پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش شروع -ضیاء شاہد

بلوچی گاندھی عبدالصمد خان اچکزئی کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی آج کل اخبارات کے صفحات کے علاوہ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں ”ہِٹ“ جا رہے ہیں۔ ان کے حق میں اور خلاف بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ آیئے پہلے اس بات کا جائزہ لیں کہ پاکستانی سیاست میں اس متنازع شخصیت کا پس منظر کیا ہے۔
محمود خان اچکزئی 1948ءمیں پیدا ہوئے۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز اپنے والد عبدالصمد خان کی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے کیا اور سابقہ صوبہ سرحد (کے پی کے) اور بلوچستان کے روائتی سیاستدانوں کی طرح وراثت میں انہیں اپنے والد کی پارٹی کی صدارت ملی، بلوچستان کی پختون آبادی کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ قلعہ عبداللہ کوئٹہ سے تین بار ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں۔ 2002ءمیں وہ بلوچستان سے کامیاب ہونے والے واحد پختون لیڈر تھے کیونکہ ان انتخابات میں پختون آبادی سے بھی مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) کے لیڈر منتخب ہوئے تھے۔
قومی اسمبلی میں اپنی متنازع تقاریر کے باعث انہوں نے بڑی شہرت پائی آج کل سوشل میڈیا پر بلوچستان کی سیاست میں ان کی اجارہ داری کا چارٹ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ آپ بھی ایک نظر دیکھ لیں۔

-1 محمود خان اچکزئی ایم این اے اور مشیر خاص وزیراعظم پاکستان
-2 بھائی محمد خان اچکزئی گورنر بلوچستان۔
-3 بھائی حمید خان اچکزئی ایم پی اے
-4بھائی مجید خان اچکزئی ایم پی اے
-5 بیوی کی بھابی سپوژمئی اچکزئی ایم پی اے
-6 سالی یعنی بیوی کی بہن نسیمہ صاحبہ ایم این اے
-7 سالا یعنی (بیوی کا بھائی) قاضی صاحب منیجر کوئٹہ ایئرپورٹ۔
-8 سالا (بیوی کا دوسرا بھائی) حسن منظور ڈی آئی جی موٹر وے۔
-9بیوی کا بھتیجا سالار خان (Buitms) لیکچرار
-10 بیوی کا کزن قاضی جمال (Buitms) رجسٹرار۔

قارئین میں سے اگر کوئی صاحب یا جناب اچکزئی کی پارٹی کے کوئی عہدیدار اس چارٹ میں کسی غلطی کی نشاندہی کر سکیں تو یہ بھی ہم بخوشی شائع کریں گے کیونکہ یہ چارٹ سوشل میڈیا پر موجود ہے اور وہیں سے لیا گیا ہے۔
محمود اچکزئی کے کچھ بیانات بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا جو اخبارات میں چھپ چکا ہے۔
”صرف ”را“ پر الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کی پے رول پر ہیں۔ یہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے۔ ہماری ایجنسیاں گدلے پانی سے سوئی ڈھونڈ سکتی ہیں تو دہشت گردوں کی تلاش میں کیوں ناکام رہیں۔“
واضح رہے کہ پاک فوج کے اداروں نے اس بیان کا سختی سے نوٹس لیا اور گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اس کے بارے میں اپنی تقریر میں یہ کہا ہے کہ بعض لوگ فوج کے تفتیشی اداروں کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
ایک اور بیان ملاحظہ کیجئے۔
”ہماری ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں کم از کم ایک درجن سے زائد ہماری خفیہ ایجنسیاں ہیں کیوں وہ ناکام ہوئیں۔ کوئٹہ جو چند گلیوں کا شہر ہے یہاں پر چند سالوں میں ہزاروں لوگ مارے گئے مگر کوئی پکڑا نہیں گیا۔“
اچکزئی کے کچھ اور فرمودات ملاحظہ ہوں۔
”اس پاکستان کو زندہ باد کہنا گناہ کبیرہ ہے جس میں پشتون غلام ہوں، پشتونخوا، سندھ اور بلوچستان کو آج بھی ایک کالونی کے طور پر چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔“
