کرتے ہوں‘ جہاں سیاستدان حکمرانی کے حصول کے لیے امریکہ‘ برطانیہ‘ ترکی اور سعودی عرب کی اشیر باد حاصل کرنا ضروری سمجھیں اور ’’را‘‘ موساد‘ سی آئی اور کے جی بی ہماری ہی سرزمین پر آئی ایس آئی کو مات دینے کے لیے سرگرم عمل ہوں وہاں اسٹیبلشمنٹ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ سکتی ہے نہ دشمنوں کے بیانیے سے بیانیہ ملانے والی قوتوں کو کھلی چھٹی دے کر اپنے حلف کے تقاضوں سے انحراف کر سکتی ہے۔
تاہم یہ مداخلت اتنی ہی ہے جتنی پینٹاگان کی امریکہ‘ ایم آئی سکس کی برطانیہ اور ’’را‘‘ کی بھارت کے سیاسی‘ دفاعی اور خارجہ معاملات میں۔

اس مداخلت کو کم یا ختم کرنے کے لیے سیاستدانوں کو سازشوں‘ ریشہ دوانیوں‘ بیرونی سرپرستی کے بجائے طرز حکمرانی اور انداز سیاست بدلنا پڑے گا۔ لوٹ مار‘ اقربا پروری‘ دوست نوازی اور موروثی سیاست کو خیر باد کہہ کر عوام کی خدمت پر کمر بستہ سیاستدان ہی ترکی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کو اپنے اصل فرائض کی ادائیگی پر مجبور کر سکتے ہیں۔
نااہل ‘ نکمے اور لٹیرے پہلے کامیاب ہوئے نہ اب ان کی دال گلنے والی ہے۔
ترقی پذیر ریاست میں جب تک سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کے مطابق منظم نہیں ہوتیں‘ قیادت آمرانہ رجحانات سے نجات نہیں پاتی اور حکومت عوامی فلاح و بہبود کو شعار نہیں کرتی‘ جمہوریت مستحکم بنیادوں پر استوار ہو سکتی ہے نہ سول بالادستی کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانا اور ووٹ بٹورنا آسان ہے۔
)ارشاد عارف(

…………….
جس طرح دجال کی نشانی اس کے چہرہ پر واضح ہو گی اسی طرح اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کی نشانی ۔۔۔ پاک فوج سے نفرت۔۔۔ ان کے منہ پر لکھی ہوئی ہے۔

Advertisements