تعجب ہے کہ آج کا بلوچستان اگر کالونی ہے تو اچکزئی خانوادے کے اتنے زیادہ افراد اسمبلی حکومت انتظامیہ تعلیم اور پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر کس طرح فائز ہیں (ض ش)
اچکزئی صاحب کا ایک اورفرمودہ بھی قابل غور ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔ ”غداری کے القابات سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے لیکن کالے کو کالا اور سفید کو سفید کہوں گا۔ را کشمیر میں کچھ نہ کر سکی یہاں خاک کچھ کرے گی۔ کوئی کسی پر احسان نہیں کر رہا سب اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں کل کی اپنی تقریر کے ایک ایک لفظ کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں۔
متنازع پختون سیاستدان کا ایک اور ارشاد بھی قابل غور ہیں وہ فرماتے ہیں۔
” ایک بات یاد رکھنا ہو گی کہ پشتون پاکستان کے بغیر رہ سکتے ہیں لیکن پاکستان پشتون کے بغیر نہیں رہ سکتا ہیں۔“
8 جولائی 2016ءگلستان جلسہ عام سے خطاب: ”ذوالفقار علی بھٹو جب وزیرخارجہ تھے تو افغانستان میں ظاہر شاہ سے کہا کہ میں آپ کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا اس لئے پاﺅں کو دیکھ رہا ہوں کہ جب پاکستان دو مرتبہ حالتِ جنگ میں تھا تو آپ نے کہا کہ بیشک مضبوط افغانستان انڈیا کا دوست ہے مگر پاکستان انڈیا جنگ میں افغانستان کی طرف سے آپ محفوظ ہیں اور اطمینان رکھیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج کمزور افغانستان کو اچانک دشمن بنا کر توپیں برسائی جا رہی ہیں۔
قارئین آپ نے محمود خان اچکزئی کے بیانات ملاحظہ کئے۔ اب مزید آگے بڑھنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ سارے اقتباسات سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ اگر اچکزئی صاحب کے کوئی نمائندے یا کارکن ان کی تردید یا وضاحت میں کچھ کہنا چاہیں تو ہمارے صفحات حاضر ہیں۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ جب عمران خان اور طاہر القادری اپنے اپنے کنٹینرز پر نوازشریف کی حکومت کے خلاف الفاظ کی گولہ باری کر رہے تھے تو محمود اچکزئی ان کی مذمت کے لئے قومی اسمبلی میں خوب گرجے لیکن ان حکومت مخالف سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے بلاوجہ پاکستانی فوج کو بھی بالواسطہ اور بزعم خود رگڑا لگایا، اس بیان کی تلخی آج بھی اخبارات پڑھنے والے اور ٹی وی چینلز دیکھنے والے محسوس کرتے ہیں۔ ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ محمود خان اچکزئی نے اسفند یار ولی خان سے بھی پہلے نعرہ لگایا کہ آج کا پختونخوا افغانستان کا حصہ ہے جو پاکستانی آئین جس کا حلف انہوں نے متعدد بار اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد اٹھایا کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ پنجاب سرحد (آج کا خیبر پختونخوا) سندھ اور بلوچستان پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر ایک میں پاکستانی علاقہ جات کے نام ہیں۔ آپ پاکستانی شہری ہوتے ہوئے بالخصوص ممبر قومی اسمبلی ہونے کے ناطے ہر گز ہرگز ان چار صوبوں میں سے کسی صوبے کو افغانستان کا حصہ قرار نہیں دے سکتے۔
گزشتہ دنوں انہوں نے قومی اسمبلی میں پھر ایک متنازع تقریر کی اور اپوزیشن نے اس تقریر کی بنیاد پر سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھجوایا کہ ان کی رکنیت منسوخ کی جائے لیکن سپیکر ایاز صادق صاحب نے عمران خان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے محمود اچکزئی کو ”باعزت“ بری کر دیا اور ریفرنس مسترد کر دیا گیا۔


گزشتہ دِنوں سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان یا بادشاہ خاں کے پوتے خان عبدالولی خان کے بیٹے جناب اسفند یار ولی نے اعلان کیا کہ وہ افغانی پیدا ہوئے، افغانی ہیں اور افغانی رہیں گے، اِس سے پہلے بلوچی گاندھی جناب عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے اور قومی اسمبلی کے رکن جناب محمود اچکزئی یہ فرما چکے ہیں کہ ”کے پی“ کے (جس کا سابقہ نام صوبہ سرحد تھا) افغانستان کا حصہ ہے، اُدھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بار بار بھارتی خفیہ ایجنسی” را“ سے حکومت پاکستان کے خلاف مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ہمارے نمائندے نے انٹرویو بھیجا ہے جس میں لندن میں مقیم خان آف قلات نے ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کو بلوچستان کی آزادی کے لئے مدد کرنی چاہئےاُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑی تو اسرائیل سے بھی مدد لیں گے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر چین کی گوادر تک اقتصادی راہداری بن گئی تو چین اور پاکستان کا بھارت کے گرد گھیرا تنگ ہو جائے گا لہٰذا بھارت کو بلوچستان کی مدد کرنی چاہئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کو اتنے برس گزر چکے، پہلے نسل اور زبان کی بنیاد پر مشرقی پاکستان الگ ہوا، اَب موجودہ پاکستان کے کونے کونے سے وطن دشمن اور بھارت کے ایجنٹ اپنے اپنے علاقوں کو آزادی دِلانے کے لئے دو قومی نظریے کے خلاف نسل اور زبان کی بنیاد پر الگ ریاستوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں۔ اِن کا پس منظر کیا ہے اور انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی”را“ کی امداد کیوں حاصل ہے۔ اس موضوع پر ہم یہ قسط وار سلسلہ مضامین شروع کر رہے ہیں۔ آیئے دیکھیں باری باری اِن نام نہاد لیڈروں کے پس منظر سے واقفیت حاصل کریں۔\n\nعبدالغفار خان عرف باچا خان نے کم و بیش ایک صدی قبل سابقہ صوبہ سرحد (موجودہ ”کے پی کے“) میں خدائی خدمت گار تحریک کی بنیاد رکھی، باچا خان، خان عبدالولی خان کے والد اور اسفند یار ولی کے دادا تھے، ان کا تعلق عثمان زئی قبیلے سے تھا اور عام طور پر وہ انگریز کے خلاف جدوجہد آزادی کے حوالے سے مشہور ہیں تاہم یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ غفار خاں برصغیر کی تقسیم کے مخالف، پاکستان کے نظریئے کے دشمن اور کانگرس اور گاندھی سے بہت قریب تھے۔ چنانچہ قیام پاکستان سے قبل ہی اُنہیں ”سرحدی گاندھی“ اور محمود اچکزئی کے والد عبدالصمد اچکزئی کو ”بلوچی گاندھی“ کہا جاتا تھا، عبدالصمد اچکزئی بھی قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ غفار خان پختونستان کے قیام کے حامی تھے، اُن کے بھائی عبدالقدیر خان انگریز کے وظیفہ خوار تھے جو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے، یہ حقیقت بہت دلچسپ ہے کہ غفار خان زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اِس لئے اُنہوں نے مدرسہ بنا لیا۔ یہاں اِس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ خیال کچھ درست نہیں کہ یہ خاندان انگریزوں کا شروع سے دشمن تھا کیونکہ غفار خان کے والد بہرام خان نے انگریزوں کے لئے ”غدر“ جسے ہم ”جنگ آزادی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور جو 1857ءمیں ہوا، انگریزی افواج کے لئے شاندار خدمات انجام دیں۔ جس کے بدلے میں انگریز نے اُنہیں دھڑا دھڑ زمینیں عطا کیں، غفار خان کا خاندان آج تک اُنہی زمینوں پر قابض چلا آ رہا ہے۔غفار خان نے ”اصلاحِ افغان سوسائٹی“ بنائی اور ”پشتون اسمبلی“ کے قیام کے لئے جدوجہد کی اور اس سلسلے میں جیل بھی گئے اُن کے والد بہرام خان کا 1920ءمیں انتقال ہوا، خاندان کے افراد کے مطابق اُنہیں 1857ءکے واقعات یاد تھے کیونکہ اُن دِنوں وہ نوجوان تھے۔1945ءمیں خان غازی قابلی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا ”تحریک خدائی خدمت گار‘’ اُسے نرائن دت سیگل اینڈ سنز نے چھاپا تھا، خان غازی نے اس کتاب کی تیاری کے لئے سرحد کا دورہ بھی کیا اور بہت سے لوگوں سے غفار خان سمیت ملے، وہ کتاب کے صفحہ 14 پر لکھتے ہیں۔\n\n”خان عبدالغفار خان کے والد بہرام خان کو انگریزوں نے سینکڑوں ایکڑ زمین دے کر جاگیر دار بنایا علاقے کے انگریز افسران اُنہیں چچا کہتے تھے بہرام خان اور اُن کے لوگوں نے 1857ءکے غدر کو ناکام بنانے میں انگریزوں کی بہت مدد کی۔“اِس واقعے کی تصدیق ایک اور مصنف ڈاکٹرشیر بہادر خان نے اپنی کتاب ”دیدہ و شنیدہ“ میں بھی کی ہے جسے ”دارالشفا ایبٹ آباد“ نے چھاپا ہے۔ بھارتی اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ یکم جنوری 1986ءکو لکھتا ہے:”خان عبدالغفار خان کے والد بہرام خان اپنے گاﺅں کے مکھیا تھے یعنی نمبردار، 1857ءکی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کو مدد دی اور اس کے بدلے میں بہرام خان نے بھاری جاگیر حاصل کی۔“ان اقتباسات سے ثابت ہوتا ہے کہ ولی خان کا خاندان انگریز کا پروردہ تھا اور غفار خان کے باپ کو انگریز نے جاگیردار بنایا تھا۔ ولی خان کے تایا یعنی غفار خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کی بیوی انگریز تھیں اور اُن کے بچے بھی انگلستان میں پڑھتے تھے، انگریزوں سے اُن کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ڈاکٹر خان صاحب کی بیوی اور بچے کے لئے انگریز حکومت خصوصی وظیفہ دیتی تھی۔ انگریز حکومت کی سرکاری خط و کتابت سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو۔”جب ایک افسر نے اس رقم کے بارے میں سوال کیا تو مسٹر ہیلمٹ نے سیکرٹری سرحد حکومت کو لکھا کہ یہ رقم ڈاکٹر خان صاحب کی بیوی اور بچے کے لئے انگریزوں کی طرف سے دی جا رہی ہے۔“واضح رہے کہ ڈاکٹر خان صاحب کا نام خان عبدالجبار خان تھا گویا یہ بات واضح ہے کہ ولی خان کے دادا بہرام خان نے زمین انگریزوں سے 1857ءکی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کی مخالفت اور انگریز سرکار کی حمایت کے بدلے حاصل کی اور غفار خان صاحب کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب انگریزی حکومت سے خطاب یافتہ بھی تھے اور اُن کی بیوی اور بچوں کو برطانوی ہند کی مرکزی حکومت سے خصوصی وظیفے کے طور پر بھاری رقم ملتی تھی۔غفار خان گاندھی کے فلسفے کے پرچارک تھے، انہوں نے 1929ءمیں گاندھی جی سے ملاقات کی۔ غفار خان کی آپ بیتی میں اس ملاقات کا ذکر موجود ہے۔ کانگرس نے 1931ءمیں غفار خان کو صدارت کی پیش کش بھی کی لیکن غفار خان نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ سرحد میں میرا کام ”خدائی خدمتگار“ تنظیم کو منظم کرنا ہے جو پختونوں کی آزاد ریاست کے لئے کام کر رہی ہے تاہم اُنہیں کانگرس کی ورکنگ کمیٹی کا ممبر ضرور بنایا گیا۔

غفار خان اگرچہ دینی مدرسے کے بانی تھے لیکن خیالات کے اعتبار سے انتہائی آزاد خیال تھے اور مذہب پر اُن کا یقین بھی کچھ زیادہ مضبوط نہ تھا جس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ جب اُن کی بھتیجی کی سکھ نوجوان جسونت سنگھ سے شادی کا مسئلہ کھڑا ہوا جو ڈاکٹر خان صاحب کی انگریز بیوی سے پیدا ہوئی تھی تو غفار خان نے کھل کر اس کی حمایت کی۔ یہ 1942ءکا ذکر ہے ڈاکٹر خان صاحب کی بیٹی کا نام مریم تھا، مفتی مدر اراللہ مدرار جو جمعیت علمائے اسلام صوبہ سرحد کے سابق سیکرٹری تھے جنہوں نے بعد ازاں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اپنی کتاب ”خان عبدالغفار خان، سیاست اور عقائد“ میں اس واقعے کے بارے میں تفصیل سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان صاحب نے مریم کی جسونت سنگھ سے شادی کے بارے میں کہا تھا ”میرا آشیرباد مریم کے ساتھ ہے جس نے اپنی پسند سے شادی کی ہے۔“ اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر ہَے کہ ڈاکٹر خان صاحب کے بیٹے نے ایک غیر مسلم پارسی لڑکی صوفیہ سے بیاہ رچایا۔

سب سے پہلے گاندھی کے سیکرٹری ”ماہا دیوڈیسائی“ نے اپنی کتاب ”خدا کے دو خدمت گار“ میں خان برادران کے بارے میں انکشاف کیے جس کا دیباچہ خود گاندھی جی نے لکھا ”جب غفار خان سے اپنے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کی بیوی کےبارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ شادی کے بعد مسلمان ہو گئی تھیں تو غفار خان نے کہا ”میں نے کبھی اس بارے میں نہیں پوچھا، کیونکہ شادی مذہب کی تبدیلی کا باعث کیوں بنے، خاوند اور بیوی اپنے اپنے مذہب کے کیوں نہ پابند رہیں۔“ایک اور موقع پر ڈیسائی لکھتے ہیں ”غفار خان روزانہ صبح آشرم میں آتے تھے اور گاندھی جی سے تُلسی داس کی رامائن سُنا کرتے تھے وہ صبح شام پرارتھنا (دُعا) میں بھی شامل ہوتے تھے، اُن کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ایک مرتبہ کہا کہ ”پیارے لال جی، اس بھجن کی دُھن میری روح کو مسحور کر دیتی ہے مہربانی کر کے اُردو رسم الخط میں اس کا ترجمہ کر دیں۔“اپنی آب بیتی میں غفار خان نے لکھا ہے ۔جس کا نام ”جدوجہد“ ہے۔”ہندوآشرموں کی سادہ زندگی مجھے بہت پسند آئی اور مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ یہ خیال آیا کہ میں بھی ”خدائی خدمت گاروں“ کی تربیت کے لئے ایسے ہی آشرم بناﺅں۔“ بعدازاں ڈاکٹر خان صاحب نے چارسدہ کے قریب اسی طرح کا ایک آشرم تعمیر بھی کروایا جس میں ہندو مرد اور عورتیں آیا کرتے تھے۔ اس آشرم کی تعمیر کیلئے کانگریس نے غفارخان کو 25 ہزار روپے کا چندہ بھی ارسال کیا۔ ڈاکٹر خان صاحب نے اپنی بیٹی کو انگلستان سے واپس بلا کر واردھا کے کنیا آشرم میں داخل کروادیا جس کے بارے میں ٹنڈولکر نے اپنی مشہور کتاب میں لکھا ہے”ڈاکٹر خان صاحب کا یہ قدم بہت خوب تھا کیونکہ اگر ایک پٹھان لڑکی انگلستان میں تعلیم پاسکتی ہے تو واردھا کے کنیا آشرم میں تعلیم حاصل کرنے میں کیا دقت ہے۔“ڈیسائی کے کتاب کے صفحہ 98 پر لکھا ہے۔”ڈاکٹر خان صاحب نے اپنے بچوںکو نصیحت کی کہ بہادر بننا اور گاندھی اور جمنا لال جی کے سائے میں سادگی اور تہذیب سیکھنا۔“ڈیسائی کی ہی کتاب سے خان عبدالغفار خان کی گفتگو ملاحظہ ہو۔”مہاتما گاندھی کی زندگی میں جب کوئی مشکل موقع آتا ہے تو میرا دل کہتا ہے کہ اس شخص کا فیصلہ درست ہوگا جس نے اپنے آپ کو خداتعالیٰ کے سپرد کردیا ہے اور خدا کسی کو غلط راستہ نہیں بتلاتا۔“گاندھی جی کی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے حوالے سے بات چھڑی تو غفار خان نے کہا”گاندھی اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے ہیں اور پھر اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں‘ سچ تو یہ ہے کہ اس مسلح اعظم کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔“علماءہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں اور فقیہان ہی یہ رائے دے سکتے ہیں کہ خان عبدالغفار خان کے ان نظریات کے بعد وہ کس حد تک مسلمان تھے۔اس موقع پر ڈیسائی کی کتاب ”خدا کے دو خدمتگار“ کے صفحہ 29 پر درج یہ جملہ ملاحظہ کریں‘ غفار خان کہتے ہیں ”مجھے 1930 ءمیں انڈمان کے پنڈت جگت رام نے باقاعدہ گیتا پڑھائی اور اس کا صحیح مفہوم سمجھایا‘ اب تک میں نے تین بار گیتا پڑھی ہے‘قرآن شریف میں صاف صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر قوم میں ہادی بھیجے ہیں اور وہ سب اہل کتاب ہیں۔“اس مسئلے پر ٹنڈولکر کی کتاب ”خان عبدالغفار “ میں صفحہ 73 پر لکھا ہے۔ترجمہ ملاحظہ کیجئے۔”مقدس کتاب (قرآن پاک) کہتا ہے کہ اللہ نے تمام قوموں میں لوگوں کےلئے پیغمبر اور ہدایات دینے والے بھیجے اور وہ سب پیغمبر نبی ہیں۔ سارے اہل کتاب ہیں۔ لہٰذا ہندو کسی بھی طرح عیسائیوں‘ یہودیوں سے کم اہل کتاب نہیں۔ جب غفارخان سے پوچھا گیا کہ اکثر مسلمان تو ایسا نہیں سمجھتے تو انہوں نے جواب دیا۔”وہ نہیں سمجھتے کہ ہندو اور ان کی کتاب ”قرآن مقدس“ میں اس لئے نہیں ہیں کہ قرآن مقدس میں فہرست مکمل نہیں ہے اور اس کی حیثیت محض مثال کے لئے ہے۔ مقدس قرآن میں صرف اصولوں کی صراحت کی گئی ہے وہ سب لوگ جو مقدس کتابوں سے متاثر ہوئے وہ اہل کتاب ہیں۔“ماہا دیو ڈیسائی اور ٹنڈولکر دونوں نے اپنی کتابوں میں ایک ہی واقعہ نقل کیا ہے‘ الفاظ ملاحظہ ہوں۔”غفار خان نے جیل میں گوشت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور جب تک جیل میں رہے کبھی گوشت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد بھی یہ طریقہ جاری رکھا۔ اپنی آپ بیتی میں ان کا بیان ملاحظہ ہو‘ صفحہ 634 پر لکھتے ہیں۔”ایک جلسے میں کسی کی شرارت پر بعض لوگوں نے شور مچایا اور میری تقریر کے دوران سوال کیا کہ ”گائے کو ذبح کرتے ہو؟“ میں نے کہا ”میں قصائی نہیں ہوں اور مسلمانی گائے کے ذبح کرنے پر منحصر نہیں ہے۔“اپنے رسالے ”پشتون“ میں غفار خان نے ایک ڈرامہ شائع کیا جس میں ایک حکیم اور دانش مند کے مابین مکالمہ کچھ یوں ہے۔دانش مند….”نہ کوئی نیکی‘ نہ برائی ‘ کم عقل لوگوں نے بعض چیزیں اچھی قرار دی ہیں‘ دوزخ‘ جنت‘ خیروشر‘ جزا اور سزا‘ انصاف اور ظلم تمہارے اندر ہے‘ تو اپنے آپ کو پہچانو‘ کیونکہ جو اپنے آپ کو نہیں پہچان سکتے ان کے لئے بیوقوفوں نے اپنے لئے خدا بنا رکھا ہے۔حکیم….”توبہ کرو اور استغفار پڑھو‘ ہوسکتا ہے کہ خدا تم پر رحم کردے اور تمہیں ایمان نصیب ہوجائے۔“دانش مند……..”کس سے رجوع کروں اور کس سے توبہ کروں‘ کون رحم کرے گا‘ تم عقل کے ہوتے ہوئے بھی بیوقوف ہو جو ایسی باتیں کرتے ہو۔“مفتی مدرار اللہ مدرار کے بقول 1969ءمیں غفار خان کانگریس سے ایوارڈ وصول کرنے بھارت گئے اور ان کی تصویریں اخبارات میں شائع ہوئیں۔ ان تصاویر میں غفار خان کے ماتھے پر مسز اندرا گاندھی نے ”قشقاہ“ یعنی تلک لگایا اور غفار خان نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا‘ اپنی کتاب ”دو خدائی خدمت گار“ میں ڈیسائی نے صفحہ 29 پر لکھا ہے۔”غفار خان کے قدر دان محبت سے اور مخالف نظر سے انہیں سرحدی گاندھی کہتے ہیں

پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش شروع(قسط اول)-ضیاء شاہد

Advertisements